گرمی کی لہر بھاری جانی نقصان کا اندیشہ
یہ کیسا ظلم ہے کہ آسمانی اور زمینی آفتوں کا شکار غریب طبقات ہی ہوتے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال گزشتہ سال سے بہت زیادہ گرمی پڑنے والی ہے، گزشتہ سال کی نسبتاً کم گرمی سے مبینہ طور پر 15 سو سے زیادہ افراد کراچی میں جان سے گئے تھے، اگر اس سال گزشتہ سال سے زیادہ گرمی پڑتی ہے تو ہلاکتوں کی تعداد کیا ہوسکتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں کرہ ارض پر جو موسمی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہم دنیا کے مختلف ملکوں میں کر رہے ہیں امریکا سمیت کئی مغربی ملکوں میں بھی بارشوں طوفانوں اور سیلاب سے بہت بڑے پیمانے پر جان ومال کا نقصان ہورہا ہے۔
یہ کیسا ظلم ہے کہ آسمانی اور زمینی آفتوں کا شکار غریب طبقات ہی ہوتے ہیں شدید گرمی ہو شدید سردی ہو یا شدید بارش اس کا شکار وہ غریب طبقے، جو دن رات محنت کرکے قومی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایئرکنڈیشن کاروں میں سفر کرنے والے ایئرکنڈیشن محلوں میں رہنے والی ایلیٹ ان آفتوں سے ہمیشہ محفوظ رہتی ہے۔ جو طبقات بسوں ویگنوں میں جانوروں کی طرح سفر کرتے ہیں وہ دم گھٹ کر ہی مرجاتے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان موٹرسائیکلوں پر سفرکرنے والوں کا ہوتا ہے لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لاکھوں عوام موٹرسائیکلوں ہی سے سفرکرتے ہیں جن کے لیے گرمی سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا، ہیلمٹ کے استعمال سے گرمی سے سر کو بچایا جاسکتا ہے لیکن پورے جسم کو گرمی کی حدت سے بچانا ممکن نہیں۔ اگر ہمارے ملک کے حکمران طبقے میں انسانی اوصاف ہوتے تو وہ اس قسم کی ناگہانی صورت حال سے بچاؤ کے لیے خصوصی انتظامات کرتا۔ لیکن جو کچھ کیا جاتا ہے وہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کی جاتی ہیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جاتی ہے اور ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہونے والوں کے لیے طبی امداد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
کراچی جیسے دوکروڑ کی آبادی کے شہر میں صرف تین بڑے اسپتال ہیں۔ بڑے بڑے نام نہاد پروجیکٹوں کے نام پر 69 سالوں سے اربوں کی لوٹ مار کرنے والے حکمران طبقات اگر چاہتے تو ہر ٹاؤن میں جناح یا سول اسپتال جیسے بڑے اسپتال قائم کرسکتے تھے لیکن ہمارے بے حس حکمرانوں کو اس طرف توجہ دینے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ جس قسم کی شدید گرمی کے خطرات ظاہرکیے جا رہے ہیں، اس سے عوام کو بچانے کے لیے محض بیان بازی اور سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی لگانے سے گرمی کو روکا جاسکتا ہے نہ گرمی سے عوام کو بچایا جاسکتا ہے۔جہاں ضروری طبی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے پانی کا انتظام ہو یہ کام حکومت کے علاوہ سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں بھی کرسکتی ہیں ۔
عموماً محرم کے دوران اس قسم کے انتظامات کیے جاتے ہیں چونکہ گرمی کا دورانیہ مہینوں پر مشتمل ہوگا۔ اس لیے اس قسم کے انتظامات کے لیے ایک معقول بجٹ کی ضرورت ہوگی جو صوبائی حکومت ہی فراہم کرسکتی ہے کیونکہ ہمارا شمار مردوں کے کفن بیچنے والوں میں ہوتا ہے، لہٰذا دھوپ سے بچاؤکے لیے ممکنہ طور پر مختص کیے گئے فنڈزکے درست استعمال کا اہتمام بھی ضروری ہے، ہمارے سرکاری اسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے اس کا اندازہ ایک خبر سے لگایا جاسکتا ہے۔ تفصیلی خبر کی اس مختصر کالم میں گنجائش نہیں نکل سکتی لہٰذا ہم اس کی سرخیاں ہی یہاں پیش کر رہے ہیں۔
''لیاری جنرل اسپتال میں دوائیں ناپید، شعبہ اطفال کوکینٹین میں بدل دیا گیا، زیر علاج مریض باہر سے دوائیں خریدنے لگے، مریضوں کو کھانے کی فراہمی بند، انتظامی افسران ڈاکٹر اور عملہ غائب، لیبارٹری اور ایکسرے یونٹس میں سامان ختم،کارڈیالوجی اور ڈائیلائسس یونٹس غیر فعال، مریض ایکسرے اور ٹیسٹ باہر سے کرانے پر مجبو،اوپی ڈیز میں اسپیشلسٹ ڈاکٹر غائب رہتے ہیں۔''ہمارے کارخانوں اور ملوں میں کام کرنے والوں کی تعداد 4 کروڑ بتائی جاتی ہے، یہ وہ مزدور ہوتے ہیں جنھیں مشینوں پر کام کرنا ہوتا ہے۔
مشینوں کے حبس زدہ ماحول، سخت اور ناقابل برداشت گرمی میں کام کرنا اور وہ بھی مسلسل 12-10 گھنٹے کام کرنا کس قدر اذیت ناک ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ مالکان مزدوروں کی دن رات کی محنت سے اربوں روپے کماتے ہیں۔ کیا یہ مالکان کی ذمے داری نہیں کہ وہ آنے والی قیامت خیزگرمیوں سے مزدوروں کو بچانے کے لیے ہر کھاتے میں ایک اے سی لگائیں۔ بے شک مزدوروں کی اوقات نہیں کہ وہ اے سی میں کام کریں لیکن جس قیامت خیز گرمی کا خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے اس سے بچاؤ کے لیے ملز کے ہر کھاتے میں اے سی نہ لگایا جائے تو بہت بڑے جانی نقصان کا خطرہ موجود رہے گا۔
اس حوالے سے کسانوں اور ہاریوں کی زندگی اور ان کے کھیتوں پر کام پر نظر ڈالی جائے تو جسم میں خون کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ کسانوں کے لیے کسی اے سی کا اہتمام تو ممکن نہیں لیکن شدید گرمی کے پیش نظر ان کے اوقات کار ایسے رکھے جاسکتے ہیں کہ وہ شدید دھوپ سے بچ سکیں، رہا طبی سہولتوں کا مسئلہ تو دیہی علاقوں میں سانپ کے کاٹے کا علاج ممکن نہیں آگے کیا کہا جاسکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال گزشتہ سال سے بہت زیادہ گرمی پڑنے والی ہے، گزشتہ سال کی نسبتاً کم گرمی سے مبینہ طور پر 15 سو سے زیادہ افراد کراچی میں جان سے گئے تھے، اگر اس سال گزشتہ سال سے زیادہ گرمی پڑتی ہے تو ہلاکتوں کی تعداد کیا ہوسکتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں کرہ ارض پر جو موسمی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہم دنیا کے مختلف ملکوں میں کر رہے ہیں امریکا سمیت کئی مغربی ملکوں میں بھی بارشوں طوفانوں اور سیلاب سے بہت بڑے پیمانے پر جان ومال کا نقصان ہورہا ہے۔
یہ کیسا ظلم ہے کہ آسمانی اور زمینی آفتوں کا شکار غریب طبقات ہی ہوتے ہیں شدید گرمی ہو شدید سردی ہو یا شدید بارش اس کا شکار وہ غریب طبقے، جو دن رات محنت کرکے قومی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایئرکنڈیشن کاروں میں سفر کرنے والے ایئرکنڈیشن محلوں میں رہنے والی ایلیٹ ان آفتوں سے ہمیشہ محفوظ رہتی ہے۔ جو طبقات بسوں ویگنوں میں جانوروں کی طرح سفر کرتے ہیں وہ دم گھٹ کر ہی مرجاتے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان موٹرسائیکلوں پر سفرکرنے والوں کا ہوتا ہے لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لاکھوں عوام موٹرسائیکلوں ہی سے سفرکرتے ہیں جن کے لیے گرمی سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا، ہیلمٹ کے استعمال سے گرمی سے سر کو بچایا جاسکتا ہے لیکن پورے جسم کو گرمی کی حدت سے بچانا ممکن نہیں۔ اگر ہمارے ملک کے حکمران طبقے میں انسانی اوصاف ہوتے تو وہ اس قسم کی ناگہانی صورت حال سے بچاؤ کے لیے خصوصی انتظامات کرتا۔ لیکن جو کچھ کیا جاتا ہے وہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کی جاتی ہیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جاتی ہے اور ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہونے والوں کے لیے طبی امداد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
کراچی جیسے دوکروڑ کی آبادی کے شہر میں صرف تین بڑے اسپتال ہیں۔ بڑے بڑے نام نہاد پروجیکٹوں کے نام پر 69 سالوں سے اربوں کی لوٹ مار کرنے والے حکمران طبقات اگر چاہتے تو ہر ٹاؤن میں جناح یا سول اسپتال جیسے بڑے اسپتال قائم کرسکتے تھے لیکن ہمارے بے حس حکمرانوں کو اس طرف توجہ دینے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ جس قسم کی شدید گرمی کے خطرات ظاہرکیے جا رہے ہیں، اس سے عوام کو بچانے کے لیے محض بیان بازی اور سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی لگانے سے گرمی کو روکا جاسکتا ہے نہ گرمی سے عوام کو بچایا جاسکتا ہے۔جہاں ضروری طبی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے پانی کا انتظام ہو یہ کام حکومت کے علاوہ سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں بھی کرسکتی ہیں ۔
عموماً محرم کے دوران اس قسم کے انتظامات کیے جاتے ہیں چونکہ گرمی کا دورانیہ مہینوں پر مشتمل ہوگا۔ اس لیے اس قسم کے انتظامات کے لیے ایک معقول بجٹ کی ضرورت ہوگی جو صوبائی حکومت ہی فراہم کرسکتی ہے کیونکہ ہمارا شمار مردوں کے کفن بیچنے والوں میں ہوتا ہے، لہٰذا دھوپ سے بچاؤکے لیے ممکنہ طور پر مختص کیے گئے فنڈزکے درست استعمال کا اہتمام بھی ضروری ہے، ہمارے سرکاری اسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے اس کا اندازہ ایک خبر سے لگایا جاسکتا ہے۔ تفصیلی خبر کی اس مختصر کالم میں گنجائش نہیں نکل سکتی لہٰذا ہم اس کی سرخیاں ہی یہاں پیش کر رہے ہیں۔
''لیاری جنرل اسپتال میں دوائیں ناپید، شعبہ اطفال کوکینٹین میں بدل دیا گیا، زیر علاج مریض باہر سے دوائیں خریدنے لگے، مریضوں کو کھانے کی فراہمی بند، انتظامی افسران ڈاکٹر اور عملہ غائب، لیبارٹری اور ایکسرے یونٹس میں سامان ختم،کارڈیالوجی اور ڈائیلائسس یونٹس غیر فعال، مریض ایکسرے اور ٹیسٹ باہر سے کرانے پر مجبو،اوپی ڈیز میں اسپیشلسٹ ڈاکٹر غائب رہتے ہیں۔''ہمارے کارخانوں اور ملوں میں کام کرنے والوں کی تعداد 4 کروڑ بتائی جاتی ہے، یہ وہ مزدور ہوتے ہیں جنھیں مشینوں پر کام کرنا ہوتا ہے۔
مشینوں کے حبس زدہ ماحول، سخت اور ناقابل برداشت گرمی میں کام کرنا اور وہ بھی مسلسل 12-10 گھنٹے کام کرنا کس قدر اذیت ناک ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ مالکان مزدوروں کی دن رات کی محنت سے اربوں روپے کماتے ہیں۔ کیا یہ مالکان کی ذمے داری نہیں کہ وہ آنے والی قیامت خیزگرمیوں سے مزدوروں کو بچانے کے لیے ہر کھاتے میں ایک اے سی لگائیں۔ بے شک مزدوروں کی اوقات نہیں کہ وہ اے سی میں کام کریں لیکن جس قیامت خیز گرمی کا خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے اس سے بچاؤ کے لیے ملز کے ہر کھاتے میں اے سی نہ لگایا جائے تو بہت بڑے جانی نقصان کا خطرہ موجود رہے گا۔
اس حوالے سے کسانوں اور ہاریوں کی زندگی اور ان کے کھیتوں پر کام پر نظر ڈالی جائے تو جسم میں خون کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ کسانوں کے لیے کسی اے سی کا اہتمام تو ممکن نہیں لیکن شدید گرمی کے پیش نظر ان کے اوقات کار ایسے رکھے جاسکتے ہیں کہ وہ شدید دھوپ سے بچ سکیں، رہا طبی سہولتوں کا مسئلہ تو دیہی علاقوں میں سانپ کے کاٹے کا علاج ممکن نہیں آگے کیا کہا جاسکتا ہے۔