بورڈ کے سرپرست اعلیٰ کوعبوری نظام لانے کا اختیار حاصل ہے احسان مانی

پاکستان کرکٹ کو درست خطوط پر استوار کرنے کیلیے نیچے سے اوپر تک ڈومیسٹک ڈھانچہ بہتر بنانا ہوگا، احسان مانی

پاکستان کرکٹ کو درست خطوط پر استوار کرنے کیلیے نیچے سے اوپر تک ڈومیسٹک ڈھانچہ بہتر بنانا ہوگا، احسان مانی۔ فوٹو: فائل

بورڈ کے سرپرست اعلیٰ کوچیئرمین اور مینجمنٹ کو فارغ کرکے عبوری سیٹ اپ لانے کا اختیارحاصل ہے، اس حوالے سے سابق صدر آئی سی سی احسان مانی نے کہا کہ حکومتی حمایت سے پی سی بی کی کمان سنبھالنے والے اب حکومت کو ہی مداخلت نہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔


ایکسپریس نیوز کے پروگرام '' اسپورٹس پیج'' میں میزبان مرزا اقبال بیگ سے بات چیت میں احسان مانی نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ میں گذشتہ کئی برس سے حکومتی مداخلت کا چلن عام رہا ہے، ایسا دنیا کے دیگر ملکوں میں نہیں ہوتا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کسی طرح کے اقدامات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،آئی سی سی کے سابق صدر نے کہا کہ حیران کن طور پر حکومتی حمایت سے پی سی بی کی کمان سنبھالنے والے اب حکومت کو ہی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، ان لوگوں نے ہی پی سی بی کا ایسا آئین بنایا تھا کہ حکومتی عمل دخل برقرار رہے، چیف پیٹرن وزیراعظم کو بنایا گیا تو وہ تبدیلی لا سکتے ہیں، چیئرمین اور مینجمنٹ کو فارغ کرکے عبوری سیٹ اپ لانے کا اختیار بھی انھیں حاصل ہے۔

پی سی بی نے یہ آئین خود ہی آئی سی سی سے منظور کرایا تھا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ محدود اوور کی کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی پر بہت دکھ ہوتا ہے، ملک میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں جب تک ہم گراس روٹ لیول پر نظام بہتر اور معاملات کو پیشہ ورانہ خطوط پر استوار نہیں کرینگے مسائل کم نہیں ہوسکتے۔ ڈومیسٹک ڈھانچے کو نیچے سے اوپر تک بہتر بنانا ہوگا، اسکول ،کلب سے لے کر ڈسٹرکٹ تک سب کچھ ٹھیک کرنا پڑے گا، اس مہم میں 4 سے 5 سال لگ سکتے ہیں لیکن پورا یقین ہے کہ پاکستان کرکٹ عروج کی جانب واپس آسکتی ہے۔
Load Next Story