کراچی میں اسٹیک ہولڈرز امن بحال کروائیں

کراچی کا مسئلہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا، بلکہ خلوص نیت اور سچائی سے کراچی کھپے کا نعرہ لگانا پڑے گا

کراچی میں معیشت کا پہیہ ہڑتالوں ،جلائو گھیراؤ اور سرمائے کی منتقلی کے باعث جام ہوچکا ہے۔ فوٹو: پی پی آئی

لاہور:
شہر بے اماں کے بے گناہ ومظلوم عوام کے قتل وغارت کا نہ رکنے والا سلسلہ شدومد کے ساتھ جاری ہے،خوف و یاس نے تو عروس البلاد میں ڈیرے ڈال دیے ہیں، ہر رات پر اماوس کی رات ہونے کا گمان ہوتا ہے ۔

غریب پرور اور غریب کی ماں کہلانے والے شہر کو نہ جانے کس کی نظر کھا گئی کہ انسان تو انسان پرندے بھی قاتلوں کے خوف سے کوچ پر کمربستہ ہیں، گزشتہ روز سخت سیکیورٹی اقدامات کے دعوئوں اور موٹرسائیکل پرڈبل سواری کی پابندی کے باوجود قاتل شہربھرمیں دندناتے پھرے اور ایکسائزپولیس اہلکارسمیت مزید7افرادہلاک اور7زخمی ہوئے۔دست قاتل کو پکڑنے اور روکنے والے خواب غفلت میں ہیں ۔کراچی کی انتہائی گمبھیر صورتحال پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے منعقدہ اجلاسوں کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی وسینیٹ نے احتجاجا واک آئوٹ کرتے وزیراعظم سے مطالبہ کیا وہ کراچی جا کر صورتحال پر قابو پائیں ۔

جب کہ اے این پی نے شہر قائد میں فوری طور پر فوجی آپریشن کا اور اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان نے اس سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) نے کراچی کے مخدوش حالات پر ایم کیو ایم سے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ کراچی میں امن وامان کی بحالی میں ناکامی کا خمیازہ سب بھگت رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ بھی کراچی بدامنی کیس کے حوالے سے اپنا فیصلہ اور انتہائی مثبت تجاویز دے چکی ہے ،لیکن عملدرآمد نہ ہونے کے برابر۔ پاکستان کے معاشی حب کو تباہ وبرباد کرنے میں ٹارگٹ کلنگ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔

معیشت کا پہیہ ہڑتالوں ،جلائو گھیرائو اور سرمایے کی منتقلی کے باعث جام ہوچکا ہے۔ جیسے دل کی دھڑکن رک جائے تو جسم مفلوج ہوجاتا ہے بالکل یہی حال کراچی کا ہے،کراچی میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتا ہے کہ امریکی تھنک ٹینک کے مطابق کراچی کی صورتحال پر فوجی مداخلت کا خدشہ ہے ۔ ماضی میں جمہوری حکومتوں کی چھٹی بھی کراچی میں امن وامان کی عدم بحالی پر ہو چکی ہے ۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ کراچی میں امن وامان کو بہتر بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت پاکستان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں کیونکہ اصل چہرہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے بلکہ دنیا میں اب بھی دہشت گردی کو ہماری سوسائٹی سے جوڑا جاتا ہے ۔


دوسری جانب وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں تاہم بڑا المیہ گڈگورننس کی کمزوری ہے ،بیوروکریسی ، وزیروں اور مشیروں کی موج ظفرموج خزانے پر بوجھ بن چکی ہے۔کراچی کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ ایوان سے واک آئوٹ کر کے کراچی میں قتل ہونے والے افراد کے لواحقین سے کون سی ہمدردی کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کراچی میں عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام اور اپنا حقِ حکمرانی کھو چکی ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومت پرمباحثے ومکالمے کی اہمیت وافادیت سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مقتدر قومی رہنمائوں کے خیالات سے اہل کراچی کو کچھ حوصلہ ہوا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی کے بعض علاقوں کا بنفس نفیس دورہ کرنے کا کہا کہ اب فرائض میں کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ،دن کے ساتھ رات کو بھی نہیں سوئوں گا۔اگر صوبے کا حکمران پہلے جاگتا رہتا تو شہریوں کے دن کا سکھ اور رات کا چین نہ لٹتا ، خدا کرے کہ اب وزیراعلیٰ سندھ کے جاگنے سے شہری رات کو چین سے سو پائیں ۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' میں کراچی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے مہاجرقومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد نے کہا ہے کہ کراچی میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں بھتہ لیتی ہیں، انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے لوگوں کی ہیڈمنی ختم کی اور ایم کیوایم کے پیرول پر رہا لوگوں کو پکڑنے کے لیے اقدامات کیے جس کی وجہ سے ہلاکتوںکا سلسلہ جاری ہے، اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے معصوم لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

آج گورنرکو ہٹا دیا جائے توکراچی کے حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں ۔(ن) لیگ کے رہنما عابد شیرعلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے تاجر بھاگ رہے ہیں انڈسٹری ختم ہو رہی ہے حکومت کی نیت ہی نہیں کہ کراچی کے حالات ٹھیک ہوں۔پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ کراچی کی بدامنی سے سارا پاکستان ڈسٹرب ہوتا ہے حکومت کراچی کے قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔کراچی منی پاکستان اور ثقافتی وسماجی اقدار کا حامل شہر ہے، قیام پاکستان سے لے کر آج تک تمام قومیتوں کے افراد باہم شیروشکر ہوکر رہ رہے ہیں اورکراچی کی تعمیر وترقی میں سب کا خون پسینہ شامل ہے ۔

اس کو برباد کرنے والے لسانی ، فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے والے سازشی عناصر ابھی تک مختلف قومیتوں کے درمیان دراڑیں ڈالنے میں ناکام ہیں کیونکہ عوام میں آج بھی باہم محبت واخوت اور بھائی چارے کا جذبہ موجود ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی میں امن وامان کی بحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے جواب طلبی کی جائے اور ان سے ایک بحالی امن کے ایجنڈے پر عملدرآمد کروایا جائے ۔رو رعایت برتنے اور بلیک میلنگ میں آنے کا ہولناک خمیازہ اہل کراچی پہلے ہی بھگت رہے ہیں ،امن بحال ہوگا تو کراچی کی رونقیں لوٹ آئیں گی اور کراچی سے کوچ کرجانے والے واپس آ کر اپنی ماں کی آغوش میں پناہ لیں گے ۔جس دن کوچ کر جانے والے پرندے اپنے آشیانوں کولوٹ آئے اسی دن کراچی میں خوشیوں کی بہار آجائے گی ۔حکومت کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ کراچی کا مسئلہ بیان بازی اور مفاہمت کی سیاست سے کبھی حل نہیں ہوگا، بلکہ خلوص نیت اور سچائی سے کراچی کھپے کا نعرہ لگانا پڑے گا کیونکہ کراچی کی بقا میں پاکستان کی سلامتی کا راز مضمر ہے ۔
Load Next Story