مصطفیٰ کمال کا غیر منطقی مطالبہ
سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
tauceeph@gmail.com
KARACHI:
سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط ہیں، اس ایم کیو ایم پر پابندی لگانا ضروری ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ حکومت اس وقت ایم کیو ایم پر پابندی نہیں لگاتی تو پھر کارکنان کے خلاف آپریشن بند ہونا چاہیے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم ایک رہنما سرفراز مرچنٹ ایم کیو ایم کے را سے تعلقات کے بارے میں ثبوتوں کے ساتھ جوائنٹ انویسٹی گیشن کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔
برطانوی قونصل خانے سے وابستہ سفارتکار شہریارخان نیازی نے ایم کیو ایم اور را کے درمیان ایک معاہدے کا کئی ٹی وی چینلز پر ذکرکیا ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کے لیے خفیہ رائے دہی کے طریقہ کارکو تبدیل کرنے کے خلاف ایم کیو ایم کی عرض داشت قبول کرلی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں فل بینچ نے حکومت سندھ کو حکم دیا ہے کہ میئراور ڈپٹی میئرکے انتخابات کے مراحل دوماہ میں مکمل کرلیے جائیں۔ متحدہ کے وسیم اخترکے میئر کراچی بننے کے امکانات خاصے روشن ہوگئے ہیں۔
ایم کیو ایم نے گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے ،کراچی میںگزشتہ سال آپریشن ضرب عضب کے نئے مرحلے کے آغازکے بعد کراچی میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اس طرح ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات میں بھی اکثریتی جماعت ہونے کا حق حاصل کیا ہوا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم پر پابندی کے مطالبے کا مطلب کراچی کے عوام کی نمایندہ جماعت پر پابندی لگانا ہے۔
اس ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان امریکا کا اتحادی بنا اور سوویت یونین کے خلاف بغیرکسی وجہ کے فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا ۔اور یہ نیا ملک ایک سیکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا تو اس وقت کی حکومت نے ترقی پسند سیاسی جماعتوں طلبہ مزدور اور ادیبوں کی تنظیموں کے خلاف امتناعی انتظامات شروع کردیے تھے۔ لیاقت علی خان کی حکومت میں سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی، ایوب خان نے 1958میں مارشل لاء نافذ کیا تو سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی ۔ بلوچستان میں نیپ کے عطاء اللہ مینگل اورسرحد میں جے یو آئی کے مفتی محمود وزیر اعلیٰ بنے۔
پیپلز پارٹی اور نیپ کے درمیان تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے ، پشاور یونیورسٹی میں پیپلز پارٹی کے رہنما حیات محمد شیرپاؤ ایک جلسے میں دستی بم کے حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگادی ،اس پابندی کی توثیق کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا، سپریم کورٹ نے نیپ پر پابندی کا ریفرنس منظورکرلیا۔ نیشنل عوامی پارٹی اوربائیں بازوکی دوسری جماعتوں کے رہنماؤں ولی خان، میرغوث بخش بزنجو عطاء اللہ مینگل، خیر بخش مری،حبیب جالب، قسورگردیزی قومی محاذ آزادی کے سربراہ پیپلز پارٹی کے منحرف علی بخش تالپور (فریال تالپورکے سسر) سمیت کئی درجن سیاسی کارکن کے خلاف حیدر آباد سازش کیس تیار ہوا۔ ان رہنماؤں کے خلاف ایک خصوصی عدالت نے حیدرآباد میں مقدمہ چلایا ۔
انتخابات میں دھاندلی کے خلاف پی این اے نے احتجاجی تحریک شروع کی تو بھٹو صاحب نے حیدر آباد جیل میں نظر بند رہنماؤں سے رابطے کیے مگر 5جولائی 1977کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا، جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدارکوطول دینے کے لیے انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیے اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عایدکردی۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے سربراہ بیگم نصرت بھٹو نے ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان ،نواب زادہ نصر اللہ خان ، شیر بازخان مزاری اورایئر مارشل اظہرخان سے رابطے کیے جس کے نتیجے میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی قائم ہوئی۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں غدارقرار دیے گئے رہنماؤں کے ساتھ 1973کے آئین کی بحالی اور عام انتخابات کرانے کے لیے جدوجہد کی، جنرل ضیاء الحق کو 1985میں انتخابات کرانے پڑے اور 1988میں جمہوریت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ولی خان اوران کے ساتھیوں نے نیشنل عوامی پارٹی کے بجائے عوامی نیشنل پارٹی قائم کی جوآج پاکستان کے جمہوری نظام کا حصہ ہے۔
ایوب خان نے عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کو جب بھارت سے سازش کے الزام میں اگرتلہ سازش کیس میں ملوث کیا تو ان کی مقبولیت کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس مقبولیت کی بنا پر عوامی لیگ نے 1970کے انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی تاریخ میں ایم کیو ایم ایک مختلف نوعیت کی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم نے مہاجروں کی محرومیوں کو دورکرنے کا نعرہ لگایا، اردو بولنے والی برادری ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے ہجرت کرکے سندھ کے شہری علاقوں کے علاوہ پنجاب اور سرحد کے شہری و دیہی علاقوں میں آباد ہوئی۔ بہت سے خاندان بلوچستان کے شہرکوئٹہ میں بس گئے، پنجاب اور سرحد میں یہ لوگ مقامی آبادی میں ضم ہوگئے۔
مگر سندھ میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ انضمام نہیں ہوسکا ، دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے ، ملک کا نظام چلانے والی بیورو کریسی میں اردو بولنے والوں کی نمایندگی کم ہونے اور ملازمتوں اور فنی تعلیمی اداروں میں کوٹہ سسٹم نافذ ہونے کے بعد اس برادری میں احساس محرومی پیدا ہوا ۔آمرانہ ادوار میں یہ تضادات زیادہ شدید ہوگئے تو ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔ مگر ایم کیو ایم میں ایک بند پارٹی ہونے کی بنا پر شخصیت پرستی اور فاشسٹ رجحانات تقویت پا گئے۔اسٹیبلشمنٹ نے 1987سے 2008کے دوران مختلف ادوار میں ایم کیو ایم کی سرپرستی کی۔
جس کے نتیجے میں 1988سے 1999تک منتخب سول حکومتوں کے لیے یہ ایک چیلنج بنی رہی اور اس بات کے امکانات بھی پیدا ہوئے کہ غیر ملکی ایجنسیاں ایم کیو ایم کے کسی حصے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں ۔ ایم کیو ایم کی قیادت خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ 1992کے آپریشن کے دوران بہت سے نوجوان بھارت چلے گئے تھے مگر ایم کیو ایم کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اپنی کمزوریوں کے باوجود ایک لبرل اور سیکولر فورس کے طور پر سامنے آئی ہے، ایم کیو ایم میں خاص طور پرکراچی کوایک جدید شہرمیں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر مصطفیٰ کمال کے دور میں ہونے والی اس ترقی کا محور متوسط طبقے کی آبادیاں تھیں۔
2008میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد شہروں کی ترقی کے فریضے کو بھول گئی کراچی سمیت اندرون سندھ کے شہر کوڑے دان میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ ناپید ہوچکی ہے، شہر میں سردیوں میں بھی پانی و بجلی کا شدید بحران رہا ہے، شہری علاقوں کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہوچکے ہیں اگرچہ بعض ماہرین کراچی میں تعلیمی شعبے کی تباہی زمینوں کی چائنہ کٹنگ اور ماس ٹرانزٹ منصوبے کی ذمے داری ایم کیو ایم پر عاید کرتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کی بے حسی کی وجہ سے عام آدمی کی امیدیں ایم کیو ایم سے وابستہ ہیں۔ اس صورتحال کا حل ایم کیو ایم پر پابندی لگانا نہیں ورنہ عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی کی تاریخ دہرائی جائے گی۔ اس مسئلے کا حقیقی حل یہ ہے کہ پورے سندھ کو اسلحے سے پاک کیا جائے، قانون کے نفاذ میں کسی سے بھی رعایت نہ کی جائے۔
بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیار دیے جائیں سیاسی جماعتیں از خود عسکری ونگ ختم کردیں، سرکاری ملازمتیں آزادانہ اور خود مختار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں اور اچھی طرز حکومت کے لیے اطلاعات کے حصول کے قوانین کو موثر بنایا جائے اس طرح ہی سندھ ترقی کی جانب گامزن ہوگا، غیر ملکی ایجنسیوں کے عزائم خود بخود ناکام ہوجائیں گے، ایم کیو ایم پر پابندی کا مطلب ایک نئے بحران کو جنم دینا ہے۔
سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط ہیں، اس ایم کیو ایم پر پابندی لگانا ضروری ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ حکومت اس وقت ایم کیو ایم پر پابندی نہیں لگاتی تو پھر کارکنان کے خلاف آپریشن بند ہونا چاہیے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم ایک رہنما سرفراز مرچنٹ ایم کیو ایم کے را سے تعلقات کے بارے میں ثبوتوں کے ساتھ جوائنٹ انویسٹی گیشن کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔
برطانوی قونصل خانے سے وابستہ سفارتکار شہریارخان نیازی نے ایم کیو ایم اور را کے درمیان ایک معاہدے کا کئی ٹی وی چینلز پر ذکرکیا ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کے لیے خفیہ رائے دہی کے طریقہ کارکو تبدیل کرنے کے خلاف ایم کیو ایم کی عرض داشت قبول کرلی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں فل بینچ نے حکومت سندھ کو حکم دیا ہے کہ میئراور ڈپٹی میئرکے انتخابات کے مراحل دوماہ میں مکمل کرلیے جائیں۔ متحدہ کے وسیم اخترکے میئر کراچی بننے کے امکانات خاصے روشن ہوگئے ہیں۔
ایم کیو ایم نے گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے ،کراچی میںگزشتہ سال آپریشن ضرب عضب کے نئے مرحلے کے آغازکے بعد کراچی میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اس طرح ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات میں بھی اکثریتی جماعت ہونے کا حق حاصل کیا ہوا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم پر پابندی کے مطالبے کا مطلب کراچی کے عوام کی نمایندہ جماعت پر پابندی لگانا ہے۔
اس ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان امریکا کا اتحادی بنا اور سوویت یونین کے خلاف بغیرکسی وجہ کے فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا ۔اور یہ نیا ملک ایک سیکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا تو اس وقت کی حکومت نے ترقی پسند سیاسی جماعتوں طلبہ مزدور اور ادیبوں کی تنظیموں کے خلاف امتناعی انتظامات شروع کردیے تھے۔ لیاقت علی خان کی حکومت میں سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی، ایوب خان نے 1958میں مارشل لاء نافذ کیا تو سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی ۔ بلوچستان میں نیپ کے عطاء اللہ مینگل اورسرحد میں جے یو آئی کے مفتی محمود وزیر اعلیٰ بنے۔
پیپلز پارٹی اور نیپ کے درمیان تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے ، پشاور یونیورسٹی میں پیپلز پارٹی کے رہنما حیات محمد شیرپاؤ ایک جلسے میں دستی بم کے حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگادی ،اس پابندی کی توثیق کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا، سپریم کورٹ نے نیپ پر پابندی کا ریفرنس منظورکرلیا۔ نیشنل عوامی پارٹی اوربائیں بازوکی دوسری جماعتوں کے رہنماؤں ولی خان، میرغوث بخش بزنجو عطاء اللہ مینگل، خیر بخش مری،حبیب جالب، قسورگردیزی قومی محاذ آزادی کے سربراہ پیپلز پارٹی کے منحرف علی بخش تالپور (فریال تالپورکے سسر) سمیت کئی درجن سیاسی کارکن کے خلاف حیدر آباد سازش کیس تیار ہوا۔ ان رہنماؤں کے خلاف ایک خصوصی عدالت نے حیدرآباد میں مقدمہ چلایا ۔
انتخابات میں دھاندلی کے خلاف پی این اے نے احتجاجی تحریک شروع کی تو بھٹو صاحب نے حیدر آباد جیل میں نظر بند رہنماؤں سے رابطے کیے مگر 5جولائی 1977کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا، جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدارکوطول دینے کے لیے انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیے اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عایدکردی۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے سربراہ بیگم نصرت بھٹو نے ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان ،نواب زادہ نصر اللہ خان ، شیر بازخان مزاری اورایئر مارشل اظہرخان سے رابطے کیے جس کے نتیجے میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی قائم ہوئی۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں غدارقرار دیے گئے رہنماؤں کے ساتھ 1973کے آئین کی بحالی اور عام انتخابات کرانے کے لیے جدوجہد کی، جنرل ضیاء الحق کو 1985میں انتخابات کرانے پڑے اور 1988میں جمہوریت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ولی خان اوران کے ساتھیوں نے نیشنل عوامی پارٹی کے بجائے عوامی نیشنل پارٹی قائم کی جوآج پاکستان کے جمہوری نظام کا حصہ ہے۔
ایوب خان نے عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کو جب بھارت سے سازش کے الزام میں اگرتلہ سازش کیس میں ملوث کیا تو ان کی مقبولیت کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس مقبولیت کی بنا پر عوامی لیگ نے 1970کے انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی تاریخ میں ایم کیو ایم ایک مختلف نوعیت کی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم نے مہاجروں کی محرومیوں کو دورکرنے کا نعرہ لگایا، اردو بولنے والی برادری ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے ہجرت کرکے سندھ کے شہری علاقوں کے علاوہ پنجاب اور سرحد کے شہری و دیہی علاقوں میں آباد ہوئی۔ بہت سے خاندان بلوچستان کے شہرکوئٹہ میں بس گئے، پنجاب اور سرحد میں یہ لوگ مقامی آبادی میں ضم ہوگئے۔
مگر سندھ میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ انضمام نہیں ہوسکا ، دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے ، ملک کا نظام چلانے والی بیورو کریسی میں اردو بولنے والوں کی نمایندگی کم ہونے اور ملازمتوں اور فنی تعلیمی اداروں میں کوٹہ سسٹم نافذ ہونے کے بعد اس برادری میں احساس محرومی پیدا ہوا ۔آمرانہ ادوار میں یہ تضادات زیادہ شدید ہوگئے تو ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔ مگر ایم کیو ایم میں ایک بند پارٹی ہونے کی بنا پر شخصیت پرستی اور فاشسٹ رجحانات تقویت پا گئے۔اسٹیبلشمنٹ نے 1987سے 2008کے دوران مختلف ادوار میں ایم کیو ایم کی سرپرستی کی۔
جس کے نتیجے میں 1988سے 1999تک منتخب سول حکومتوں کے لیے یہ ایک چیلنج بنی رہی اور اس بات کے امکانات بھی پیدا ہوئے کہ غیر ملکی ایجنسیاں ایم کیو ایم کے کسی حصے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں ۔ ایم کیو ایم کی قیادت خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ 1992کے آپریشن کے دوران بہت سے نوجوان بھارت چلے گئے تھے مگر ایم کیو ایم کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اپنی کمزوریوں کے باوجود ایک لبرل اور سیکولر فورس کے طور پر سامنے آئی ہے، ایم کیو ایم میں خاص طور پرکراچی کوایک جدید شہرمیں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر مصطفیٰ کمال کے دور میں ہونے والی اس ترقی کا محور متوسط طبقے کی آبادیاں تھیں۔
2008میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد شہروں کی ترقی کے فریضے کو بھول گئی کراچی سمیت اندرون سندھ کے شہر کوڑے دان میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ ناپید ہوچکی ہے، شہر میں سردیوں میں بھی پانی و بجلی کا شدید بحران رہا ہے، شہری علاقوں کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہوچکے ہیں اگرچہ بعض ماہرین کراچی میں تعلیمی شعبے کی تباہی زمینوں کی چائنہ کٹنگ اور ماس ٹرانزٹ منصوبے کی ذمے داری ایم کیو ایم پر عاید کرتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کی بے حسی کی وجہ سے عام آدمی کی امیدیں ایم کیو ایم سے وابستہ ہیں۔ اس صورتحال کا حل ایم کیو ایم پر پابندی لگانا نہیں ورنہ عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی کی تاریخ دہرائی جائے گی۔ اس مسئلے کا حقیقی حل یہ ہے کہ پورے سندھ کو اسلحے سے پاک کیا جائے، قانون کے نفاذ میں کسی سے بھی رعایت نہ کی جائے۔
بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیار دیے جائیں سیاسی جماعتیں از خود عسکری ونگ ختم کردیں، سرکاری ملازمتیں آزادانہ اور خود مختار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں اور اچھی طرز حکومت کے لیے اطلاعات کے حصول کے قوانین کو موثر بنایا جائے اس طرح ہی سندھ ترقی کی جانب گامزن ہوگا، غیر ملکی ایجنسیوں کے عزائم خود بخود ناکام ہوجائیں گے، ایم کیو ایم پر پابندی کا مطلب ایک نئے بحران کو جنم دینا ہے۔