دولت اور شہرت کی سیڑھی

انسان بھی عجیب و غریب شے ہے، بلکہ دنیا میں اس سے زیادہ غریب بھی کوئی نہیں ہے

barq@email.com

انسان بھی عجیب و غریب شے ہے، بلکہ دنیا میں اس سے زیادہ غریب بھی کوئی نہیں ہے کہ چاہے ساری دنیا اس کی ہو جائے تمام دنیا کی دولتیں حکومتیں اور طاقتیں اس کی ہو جائیں اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ اور کی رٹ لگائے رہتا ہے، ایک مرتبہ ہمارے گاؤں کے ایک سادہ دل بندے نے حکمرانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں یہ لوگ پاگل ہیں یا میں پاگل ہوں سب کچھ تو ان کو اللہ نے دے رکھا ہے، یہ بے نظیر، یہ زرداری، یہ نواز شریف، یہ بڑے بڑے لوگ جن کی دولتوں کا کوئی شمار نہیں لیکن پھر بھی سرگردان رہتے ہیں، طرح طرح کی رسوائیاں مول لیتے ہیں، خطرے اٹھاتے ہیں، لوگوں کے آگے جھولیاں پھیلاتے ہیں، پتہ نہیں ان کے حرص و ہوس کا یہ کیسا کنواں ہے جو بھرتا نہیں وہ جو کسی نے کہا ہے

سوچتے سوچتے دل ڈوب سا جاتا ہے مرا۔
ذہن کی تہہ میں مظفرؔ کوئی دریا تو نہیں

مطلب کہنے کا یہ ہے کہ انسان کی ڈکشنری میں اور سب کچھ ہے صرف ''بس'' کا لفظ نہیں ہے، پھر اس کی تمنائیں اور آرزوئیں اور خواہشات بھی اسی کی طرح عجیب اور غریب ہوتی ہیں، اب ہمیں ہی لے لیجیے دنیا بھر میں ''پانامہ لیکس'' کے انکشافات پر طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں اور ہم ہیں کہ ایک بار پھر ''دکھی پریم نگری'' ہو رہے ہیں۔ پانامہ لیکس کی تفصیلات پڑھ پڑھ کر دل میں ہُوک اٹھ رہی ہے، اے کاش ۔۔۔ اے کاش ۔۔۔ اے کاش ۔۔۔ اس میں ہمارا نام بھی ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا، ہمارا شمار بھی کسی قطار میں ہو جاتا اور آج ہمارے بھی تذکرے ہوتے، آپ نہیں جانتے کہ بدنامی اور رسوائی میں جو نشہ ہے وہ نیک نامی اور عزت افزائی میں کہاں، ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں۔

اس نشے کا جا کر ان سے پوچھیے جو اس کے عادی ہیں، ہمارے ایک دوست تھے ایک دن وہ ہمارے پیچھے موٹر سائیکل پر سوار تھے اور جہاں سے بھی گزرتے لوگ مڑ مڑ کر ہماری طرف دیکھتے ہنستے اور بچے لوگ تالیاں بجاتے، ایک جگہ وہ بولا جانتے ہو یہ لوگ کیوں ہنستے ہیں ہم نے کہا یہی تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا، ۔۔۔ بولا یہ مجھ پر ہنستے ہیں اور ہم نے مان لیا کیوں کہ اس نے سر کے بال بھی کاندھوں تک بڑھا رکھے تھے مونچھیں بھی حدیں پار کر رہی تھیں جو اپنی سرحدوں سے نکل کر داڑھی کی مملکت پر بھی قابض تھیں۔ اس وقت ہمارا بھی جی چاہا کہ یہ سعادت ہمیں بھی حاصل ہو لیکن ہمارے بالوں کی کھیتی اتنی زرخیز نہیں تھی

ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ


سوچیے خواہشوں اور تمناؤں کی دنیا ''عجیب و غریب'' نہیں تو اور کیا ہے کہ رسوا ہونے کی خواہش بھی ہونے لگتی ہے اور یہی مزاج ہمارا بھی ہے کہ کچھ لوگ سوچتے ہوں گے کہ اس کم بخت پانامہ لیکس نے انھیں رسوا کیوں کیا جب کہ ہم اس پر دکھی ہو رہے ہیں کہ اس طرح ''رسوا'' ہم کیوں نہیں ہوئے کیونکہ رسوائی کے ''تمغے'' کے ساتھ جو ''اعداد و شمار'' دولت کے وابستہ ہیں وہ بڑے للچانے والے ہیں۔ ان عداد و شمار کے لیے تو ''رسوائی'' ہزار بار قبول ہے قبول ہے قبول ہے، اور پھر رسوائی ہے ہی کیا چیز؟ اگر چند روز رہی بھی تو کیا؟ لوگ اتنے بھلکڑ ہیں کہ غنڈے موالی کو بھی بادشاہ بنا ڈالتے ہیں اور کسی طوائف کو بھی ملکہ رانی مان لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہمارا ایک دوست دعائیں بڑی عجیب نوعیت کی مانگتا تھا، ہم ریڈیو پاکستان میں ہوتے تھے جب کوئی خوب صورت خاتون آ جاتی تھی جن میں زیادہ تر رقاصائیں یا گلوکارائیں ہوا کرتی تھیں تو وہ چپکے چپکے ہونٹوں میں بدبدانے لگتا کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کیا بڑبڑاتا ہے حتیٰ کہ وہ خاتون بھی کچھ نہ سمجھ پاتی تھی، کوئی پوچھ لیتا تو کہتا کہ ایسے ہی کچھ دعائیں مانگ رہا ہوں، صرف ہمیں معلوم تھا کہ وہ دعائیں کیا ہوتی تھیں کیونکہ اس نے ہمیں ایک مرتبہ بتا دیا تھا۔ اس دن ایک رقاصہ اپنی بیٹی کو پہلی مرتبہ اپنے ساتھ لائی۔ بڑی خوب صورت لڑکی تھی جسے دیکھ کر اس کے ہونٹ تیزی سے متحرک ہو گئے۔ بڑی بحثابحثی کے بعد وہ آخر کار مان گیا اور ہمیں بتا دیا کہ وہ کیسی دعائیں مانگتا تھا،

کھل کر تو ہم بتا نہیں پائیں گے لیکن وہ ان کے ساتھ اپنی رسوائی کی دعائیں مانگا کرتا تھا، جیسا کہ آج کل ہم مانگ رہے ہیں کہ خدا ہمیں بھی پانامہ لیکس جیسی رسوائی عطا کرے کہ اس رسوائی سے بڑھ کر نیک نامی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی

رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی میں ہم
بارے ''کرنسیاں'' تو اپنے نام ہو گئیں

ویسے بھی یہ نیک نامیاں، بدنامیاں، شرم بے شرمی، غیرت بے غیرتی اور حیا و بے حیائی صرف ''اعتبارات'' ہیں اور اعتبارات کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ہے۔ صرف ہر ایک شخص کو زندگی گزارنے، خوش ہونے اور مونچھیں مروڑنے کے لیے کچھ نہ کچھ سہارا چاہیے ہوتا ہے مثلاً ... جو غریب ہیں بلکہ خدا مارے ہیں، نہ پیٹ میں دانہ نہ تن پر جامہ اور نہ سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ رکھتے ہیں وہ بھی دل کو خوش رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ پیدا کر ہی لیتے ہیں۔

جیسے چھوڑو یار ۔۔۔ پیسہ تو ہندوؤں کے پاس بھی ہوتا ہے اصل چیز ایمان ہے یہ چند روز کی فانی دنیا ہے جیسے بھی گزرے گزار لے، ہمیں صلہ اس جہان میں ملے گا، ان کو دوزخ میں اپنی ہی دولت سے داغا جائے گا اور ہم جنت میں حور و غلمان اور دودھ شہد کی نہروں کے مالک ہوں گے، ایک ایسا ہی خدا مارا ایک دن کہہ رہا تھا دولت بے غیرتوں کے پاس ہوتی ہے ہم دولت نہیں رکھتے لیکن غیرت اور عزت رکھتے ہیں۔ جن کے پاس دولت ہوتی ہے وہ اس پر نازاں ہو کر کہتے ہیں کہ چھوڑو یار یہ غیرت اور شرم و حیا غریب غربا کے شوشے ہیں، مطلب یہ کہ رسوائی کے بذات خود کوئی لغوی معنی ہیں ہی نہیں جس نے جو جامہ پہنا دیا وہی اس کا لباس ۔۔۔ لوگ گالیاں دیتے ہیں کوسنے دیتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں، چور بے ایمان دغا باز کہتے ہیں تو کہا کریں ہمارے پاس اتنا کچھ ہے کہ کسی کی پروا نہیں، اور آج کی دنیا میں تو رسوائی سے بڑا طرہ امتیاز اور کوئی نہیں۔
Load Next Story