سرفراز سے دھوکا تو نہیں ہوگا

حکومت اپنے مسئلوں میں الجھی ہوئی ہے وہ اپنی کرسی بچائے یا کرکٹ بورڈ کی فکر کرے؟

پاکستان کرکٹ کی بربادی پر آنسو بہا کر مستعفی ہونے والے کوچ کو بھارتی چینل کے اسٹوڈیو میں آئی پی ایل میچ ختم ہونے کے بعد حسیناؤں کا ڈانس دیکھتے پایا تو چہرے کی رونق سے خوشی ہوئی کہ وہ شکست کا غم بھول گئے ہیں، فوٹو: فائل

چند برس قبل ایک فلم دیکھی جس کا ایک سین اب تک یاد ہے، اس میں ایک شہر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے جس پر عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں، توڑ پھوڑ بھی ہوتی ہے، پولیس کمشنر جب اعلیٰ حکومتی شخصیت کو مطلع کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ '' توڑ پھوڑ ہوتی ہے تو ہونے دو، یہ بے وقوف عوام شور مچانے کے بعد تھک ہار کر گھر چلے جائیں گے، پھر ہم دکھاوے کے کچھ اقدامات کر دیں گے، یوں ہمارا ووٹ بینک بھی خراب نہ ہو گا اور حکومت بھی چلتی رہے گی''۔

بدقسمتی سے ہماری کرکٹ میں بھی اب اس سے ملتے جلتے ہی حالات ہیں،ٹیم مسلسل ہار رہی ہے،رینکنگ میں زوال کی گہرائیوں پر پہنچ چکی،اندرون خانہ لڑائیوں کی خبریں عروج پر ہیں، ایسے میں شائقین بھی بہت غصے میں ہیں،وہ بیچارے سوشل میڈیا اور آپس کی محفلوں میں اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں، بورڈ کے پے رول میں شامل ہونے سے محروم سابق ٹیسٹ کرکٹرز بھی تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں، میڈیا بھی خامیوں کی نشاندہی میں پیچھے نہیں مگر کیا کوئی عملی اقدام ہوا؟ یقیناً نہیں، آپ اگر وقار یونس کے استعفیٰ، شاہد آفریدی کی جانب سے قیادت چھوڑنے یا سلیکشن کمیٹی کی برطرفی کو کافی سمجھتے ہیں تو یہ خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

اصل بات بورڈ میں تبدیلی کی ہے جس کا فی الحال امکان نظر نہیں آتا، حکومت اپنے مسئلوں میں الجھی ہوئی ہے وہ اپنی کرسی بچائے یا کرکٹ بورڈ کی فکر کرے؟ آپ دیکھیں شہریارصاحب اب دل پر پتھر رکھ کر کتنا کم میڈیا میں آ رہے ہیں، شاید آپ کو یاد ہو کہ اسی بورڈ کی طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی بھی ہیں، وہ بھی کرکٹ محاذ پر نظر نہیں آ رہے، دراصل تمام بڑے بورڈ آفیشلز کو طوفان تھمنے کا انتظار ہے ، وہ جانتے ہیں کہ شائقین بھی سب بھول جائیں گے۔

میڈیا کو پہلے وقار یونس کی لیک رپورٹ اب کسی اور اسٹوری کے پیچھے لگا دیا جائے گا، جیسے آپ مجھے بتائیں کہ 5ماہ بعد ہونے والے ایک میچ کیلیے سرفراز احمد کو ابھی سے کپتان بنانے کی کیا منطق ہے، بھولے شائقین یہ آپ لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلیے ہوا کہ دیکھو ہم نے کتنا اچھا قدم اٹھایا، میڈیا بھی اب شکستوں کو بھول گیا، سرفراز کے اتنے انٹرویوز آ گئے ہیں جتنے شاید اظہر علی نے ایک سال میں بھی نہیں دیے ہوں، ہر چینل پر وہ نظر آتے ہیں، وہ ابھی سے 7ستمبر کو ہونے والے میچ کے بیٹنگ آرڈر سمیت سب کچھ صحافیوں کو بتا چکے۔


حقیقت یہ ہے کہ بورڈ نے بطور مہرہ سرفراز کو استعمال کیا، اس کا مقصد میڈیا کے ایک خاص حصے کو خاموش کرانا تھا کہ دیکھیں آپ کا کپتان لے آئے اب چپ کر کے بیٹھ جائیں، دانستہ انھیں حد سے زیادہ میڈیا میں بھی لایا جا رہا ہے، میری بورڈ سے درخواست ہے کہ انھیں اب لاہور اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی میڈیا کے سامنے اسی طرح پیش کریں، وہ ایک شہر نہیں بلکہ ملک کے کپتان بنے ہیں، آپ خود کیوں ان پر مخصوص مہر لگوا رہے ہیں، اگر حکام کی نیت واقعی صاف ہوتی تو سرفراز کو ون ڈے کا بھی کپتان بنا دیتے کیونکہ اظہر علی تو ناکام ثابت ہوئے ہیں اور بظاہر وہ اس ذمہ داری سے زیادہ لطف اندوز ہوتے بھی دکھائی نہیں دے رہے۔

انگلینڈ سے ون ڈے میچز کے بعد ہی واحد ٹی ٹوئنٹی ہو گا، صاف ظاہر ہے کہ عجلت میں کیے گئے فیصلے کی کیا وجہ ہے، کہیں سرفراز کے ساتھ ہی تو کوئی دھوکا نہیں ہو رہا، یقیناً وہ بہت باصلاحیت کرکٹر ہیں، انھیں آگے ملک کیلیے مزید بہت خدمات انجام دینی ہیں لیکن بات کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے، اس وقت ان کے اردگرد موجود بعض چمچے ٹائپ کے لوگ انھیں متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،ان سے محتاط رہتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،ان میں تینوں طرز کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہے مگر اس کیلیے شخصیت کی گرومنگ بھی بیحد اہم ہوگی۔

انگلینڈ سے سیریز میں ابھی وقت باقی ہے مگر مصباح الحق کو اپنی دستیابی سے متعلق بے یقینی کا خاتمہ کر دینا چاہیے، یہ پی سی بی ہی ہے جو پیسے کا بے پناہ ضیاع کرتا ہے، نومبر میں پاکستان نے اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا اب اگلا میچ جولائی میں ہوگا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران گھر بیٹھے مصباح کو ماہانہ تنخواہ سمیت تمام مراعات حاصل رہیں، اگر وہ ریٹائر نہ ہوئے تو چلیں ٹھیک ہے 50،60 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن اب اگر وہ کہہ دیں کہ میں دورئہ انگلینڈ کیلیے دستیاب نہیں ہوں تو پھر عجیب سی بات ہو جائے گی کہ کس وجہ سے اتنے ماہ انتظار کیا،گذشتہ عرصے مصباح ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران انجرڈ ہوئے پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میچز پر تبصرے کیلیے چلے گئے، ان کی فٹنس کا کوئی اندازہ نہیں ہے، ویسے بھی 41 سال کی عمر میں ان کا جسم کرکٹ کھیلنے کیلیے کتنا ساتھ دیتا ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا۔

مصباح کو اب بورڈ کو آگاہ کر دینا چاہیے کہ مستقبل کے حوالے سے انھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے تاکہ سرفراز یا اظہر جسے بھی ٹیسٹ کپتان بنانا ہو ابھی سے بنا دیا جائے، حکام کو بھی کوئی فکر نہیں، ٹیسٹ میچز تو جولائی میں ہونا ہیں ان میں کون قیادت کرے گا کچھ پتا نہیں مگر ستمبر میں شیڈول ایک ٹی ٹوئنٹی کیلیے کپتان کا ابھی سے اعلان کر دیا گیا، مصباح کے حوالے سے بے یقینی مزید جتنی دیر برقرار رہی ٹیم کیلیے نقصان دہ ہو گا، شہریارخان کو فوری طور پران سے ملاقات کر کے مستقبل کا پلان پوچھنا چاہیے۔

اب کچھ وقار یونس کی بھی بات ہو جائے، پاکستان کرکٹ کی بربادی پر آنسو بہا کر مستعفی ہونے والے کوچ کو بھارتی چینل کے اسٹوڈیو میں آئی پی ایل میچ ختم ہونے کے بعد حسیناؤں کا ڈانس دیکھتے پایا تو چہرے کی رونق سے خوشی ہوئی کہ وہ شکست کا غم بھول گئے ہیں، ساتھ موجود سدھو تو اس وقت خود بھی تھرک رہے تھے، وقار یونس نے پاکستان سے کئی کروڑ روپے کما لیے، اب وہ بھارت میں آئی پی ایل میچز پر تبصرے سے بینک بیلنس بڑھا رہے ہیں، ملکی کرکٹ کی اتنی فکر تھی تو یہاں ہی رہ کر بہتری کیلیے منصوبے بناتے اور عمل درآمد کیلیے اقدامات پر زور بھی دیتے، مگر جیسے ہی موقع ملا باہر چلے گئے، یہی ہمارے ملک کا المیہ ہے ''ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور''
Load Next Story