علی بابا کے غار
ماضی میں برصغیر میں طب یونانی ہی مقبول ترین طریقہ علاج تھا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ماضی میں برصغیر میں طب یونانی ہی مقبول ترین طریقہ علاج تھا، حتیٰ کہ مغلیہ دور میں بادشاہ اور شہزادے سب اپنی بیماریوں کا علاج یونانی حکیموں سے ہی کراتے تھے۔ اس زمانے کے حکیم یا طبیب اپنے پیشے میں اس قدر مہارت رکھتے تھے کہ مریض کی نبض دیکھ کر ہی بتا دیتے تھے کہ اس کا مرض کیا ہے، جسم کے کس حصے کو متاثر کر رہا ہے۔
بلاشبہ اس دور کے اطباء اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے بیماری کا پتہ نبض سے چلا لیتے تھے اور عموماً مریض کا علاج اپنی تشخیص ہی کے حوالے سے کرتے تھے، لیکن آج کے جدید دور میں جہاں علم اور معلومات کے دریا بہہ رہے ہیں، حکیم ہوں یا ڈاکٹر تشخیص اور مرض کی جڑ تک پہنچ کر مرض کا علاج کرنے کے بجائے ایک بیماری کو دور کرنے کے لیے کئی بیماریوں کی ایک ساتھ دوا دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی دوا تو بیمار کو فائدہ پہنچا ہی دیگی۔ انسان کی جسمانی بیماریوں کے علاوہ قومی جسم میں بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس کا علاج بھی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ قومی جسم میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی درست تشخیص کی طرف کسی بندہ مومن کی توجہ مبذول ہی نہیں ہوتی اور مرض کے بجائے مریض کا علاج شروع کر دیا جاتا ہے۔
ویسے تو ہمارا قومی جسم مختلف ہلاکت انگیز بیماریوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ان بیماریوں کا لشٹم پشٹم علاج بھی ہوتا رہتا ہے لیکن چونکہ قومی جسم کی بیماریوں کا علاج تشخیص کے بغیر اندازوں اور حکما کے مفادات کے مطابق کیا جاتا ہے لہٰذا ''مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی'' والی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔ ہمارے قومی جسم میں جن بیماریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ان میں کرپشن کی حیثیت کینسر جیسی ہے۔ کرپشن ایسی بیماری ہے جسے ہم چھوت کی بیماری کہہ سکتے ہیں اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے اصلی چہرے اور علامات کے ساتھ اعلیٰ طبقات ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اعلیٰ طبقات کے برہمن چھوت چھات کے شدید مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے طبقے کے علاوہ نچلی ذات یعنی عوام سے دور رہتے ہیں اس لیے کرپشن کی بیماری ان کے طبقے تک ہی محدود رہتی ہے۔ عام آدمی اصلی تے وڈے کرپشن کی بیماری سے دور رہتا ہے۔
زرداری کے دور حکومت میں سوئس بینک کی بیماری سے زرداری بری طرح متاثر ہو گئے تھے حتیٰ کہ انھیں اس بیماری سے نکلنے کے لیے اپنے ایک وزیر اعظم کی قربانی بھی دینی پڑی لیکن مرض کا علاج تو نہ ہو سکا، مریض بچ گیا۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے یہ بیماری برہمنوں کی بیماری ہے اور ان تک ہی محدود ہے سو اس کا تازہ شکار اگرچہ بالادست طبقے کے کئی محترمین ہو رہے ہیں نواز شریف کے اہل خاندان بھی اس بیماری کے مریضوں میں شامل ہیں۔ اس بیماری کا نام ہے ''پانامہ لیکس'' ہمارے پورے میڈیا پر پانامہ لیکس چھایا ہوا ہے اور مبصرین کی فوج کی فوج 24 گھنٹے اس بیماری کے مریضوں پر تبصرے کر رہی ہے۔ لیکن ہم نے ان مبصرین میں ایک بھی ایسا مبصر نہیں دیکھا جو اس بیماری کی جڑ کی تشخیص کر رہا ہو۔
علی بابا اور اس کے چالیس چور تاریخ کے سب سے مشہور چور مانے جاتے ہیں، علی بابا نے چوری کا مال چھپانے کے لیے ایک غارکا انتخاب کیا تھا وہ چوری کا مال اس غار میں رکھتا تھا جس پر چوروں کا سخت پہرہ ہوتا تھا۔ بین الاقوامی چوروں نے اپنا چوری کا مال چھپانے کے لیے کئی غار بنا رکھے ہیں ان میں کچھ معلوم ہیں کچھ نامعلوم۔ معلوم میں سوئس بینک، بین الاقوامی چوروں کا ایسا غار بنا ہوا ہے جس کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ اس لیے نہیں ہو پاتا کہ اس غار کے منہ پر غیر تحریری قانون کے بے شمار پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اب بین الاقوامی چور اشرافیہ کے ایک نئے غار کا پتہ چلا ہے جس کا نام نامی اسم گرامی ''پانامہ لیکس'' ہے۔ ہمارے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بیٹوں اور بیٹی پر الزام ہے کہ انھوں نے بھی اس غار کو اپنے پوشیدہ کاروبار کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس الزام کی تردید ایک چھوٹے سے بیان سے بھی کی جا سکتی تھی لیکن ہمارے غیر معمولی سمجھدار وزیر اعظم نے اس مسئلے پر قوم سے خطاب کر کے اسے قومی مسئلہ تسلیم کر لیا ہے۔
اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ پورا معاشرہ ہی نہیں پوری دنیا کرپشن کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ مرض اس لیے پیدائشی بن گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ مرض پیدائش کے ساتھ ہی لگ جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ عام آدمی کرپشن اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مجبوراً کرتا ہے اور خاص آدمی زیادہ سے زیادہ دولت کو اپنے قبضے میں رکھنے کی احمقانہ خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرپشن کا ارتکاب کرتا ہے۔ پانامہ لیکس کے اس اشرافیائی غار میں 9 کھرب 60 ارب ڈالر کا ذخیرہ موجود ہے۔ پسماندہ ملکوں کے کروڑوں انسان غربت کی لکیر کے نیچے اس لیے زندگی گزار رہے ہیں کہ ان کی محنت کی کمائی ملک کے علی بابا اور چالیس چوروں نے سوئس بینک اور پانامہ لیکس جیسے غاروں میں چھپا رکھی ہے۔
میاں صاحب نے بجا فرمایا ہے کہ ان کے دو صاحبزادوں میں ایک لندن میں دوسرا سعودی عرب میں کاروبار کر رہا ہے یعنی تجارت کر رہا ہے اور کاروبار کرنا کسی بھی حوالے سے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ اس حوالے سے اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کاروبار خواہ آلو پیاز کا ہو یا اسٹیل ملوں یا کارخانوں کا ہو اس کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ سرمایہ کہاں سے حاصل کیا گیا ہے؟ یہی وہ سوال ہے۔
جس کے جواب کا مطالبہ ہمارے سیاستدان، ہمارے چینلوں کے اینکر، اخبارات کے کالم نگار میاں خاندان سے کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کے روایتی حریف عمران خان رائے ونڈ پر دھرنا دینے کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کے منہ بولے بھائی شیخ رشید لاہور میں دھرنا سجانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اس ملک کے 20 کروڑ، دو وقت کی روٹی سے محروم، عوام حکمرانوں کی ڈکیتیوں سے تنگ بھی ہیں اور مشتعل بھی۔ اگر عمران خان عوام کے اس جائز اشتعال کو استعمال کر کے میاں صاحب کو اقتدار سے ہٹا بھی دیتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہو گا؟ ایک نیا میاں کسی نئی پوشاک میں سوئس بینکس اور پانامہ لیکس کا متولی بن جائے گا۔ بے چارے عوام برسوں اس کے سحر میں مبتلا رہیں گے۔ اگر ان عذابوں سے چھٹکارا پانا ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام سے بھی چھٹکارا پانا ہو گا جو پانامہ لیکس پیدا کرتا ہے۔
بلاشبہ اس دور کے اطباء اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے بیماری کا پتہ نبض سے چلا لیتے تھے اور عموماً مریض کا علاج اپنی تشخیص ہی کے حوالے سے کرتے تھے، لیکن آج کے جدید دور میں جہاں علم اور معلومات کے دریا بہہ رہے ہیں، حکیم ہوں یا ڈاکٹر تشخیص اور مرض کی جڑ تک پہنچ کر مرض کا علاج کرنے کے بجائے ایک بیماری کو دور کرنے کے لیے کئی بیماریوں کی ایک ساتھ دوا دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی دوا تو بیمار کو فائدہ پہنچا ہی دیگی۔ انسان کی جسمانی بیماریوں کے علاوہ قومی جسم میں بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس کا علاج بھی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ قومی جسم میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی درست تشخیص کی طرف کسی بندہ مومن کی توجہ مبذول ہی نہیں ہوتی اور مرض کے بجائے مریض کا علاج شروع کر دیا جاتا ہے۔
ویسے تو ہمارا قومی جسم مختلف ہلاکت انگیز بیماریوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ان بیماریوں کا لشٹم پشٹم علاج بھی ہوتا رہتا ہے لیکن چونکہ قومی جسم کی بیماریوں کا علاج تشخیص کے بغیر اندازوں اور حکما کے مفادات کے مطابق کیا جاتا ہے لہٰذا ''مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی'' والی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔ ہمارے قومی جسم میں جن بیماریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ان میں کرپشن کی حیثیت کینسر جیسی ہے۔ کرپشن ایسی بیماری ہے جسے ہم چھوت کی بیماری کہہ سکتے ہیں اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے اصلی چہرے اور علامات کے ساتھ اعلیٰ طبقات ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اعلیٰ طبقات کے برہمن چھوت چھات کے شدید مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے طبقے کے علاوہ نچلی ذات یعنی عوام سے دور رہتے ہیں اس لیے کرپشن کی بیماری ان کے طبقے تک ہی محدود رہتی ہے۔ عام آدمی اصلی تے وڈے کرپشن کی بیماری سے دور رہتا ہے۔
زرداری کے دور حکومت میں سوئس بینک کی بیماری سے زرداری بری طرح متاثر ہو گئے تھے حتیٰ کہ انھیں اس بیماری سے نکلنے کے لیے اپنے ایک وزیر اعظم کی قربانی بھی دینی پڑی لیکن مرض کا علاج تو نہ ہو سکا، مریض بچ گیا۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے یہ بیماری برہمنوں کی بیماری ہے اور ان تک ہی محدود ہے سو اس کا تازہ شکار اگرچہ بالادست طبقے کے کئی محترمین ہو رہے ہیں نواز شریف کے اہل خاندان بھی اس بیماری کے مریضوں میں شامل ہیں۔ اس بیماری کا نام ہے ''پانامہ لیکس'' ہمارے پورے میڈیا پر پانامہ لیکس چھایا ہوا ہے اور مبصرین کی فوج کی فوج 24 گھنٹے اس بیماری کے مریضوں پر تبصرے کر رہی ہے۔ لیکن ہم نے ان مبصرین میں ایک بھی ایسا مبصر نہیں دیکھا جو اس بیماری کی جڑ کی تشخیص کر رہا ہو۔
علی بابا اور اس کے چالیس چور تاریخ کے سب سے مشہور چور مانے جاتے ہیں، علی بابا نے چوری کا مال چھپانے کے لیے ایک غارکا انتخاب کیا تھا وہ چوری کا مال اس غار میں رکھتا تھا جس پر چوروں کا سخت پہرہ ہوتا تھا۔ بین الاقوامی چوروں نے اپنا چوری کا مال چھپانے کے لیے کئی غار بنا رکھے ہیں ان میں کچھ معلوم ہیں کچھ نامعلوم۔ معلوم میں سوئس بینک، بین الاقوامی چوروں کا ایسا غار بنا ہوا ہے جس کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ اس لیے نہیں ہو پاتا کہ اس غار کے منہ پر غیر تحریری قانون کے بے شمار پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اب بین الاقوامی چور اشرافیہ کے ایک نئے غار کا پتہ چلا ہے جس کا نام نامی اسم گرامی ''پانامہ لیکس'' ہے۔ ہمارے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بیٹوں اور بیٹی پر الزام ہے کہ انھوں نے بھی اس غار کو اپنے پوشیدہ کاروبار کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس الزام کی تردید ایک چھوٹے سے بیان سے بھی کی جا سکتی تھی لیکن ہمارے غیر معمولی سمجھدار وزیر اعظم نے اس مسئلے پر قوم سے خطاب کر کے اسے قومی مسئلہ تسلیم کر لیا ہے۔
اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ پورا معاشرہ ہی نہیں پوری دنیا کرپشن کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ مرض اس لیے پیدائشی بن گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ مرض پیدائش کے ساتھ ہی لگ جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ عام آدمی کرپشن اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مجبوراً کرتا ہے اور خاص آدمی زیادہ سے زیادہ دولت کو اپنے قبضے میں رکھنے کی احمقانہ خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرپشن کا ارتکاب کرتا ہے۔ پانامہ لیکس کے اس اشرافیائی غار میں 9 کھرب 60 ارب ڈالر کا ذخیرہ موجود ہے۔ پسماندہ ملکوں کے کروڑوں انسان غربت کی لکیر کے نیچے اس لیے زندگی گزار رہے ہیں کہ ان کی محنت کی کمائی ملک کے علی بابا اور چالیس چوروں نے سوئس بینک اور پانامہ لیکس جیسے غاروں میں چھپا رکھی ہے۔
میاں صاحب نے بجا فرمایا ہے کہ ان کے دو صاحبزادوں میں ایک لندن میں دوسرا سعودی عرب میں کاروبار کر رہا ہے یعنی تجارت کر رہا ہے اور کاروبار کرنا کسی بھی حوالے سے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ اس حوالے سے اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کاروبار خواہ آلو پیاز کا ہو یا اسٹیل ملوں یا کارخانوں کا ہو اس کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ سرمایہ کہاں سے حاصل کیا گیا ہے؟ یہی وہ سوال ہے۔
جس کے جواب کا مطالبہ ہمارے سیاستدان، ہمارے چینلوں کے اینکر، اخبارات کے کالم نگار میاں خاندان سے کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کے روایتی حریف عمران خان رائے ونڈ پر دھرنا دینے کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کے منہ بولے بھائی شیخ رشید لاہور میں دھرنا سجانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اس ملک کے 20 کروڑ، دو وقت کی روٹی سے محروم، عوام حکمرانوں کی ڈکیتیوں سے تنگ بھی ہیں اور مشتعل بھی۔ اگر عمران خان عوام کے اس جائز اشتعال کو استعمال کر کے میاں صاحب کو اقتدار سے ہٹا بھی دیتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہو گا؟ ایک نیا میاں کسی نئی پوشاک میں سوئس بینکس اور پانامہ لیکس کا متولی بن جائے گا۔ بے چارے عوام برسوں اس کے سحر میں مبتلا رہیں گے۔ اگر ان عذابوں سے چھٹکارا پانا ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام سے بھی چھٹکارا پانا ہو گا جو پانامہ لیکس پیدا کرتا ہے۔