کیمو تھراپی کے متبادل پھل ’’ساور سوپ‘‘ کی درآمد معطل
پھل سری لنکا سے منگوایا جاتا ہے، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے اعتراض پرپابندی لگی
کینسر کے مرض کے علاج میں کیموتھراپی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جانیوالا پھل ’’ساور سوپ‘‘۔ فوٹو: ایکسپریس
پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے اعتراض کے بعدغیرتجارتی پیمانے پرسری لنکا سے ''ساور سوپ'' نامی پھل کی درآمدمعطل ہوگئی ہے ۔
یہ پھل کینسر کے مرض کے علاج میں کیموتھراپی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کیموتھراپی سے ہونے والے سائڈ افیکٹس کو بھی اس پھل کے استعمال سے کم کیا جاسکتا ہے، شریفہ کی شکل سے ملتے جلتے پھل کا جوس کینسر کے مرض کے علاج میں کثرت سے استعمال ہونے کی وجہ سے پاکستان میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے، حال ہی میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت ہونے والی ایکسپو پاکستان نمائش میں سری لنک ایکسپورٹ بورڈ کے نمائندوں نے نمائش میں شریک افراد کو اس پھل کے بارے میں خصوصیات سے آگاہ کیا اور ساور سوپ کو کینسر کے خلیوں کے خاتمے کا بہترین ذریعہ قرار دیا ۔
انھوں نے بتایا کہ اس پھل کے استعمال سے کینسرزدہ سیل کا خاتمہ ہوتا ہے جبکہ کیموتھراپی میں کینسرزدہ خلیوں کے ساتھ انسانی جسم کے صحت مند خلیے بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے سر کے بال، چہرے کی بھنویں جھڑ جاتی ہیں اسی طرح منہ میں چھالے ہوجاتے ہیں ساور سوپ نامی پھل کے جوس کے استعمال سے کینسرکے مرض میں بہتر نتائج مل رہے ہیں اور اس پھل پر دنیا کے تمام بڑے تحقیقی اداروں میں بھی ریسرچ کی جارہی ہے۔
ادھر پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے اعتراض کے بعد سری لنکا سے اس پھل کی غیرتجارتی بنیادوںپر کی جانے والی محدود درآمد بھی رک گئی ہے زیادہ تر سری لنکا سے آنے والے پاکستانی یا سری لنکن تاجر فلاحی مقاصد کے لیے پاکستان لارہے تھے جو زیادہ تر بغیر قیمت مریضوں کو فراہم کیا جارہا تھا، پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے پھل کی درآمد پر اعتراض عائد کرتے ہوئے سری لنکا کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن سے پھل کے بارے میں پیسٹ رپورٹ طلب کرلی ہے، ذرائع نے بتایا کہ سری لنکا کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ ہونے کی وجہ سے یہ پھل پاکستان میں ڈیوٹی کے بغیر درآمدکیا جاسکتا ہے اورکینسر کے مریض اس بے ضرر طریقہ علاج سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں کینسر کیدوائیں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اس پھل کی ترویج پر اعتراض کیا جارہا ہے اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس پھل کی درآمد میں حائل کی جانے والی رکاوٹوں سے مہنگی دوا کے محفوظ اور سستے متبادل کا حصول بھی ناممکن ہوگیاہے، یہ پھل دنیا بھرمیں ٹراپیکل ممالک میں پایا جاتا ہے اس پھل کی فارمنگ بھی ممکن نہیں سری لنکا میں بھی یہ پھل جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
یہ پھل کینسر کے مرض کے علاج میں کیموتھراپی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کیموتھراپی سے ہونے والے سائڈ افیکٹس کو بھی اس پھل کے استعمال سے کم کیا جاسکتا ہے، شریفہ کی شکل سے ملتے جلتے پھل کا جوس کینسر کے مرض کے علاج میں کثرت سے استعمال ہونے کی وجہ سے پاکستان میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے، حال ہی میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت ہونے والی ایکسپو پاکستان نمائش میں سری لنک ایکسپورٹ بورڈ کے نمائندوں نے نمائش میں شریک افراد کو اس پھل کے بارے میں خصوصیات سے آگاہ کیا اور ساور سوپ کو کینسر کے خلیوں کے خاتمے کا بہترین ذریعہ قرار دیا ۔
انھوں نے بتایا کہ اس پھل کے استعمال سے کینسرزدہ سیل کا خاتمہ ہوتا ہے جبکہ کیموتھراپی میں کینسرزدہ خلیوں کے ساتھ انسانی جسم کے صحت مند خلیے بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے سر کے بال، چہرے کی بھنویں جھڑ جاتی ہیں اسی طرح منہ میں چھالے ہوجاتے ہیں ساور سوپ نامی پھل کے جوس کے استعمال سے کینسرکے مرض میں بہتر نتائج مل رہے ہیں اور اس پھل پر دنیا کے تمام بڑے تحقیقی اداروں میں بھی ریسرچ کی جارہی ہے۔
ادھر پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے اعتراض کے بعد سری لنکا سے اس پھل کی غیرتجارتی بنیادوںپر کی جانے والی محدود درآمد بھی رک گئی ہے زیادہ تر سری لنکا سے آنے والے پاکستانی یا سری لنکن تاجر فلاحی مقاصد کے لیے پاکستان لارہے تھے جو زیادہ تر بغیر قیمت مریضوں کو فراہم کیا جارہا تھا، پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے پھل کی درآمد پر اعتراض عائد کرتے ہوئے سری لنکا کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن سے پھل کے بارے میں پیسٹ رپورٹ طلب کرلی ہے، ذرائع نے بتایا کہ سری لنکا کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ ہونے کی وجہ سے یہ پھل پاکستان میں ڈیوٹی کے بغیر درآمدکیا جاسکتا ہے اورکینسر کے مریض اس بے ضرر طریقہ علاج سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں کینسر کیدوائیں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اس پھل کی ترویج پر اعتراض کیا جارہا ہے اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس پھل کی درآمد میں حائل کی جانے والی رکاوٹوں سے مہنگی دوا کے محفوظ اور سستے متبادل کا حصول بھی ناممکن ہوگیاہے، یہ پھل دنیا بھرمیں ٹراپیکل ممالک میں پایا جاتا ہے اس پھل کی فارمنگ بھی ممکن نہیں سری لنکا میں بھی یہ پھل جنگلات میں پایا جاتا ہے۔