پانامہ اسکینڈل جامع تحقیقات

کہتے ہیں کہ پانامہ لیکس پر ایکشن کیوں نہیں لیتے، کمیشن بنانا تفتیش کرنا ہمارا کام ہے یا انتظامیہ کا

tauceeph@gmail.com

TOKYO:
کہتے ہیں کہ پانامہ لیکس پر ایکشن کیوں نہیں لیتے، کمیشن بنانا تفتیش کرنا ہمارا کام ہے یا انتظامیہ کا؟ جو بھی لولا لنگڑا نظام ہے، اسے چلنا چاہیے، بعض حالات میں عدلیہ کو بھی مصلحت سے کام لینا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے میئر کراچی کے انتخابی طریقہ کار کے بارے میں درپیش مقدمے میں یہ ریمارکس دے کر پانامہ اسکینڈل کے بارے میں عدلیہ کا موقف ظاہر کر دیا۔

وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ جج اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والے ٹریبونل کی سربراہی کے لیے تیار نہیں۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے غیر ملکی آڈٹ کمپنی سے فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔ عمران خان نے پہلی بار سرکاری ٹیلی وژن پر عوام سے خطاب کی خواہش کا اظہار کیا، جو پوری نہ ہو سکی ۔ نجی ٹی وی چینلز پر اپنے خطاب میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور 24 اپریل تک چیف جسٹس کی قیادت میں تحقیقاتی ٹریبونل بنانے کے مطالبات پیش کر دیے۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ امپائر انگلی اٹھا چکا ہے، نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے پر رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ وہ مستعفی نہ ہوئے تو رائیونڈ میں دھرنا ہو گا۔ پنجاب کے وزیر قانون کہتے ہیں کہ عمران خان اس دفعہ پھر یہ شوق بھی پورا کر لیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سیاسی ملاقاتیں کرنی شروع کر دیں اور انھیں رائیونڈ میں شریف خاندان کے خلاف دھرنے میں شرکت کی دعوت دیدی۔ مالیاتی اسکینڈل پر بحث و مباحثے کے بعد اب دوبارہ دھرنے کی سیاست شروع ہو گئی ہے۔ میاں نواز شریف کے صاحبزادوں سمیت سو کے قریب سیاستدانوں ججوں، وکیلوں اور بلڈرز کی آف شور کمپنیوں کے پانامہ لیکس کی فہرست میں نام شایع ہوئے ہیں۔

بھارت، برطانیہ، سعودی عرب، وسط ٰایشیائی اور یورپی ممالک کے اہم رہنماؤں، اداکاروں اور دوسرے شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے مرحوم والد کے نام آف شور کمپنیوں سے کسی تعلق کا انکار کیا، مگر برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث جاری ہے، کئی ہزار افراد نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر کیمرون سے استعفیٰ کے لیے مظاہرہ بھی کیا ہے۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم تو پہلے ہی مستعفیٰ ہو چکے تھے، بھارت میں سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی کمپنیوں کا بھی اس فہرست میں ذکر ہے مگر نہ وہاں جمہوری ادارے ہیں، نہ آزاد میڈیا، وہاں اس رپورٹ پر کوئی رد عمل نہیں ہوا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس اسکینڈل کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا اور اپنے خاندان کی شفافیت کے حق میں دلائل دیے اور سپریم کورٹ کے سابق جج پر مشتمل ٹریبونل کے قیام کا اعلان کیا، جس کو مخالف جماعتوں نے مسترد کر دیا۔ اب وزیرداخلہ کہتے ہیں کہ ان کمپنیوں کا تعلق نواز شریف سے نہیں بلکہ ان کے بیٹوں سے ہے مگر حکومت پھر بھی ہر قسم کی تحقیقات کرانے کے لیے تیار ہے، مگر قومی اسمبلی میں اس مسئلے پر ہونے والی زوردار بحث کو سرکاری ٹی وی نے کور نہیں کیا اور نجی ٹی وی چینلز نے مختلف ذرایع سے پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر کو ٹیلی کاسٹ کیا تو اب قومی اسمبلی کے اسپیکر نے موبائل فون کے ذریعے اسمبلی کی کارروائی کو کور کرنے پر پابندی لگا دی۔

حکومتی وزراء کا موقف ہے کہ عمران خان نے شوکت خانم اسپتال کے لیے جمع ہونے والے زکوٰۃ فنڈ کو سرمایہ کاری میں لگا کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزیر داخلہ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو سرے محل کی یاد دلائی۔ اب وزیر اعظم دل کے علاج کے لیے لندن چلے گئے مگر اصل معاملہ جوں کا توں ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے سب سے پہلے یہ تجویز پیش کی تھی کہ عدالتی ٹریبونل بنانے سے معاملات کھل کر سامنے نہیں آئیں گے چونکہ آف شور کمپنیوں کے مالکان ملکی و غیر ملکی قوانین کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان لوگوں نے قانون کے بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے اپنی کمپنیاں قائم کی ہیں اور بہت سے افراد نے قانونی طریقے سے زر مبادلہ منتقل کیا ہے۔


اس بنا پر ٹریبونل کے سامنے حکومت اور مخالفین جو دستاویزات جمع کرائیں گے اس سے مالیاتی جرائم کا پتہ نہیں چل سکے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور اس کمپنی کی آڈٹ رپورٹ کو سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے تو بہت سے حقائق سامنے آ جائیں گے۔ مغربی ممالک اور امریکا میں بہت سے اسکینڈل کی تحقیقات پارلیمنٹ میں قائم کردہ کمیٹیوں نے بھی کیں امریکا میں واٹر گیٹ اسکینڈل کی ساری تحقیقات کانگریس کی اراکین پر مشتمل کمیٹی نے ہی کی تھی۔ اس کمیٹی میں شامل سینیٹرز اور عوامی نمایندے واٹرگیٹ اسکینڈل کے پس منظر سے آگاہ تھے پھر دو امریکی صحافیوں کی تحقیقاتی رپورٹوں سے اس کمیٹی کو تحقیقات کرنے میں مدد ملی تھی اور اس کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہونے پر صدر نکسن کو مستعفیٰ ہونا پڑا تھا۔ اگر پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی یا کوئی نئی کمیٹی جو حکومت اور حزب اختلاف کے نمایندوں پر مشتمل ہو اور اس کمیٹی کو ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ کمیٹی بھی بہت سارے حقائق کو سامنے لا سکتی ہے۔

اس کمیٹی کو صرف پانامہ لیکس کے بارے میں ہی تحقیقات نہیں بلکہ ان تمام سیاستدانوں بیوروکریٹس، وکلاء، ججز، صحافیوں اور جنرلوں کے بارے میں بھی تحقیقات کرنی چاہیے جن کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں یا ان کی کمپنیاں قائم ہیں۔ اس ضمن میں بعض صحافی دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں کئی پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کا خاص طور پر ذکر کرتے تو گزشتہ سال ملک سے فرار ہونے والے ان سیاستدانوں اور افسروں کا نام بھی لیا جاتا ہے جنہوں نے نیب، ایف آئی اے اور رینجرز کے آپریشن سے بچنے کے لیے امریکا اور کینیڈا میں پناہ حاصل کی ہے۔ اس طرح بعض لوگ جنرل پرویز مشرف کی دبئی اور لندن میں سرگرمیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی جائیدادیں مختلف ممالک میں ہیں اور وہ ایک پُر آسائش زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سارے معاملات غیر قانونی دولت کمانے اور غیر ممالک کو منتقل کرنے کے دائرہ کار میں آنے چاہیئں۔

ایک اور بنیادی مسئلہ ریاستی اداروں کی شفافیت کے لیے اطلاعات کے حصول کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنا بھی ہے، تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اطلاعات کے حصول کا بہترین قانون نافذ کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہاں اداروں میں شفافیت کا معیار بلند ہوا ہے۔ پنجاب میں بھی ایک ایسا ہی قانون موجود ہے مگر وفاق، سندھ اور بلوچستان میں نافذ کردہ قوانین انتہائی کمزور اور فرسودہ ہیں تحریک انصاف پیپلزپارٹی اور پارلیمنٹ میں موجود دوسری جماعتوں نے اطلاعات کے حصول کے قانون کو موثر بنانے پر توجہ نہیں دی۔

پیپلز پارٹی کے ایجنڈے میں تو ریاستی اداروں کی شفافیت کا معاملہ اہم نہیں ہے مگر تحریک انصاف شفافیت کی سب سے بڑی چیمپئن ہے۔ عمران خان نے ایک دفعہ پھر پرانا کھیل شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے کسی تحقیقات سے پہلے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا نعرہ لگا دیا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے امپائر کے انگلی اٹھانے کی نوید دے رہے ہیں۔ میاں برادران کے ذاتی گھر کے سامنے مظاہرے کا اعلان اور امپائر کی انگلی اٹھانے کا معاملہ مقتدرہ سے منسلک ہو جاتا ہے اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ عمران خان ہر صورت میں میاں صاحب کو اقتدار سے رخصت کرنے کے خواہاں ہیں، خواہ اس کے لیے ماورا آئینی اقدامات کیوں نہ ہوں۔ وہ انتخابی دھاندلی کے مسئلے پر دو سال قبل اسلام آباد میں دھرنے کے ذریعے اپنا یہ شوق پورا کر چکے ہیں ۔

جو لوگ ملک کی تاریخ پر نظر رکھتے ہیں انھیں 1977ء یاد آ جاتا ہے۔ پاکستان قومی اتحاد نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک شروع کی تھی جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کو اپنا اقتدار قائم کرنے کا موقع ملا، پی این اے کے بعض رہنما اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ عمران خان کو شاید تاریخی کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، ضیاء الحق پرویز مشرف کے دور میں جو تباہی آئی تھی اب اس تجربے کو دہرانے کا مطلب ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہو گا۔ عاصمہ جہانگیر کی یہ بات درست ہے کہ عمران خان کا دھرنا ان کا حق ہے مگر کسی فرد کے گھر پر جا کر ہنگامہ آرائی کرنا ایک خطرناک اقدام ہو گا۔ اس طرح کے اقدامات سے سیاست میں ذاتی دشمنی کے رجحانات کو تقویت ملے گی۔ جمہوری نظام میں اختلاف اصولی ہوتا ہے، اس اختلاف کو ذاتی رنگ دینے سے فاشسٹ رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔

عمران خان کو دھرنے کا اعلان کرنے سے پہلے پورے ملک میں رائے عامہ کو ہموار کرنا چاہیے۔ چوہدری اعتزاز حسن کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف زرداری سے ملاقات کرنے کے لیے لندن جا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے رہنما کو مشورہ دیا ہے کہ وہ میاں صاحب کی مدد نہ کریں مگر وہ اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ اس فہرست میں ان کی قائد بینظیر بھٹو اور رحمان ملک کے نام بھی شامل ہیں یوں میاں صاحب اور زرداری ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک جامع تحقیقات کی صورت میں ہی ممکن ہے یہ تحقیقات جتنی جلدی شروع ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے۔
Load Next Story