تبدیلیوں کی لہر ظہیرعباس کو بھی ’’ڈبل رول‘‘کے خواب آنے لگے
آئی سی سی صدارت کے ساتھ پی سی بی میں بھی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر
آئی سی سی صدارت کے ساتھ پی سی بی میں بھی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پی سی بی میں تبدیلیوں کی لہر دیکھتے ہوئے ظہیرعباس کو بھی ''ڈبل رول'' کے خواب آنے لگے، آئی سی سی صدارت کے ساتھ پی سی بی میں بھی کوئی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں سعید اجمل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر عباس نے کہا کہ میرا آئی سی سی کی صدارت کا دور نومبر میں ختم ہورہا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کیلیے کہا گیا تو ضرور کام کروں گا، فی الحال 2 عہدے بھی رکھ سکتا ہوں،کسی بھی حیثیت میں ملکی اسپورٹس کی بہتری کیلیے کچھ کرنا چاہتا ہوں اسی لیے پنجاب اسپورٹس بورڈ میں بھی کام کررہا ہوں،انھوں نے کہا کہ انضمام الحق کو چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سونپنا پی سی بی کا اچھا فیصلہ ہوگا، پوری امید ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کرکٹ میں بہتری آئے گی۔
اس موقع پر سعید اجمل نے کہا کہ انضمام الحق جدید کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے سابق کپتان ہیں،انھیں نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوگی، امید ہے کہ پی سی بی کا یہ فیصلہ ملک کیلیے خوش آئند ثابت ہوگا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیلیے ہمت نہیں ہاری، اپنی فارم اور فٹنس ثابت کرنے کیلیے سخت محنت کررہا ہوں، میں ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کیلیے پُرعزم ہوں۔
پی سی بی میں تبدیلیوں کی لہر دیکھتے ہوئے ظہیرعباس کو بھی ''ڈبل رول'' کے خواب آنے لگے، آئی سی سی صدارت کے ساتھ پی سی بی میں بھی کوئی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں سعید اجمل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر عباس نے کہا کہ میرا آئی سی سی کی صدارت کا دور نومبر میں ختم ہورہا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کیلیے کہا گیا تو ضرور کام کروں گا، فی الحال 2 عہدے بھی رکھ سکتا ہوں،کسی بھی حیثیت میں ملکی اسپورٹس کی بہتری کیلیے کچھ کرنا چاہتا ہوں اسی لیے پنجاب اسپورٹس بورڈ میں بھی کام کررہا ہوں،انھوں نے کہا کہ انضمام الحق کو چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سونپنا پی سی بی کا اچھا فیصلہ ہوگا، پوری امید ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کرکٹ میں بہتری آئے گی۔
اس موقع پر سعید اجمل نے کہا کہ انضمام الحق جدید کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے سابق کپتان ہیں،انھیں نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوگی، امید ہے کہ پی سی بی کا یہ فیصلہ ملک کیلیے خوش آئند ثابت ہوگا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیلیے ہمت نہیں ہاری، اپنی فارم اور فٹنس ثابت کرنے کیلیے سخت محنت کررہا ہوں، میں ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کیلیے پُرعزم ہوں۔