سہ فریقی اجلاس میں متعدد ایشوز پر اتفاق رائے

پاکستان، افغانستان اور برطانیہ نے دہشتگردی کو علاقائی اور...

افغانستان میں امن و استحکام کا مطلب پاکستان میں امن و استحکام ہے، راجہ پرویز اشرف، فوٹو اے ایف پی

پاکستان، افغانستان اور برطانیہ نے دہشتگردی کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ قرار دیتے ہوئے خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے جمعرات کو کابل میں افغان صدارتی محل میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، صدر حامد کرزئی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان پہلے سہ فریقی اجلاس میں ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تینوں رہنمائوں نے زور دیا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے،

صدر کرزئی نے افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی فوری ضرورت پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ طالبان، حزب اسلامی اور دیگر مسلح گروپوں کو ملا کر ایک باوقار عمل کے ذریعے دیرپا امن حاصل کیا جائے گا۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایسے عمل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا جس کی قیادت افغانوں کے اپنے ہاتھ میں ہو، جس کے لیے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک معاونت کریں اور برطانیہ اور دیگر عالمی برادری اس کی حمایت کرے۔ سہ فریقی مذاکراتی عمل میں متعدد امور پر تینوں ملکوں کا اتفاق رائے خوش آیند ہونے کے علاوہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان برطانیہ اور افغانستان دہشت گردی سے اس خطے اور عالمی برادری کو لاحق خطرات اور ان کے سدباب کے حوالے سے ایک ہی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

یہ اتفاق رائے اشارہ بھی ہے کہ اگر امریکا اور نیٹو کے ساتھ ساتھ یہ تینوں ملک ان حالیہ مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کو عملی شکل دینے کی سعی کریں تو پاکستان و افغانستان میں انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کا کافی حد تک سدباب کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مسئلہ خلوص نیت کا ہے' ایسے مذاکرات اس سے پہلے کئی بار کیے جا چکے ہیں اور ان کے اختتام پر ایسے ہی اعلامیے بھی جاری ہوتے رہے جن پر پاکستان نے تو مقدور بھر عمل کیا لیکن دیگر فریقوں کی جانب سے اس سلسلے میں وہ سرگرمی نہیں دکھائی گئی جس کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تھا یا تیزی سے تغیر پذیر حالات جس کے متقاضی تھے چنانچہ اس امر کی ضرورت بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے کہ افغانستان کی حکومت اور امریکا و برطانیہ بھی اس حوالے سے اسی سرگرمی کا مظاہرہ کریں جس سرگرمی سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے'


تبھی اس مہم کے ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔ دوسری جانب ہماری قیادت کو پڑوس میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے' اگرچہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے افغانستان کے بارڈر سے پاکستانی علاقوں پر حملے روکنے کے سلسلے میں افغانستان کے صدر سے بات کی ہے تاہم ضروری ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے جو چشم کُشا باتیں کہی ہیں ان کے تشویشناک ہونے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں۔ انھوں نے ایک طرح سے چتائونی دی ہے کہ پاکستان کی سلامتی و بقاء پر خطرات منڈلا رہے ہیں، پاکستان کا وجود، اس کی سالمیت اور خودمختاری داؤ پر لگی ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے اس نازک وقت میں بھی ہمارے سیاستدان، پاکستان کی بقاء کی فکر کرنے کے بجائے اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں انتہائی فکرانگیز لیکچر دیتے ہوئے کیا۔

اپنے لیکچر میں الطاف حسین نے یہ تاریخی سچائیاں بیان کی ہیں کہ امریکا اور روس کے درمیان سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان کی ساؤتھ ایشیا ریجن میں بڑی اہمیت تھی کیونکہ ساؤتھ ایشیا ریجن میں چین' افغانستان اور بھارت کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب تھا جب کہ اس وقت ایران میں شاہ ایران کی حکومت تھی جن کا جھکاؤ امریکا کی جانب تھا۔ اس وقت پاکستان کے پالیسی ساز اداروں نے امریکا کا ساتھ دیا۔ انھوں نے یہ بات بالکل درست کہی کہ ہمارے سابقہ حکمرانوں، سینئر بیوروکریٹس، فوج اور پالیسی ساز اداروں نے اس وقت جو غلط اور ہولناک فیصلے کیے اس کے اثرات آج تک پاکستان پر پڑرہے ہیں۔ ضروری ہے کہ الطاف حسین کی ان باتوں پر غور کیا جائے اور ملکی مفاد میں نتائج اخذ کیے جائیں تاکہ کسی بھی غیرمعمولی صورتحال کی بروقت مناسب تیاری کی جا سکے۔ ان کا یہ بیان یا خطاب کس قدر درست ہے اسے ناپنے کے لیے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے

تاہم گزشتہ ایک دو دہائیوں کے عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو اس حقیقت سے انکار ناممکن ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک کو بعض عالمی سازشوں کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ان سازشوں کا وقت رہتے ادراک کیا جائے بلکہ ان کے سدباب کے لیے مناسب منصوبہ بندی بھی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک کو لاحق خطرات سے نکالا جائے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی، جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کا مطلب پاکستان میں امن و استحکام ہے، افغانستان میں کنڑ کی جانب سے ہماری فوج اور عام آبادی پر حملوں کے معاملے پر بات کی ہے،

ہم نے اس قسم کے واقعات کو روکنا ہے۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں افغان نیشنل کولیشن اور افغان اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد افغان نیشنل فرنٹ کے رہنمائوں نے بھی ملاقات کی۔ امید کی جاتی ہے کہ ان ملاقاتوں کے اچھے اثرات سامنے آئیں گے خاص طور شمالی اتحاد میں پاکستان کے بارے میں پائی جانے والی مخاصمت کم کرنے میں مدد ملے گی۔
Load Next Story