کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ ہر صورت توڑنا چاہیے

پاک فوج کی جانب سے کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ صائب اور بروقت ہے

اب وقت آ گیا ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت نہ کی جائے۔ فوٹو: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز سگنل رجمنٹل سینٹر کوہاٹ کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقعے پر ان کا کہنا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ سول انتظامیہ اور مسلح افواج ملکر دہشت گردی کو شکست دے رہے ہیں۔ ملک سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے جا رہے ہیں۔ قوم کے تعاون سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ہر سطح پر احتساب لازمی ہے کیونکہ کرپشن کے خاتمے تک امن و امان کا قیام ممکن نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا پاک فوج قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اٹھائے جانے والے ہر قدم کی حمایت کرے گی۔ادھر پیر کو جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں شوال آپریشن کی کامیاب تکمیل کے بعد فاٹا سے باہر دہشت گردوںاوران کے سہولت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر ''کومبنگ آپریشنز'' شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹس کے مطابق آرمی چیف نے یہ ہدایت شوال کے دورے کے دوران جاری کی جہاں انھوں نے فوجی آپریشن کے آخری مرحلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ''کومبنگ آپریشنز'' کسی جگہ دہشت گردوں کی موجودگی پر کیے جائیں گے۔ یہ آپریشنز فاٹا کے علاوہ دیگر علاقوں میں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروںاور ''سلیپرسیلز'' کو تلاش کرنے کے لیے فوری طور پر اور بڑے پیمانے پر کیے جائیں گے۔

بلاشبہ پاکستان میں دہشت گردی اور کرپشن کا گہرا تعلق ہے اور جب تک اس تعلق کو توڑا نہیں جاتا' اس وقت تک وطن عزیز کو جدیدیت اور روشن خیالی کی راہ پر نہیں لایا جا سکتا۔ پاک فوج نے حالیہ برسوں میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے' شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ تھا' یہ ٹھکانہ تباہ ہو چکا ہے' دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے ہیں یا ملک میں چھپے ہوئے ہیں۔


ان کا بچا کھچا نیٹ ورک ابھی زندہ ہے اور اپنے سہولت کاروں کی مدد سے دہشت گردی کی کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔اب ملک بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گردوں کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس وقت ہماری حکومت کی حالت تو یہ ہے کہ راجن پور میں چھوٹو گینگ کا قلع قمع نہیں کیا جا سکا اور یہ گینگ کئی برس سے اپنی کارروائیاں کر رہا ہے۔کچے کے علاقے کو اس نے نو گو ایریا بنا رکھا ہے۔اب یہاں بھی بلاآخر پاک فوج ہی کارروائی کررہی ہے۔

پاک فوج کی جانب سے کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ صائب اور بروقت ہے' دہشت گردوں کے خلاف ہر قسم کا آپریشن کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے۔اس کے علاوہ کرپشن کے ناسور اور بدعنوان عناصر کے کڑے احتساب کے حوالے سے پاک فوج کے سربراہ نے جو کچھ کہا ہے' اسے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے' لیکن اتنا ہی بڑا مسئلہ کرپشن بھی ہے۔ کرپشن نے پاکستان کے معاشرے کے تار و پود بکھیر کررکھ دیے ہیں۔ نظام مفلوج کرنے میں کرپشن کا اہم کردار ہے۔

دہشت گردوں کو زندہ رکھنے میں بھی کرپشن کا ایک رول ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک میں موجود دہشت گردوں کے مختلف گروپ اس وقت تک آپریٹ نہیں کر سکتے جب تک انھیں کہیں سے مالی سپورٹ اور چھپنے کے لیے محفوظ جگہ نہیں ملتی۔ پاکستان میں اب یہ بات کھل گئی ہے کہ کرپشن اور دہشت گردی کا آپس میں گہرا تعلق ہے' اس تعلق کو توڑنا انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت ملک کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کی ہر شکل اور قسم کا خاتمہ ہے' یہ باتیں بھی گاہے بگاہے سامنے آتی رہتی ہیں کہ پاکستان میں ایسے طاقتور گروپس موجود ہیں جو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں' ایسے گروپس ہر جگہ موجود ہو سکتے ہیں۔

معاشرے میں نظریاتی کنفیوژن پھیلانے والے بھی موجود ہیں اور ایسے گروہ بھی موجود ہیں' جن کی فنڈنگ بیرون ملک سے ہوتی ہے' اب دہشت گردی کے خلاف مہم ایک نئے فیز میں داخل ہو گئی ہے' اس فیز میں بہت احتیاط اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے' دہشت گردی کے کئی رخ ہیں' ایک دہشت گردی تو وہ ہے جو ہتھیاروں کے بل پر کی جا رہی ہے۔ ملک میں خود کش حملے کیے جا رہے ہیں' بم دھماکے کیے جا رہے ہیں' دہشت گردی کی ایک قسم نظریاتی کنفیوژن پھیلانا ہے' اور تیسری قسم کرپشن کے ذریعے دولت اکٹھی کرکے دہشت گردوں کو فنڈنگ کرنا یا ملک میں طبقاتی عدم توازن پیدا کر کے نظام کو مفلوج کرنا بھی ہے' اب وقت آ گیا ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت نہ کی جائے۔
Load Next Story