اسٹریٹ کرائمز کا سدباب کیا جائے
رمضان المبارک میں ویسے بھی دہشت گردی کی وارداتوں کا خدشہ اور...
رمضان المبارک میں ویسے بھی دہشت گردی کی وارداتوں کا خدشہ اور اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ ساتھ ڈکیتی' چوری اور رہزنی کی وارداتیں بھی جاری ہیں۔ یوں تو ہمارے ملک میں اسٹریٹ کرائمز میں کبھی کمی نہیں آتی جو عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کے ذمے دار اداروں کی کارکردگی کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے لیکن رمضان المبارک' عیدین اور دیگر اہم مواقع پر راہ جاتے لوگوں کو لوٹنے اور ان کے گھروں میں ڈاکے ڈالنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور اب بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔
کراچی میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب درجن بھر وارداتیں' فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ نہ ہوتی ہو۔ جمعرات کو بھی کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں جمعیت علمائے اسلام ف کے علاقائی امیر' خاتون اور دو پولیس افسروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے جب کہ اورنگی ٹائون میں پولیس چوکی پر دستی بم حملے' واٹر پمپ کے قریب پولیس پارٹی پر فائرنگ اور دیگر واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت دس افراد زخمی ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے وہاں بھی نہ صرف روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی ہیں بلکہ چوری' ڈکیتی اور رہزنی بھی عام ہے جس کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔
پنجاب میں صورتحال اس سے زیادہ گمبھیر ہے۔ لاہور میں جمعرات کو ڈکیتی، چوری اور رہزنی کی وارداتوں کے دوران شہری لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات، موبائل فونز، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سمیت دیگر قیمتی سامان سے محروم ہو گئے جب کہ گرین ٹائون کے علاقہ میں ڈاکوئوں نے یکے بعد دیگر ے دو بینکوں میں اسلحہ کی نوک پر ایک کروڑ روپے اور موبائل فون لوٹ لیے۔ ڈاکو جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی ساتھ لے گئے۔ بینک میں ڈکیتی کی یہ دونوں وارداتیں غماز ہیں کہ جرائم پیشہ افراد اور گروہ کس قدر بیباک ہو گئے ہیں کہ کڑے پہرے میں بھی اپنا کام کر گزرتے ہیں۔
ایسی وارداتوں سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب پہرے والی جگہوں پر صورتحال یہ ہے تو عام جگہوں پر کیا معاملات ہوں گے۔ رمضان المبارک میں ویسے بھی دہشت گردی کی وارداتوں کا خدشہ اور اندیشہ بڑھ جاتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی دونوں حوالوں یعنی دہشت گردی کی وارداتوں کا سدباب کرنے اور عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ لوگ پورے سکون اور پورے احساس تحفظ کے ساتھ اپنی کام سرانجام دے سکیں۔ ضروری ہے کہ سیکیورٹی کا نظام زیادہ بہتر اور فعال بلکہ فول پروف بنایا جائے۔ ایسی وارداتوں پر عوام کا مشتعل ہونا قدرتی بات ہے اس لیے مناسب یہی ہے کہ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور انھیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جائے خاص طور پر اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات ہونے چاہئیں۔
کراچی میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب درجن بھر وارداتیں' فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ نہ ہوتی ہو۔ جمعرات کو بھی کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں جمعیت علمائے اسلام ف کے علاقائی امیر' خاتون اور دو پولیس افسروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے جب کہ اورنگی ٹائون میں پولیس چوکی پر دستی بم حملے' واٹر پمپ کے قریب پولیس پارٹی پر فائرنگ اور دیگر واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت دس افراد زخمی ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے وہاں بھی نہ صرف روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی ہیں بلکہ چوری' ڈکیتی اور رہزنی بھی عام ہے جس کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔
پنجاب میں صورتحال اس سے زیادہ گمبھیر ہے۔ لاہور میں جمعرات کو ڈکیتی، چوری اور رہزنی کی وارداتوں کے دوران شہری لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات، موبائل فونز، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سمیت دیگر قیمتی سامان سے محروم ہو گئے جب کہ گرین ٹائون کے علاقہ میں ڈاکوئوں نے یکے بعد دیگر ے دو بینکوں میں اسلحہ کی نوک پر ایک کروڑ روپے اور موبائل فون لوٹ لیے۔ ڈاکو جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی ساتھ لے گئے۔ بینک میں ڈکیتی کی یہ دونوں وارداتیں غماز ہیں کہ جرائم پیشہ افراد اور گروہ کس قدر بیباک ہو گئے ہیں کہ کڑے پہرے میں بھی اپنا کام کر گزرتے ہیں۔
ایسی وارداتوں سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب پہرے والی جگہوں پر صورتحال یہ ہے تو عام جگہوں پر کیا معاملات ہوں گے۔ رمضان المبارک میں ویسے بھی دہشت گردی کی وارداتوں کا خدشہ اور اندیشہ بڑھ جاتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی دونوں حوالوں یعنی دہشت گردی کی وارداتوں کا سدباب کرنے اور عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ لوگ پورے سکون اور پورے احساس تحفظ کے ساتھ اپنی کام سرانجام دے سکیں۔ ضروری ہے کہ سیکیورٹی کا نظام زیادہ بہتر اور فعال بلکہ فول پروف بنایا جائے۔ ایسی وارداتوں پر عوام کا مشتعل ہونا قدرتی بات ہے اس لیے مناسب یہی ہے کہ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور انھیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جائے خاص طور پر اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات ہونے چاہئیں۔