آخری موقع ہے
ملک کے چاروں صوبوں میں اگر کوئی مکمل طور پر وزیر اعلیٰ بااختیار نظر آتا ہے
KARACHI:
پیپلزپارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے سلسلے میں شاید چھوٹے میاں نے بڑے میاں کے خلاف سازش کی ہو جس کے نتیجے میں وزیراعظم نواز شریف مشکل میں ہیں اور انھیں اپوزیشن کے مطالبے پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم کے خلاف انتہائی طور پر اختیار کیے گئے جارحانہ رویے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اعتزاز احسن کو شریف برادران سے ذاتی طور پر سخت تکلیف پہنچی ہے اور انھیں یہ بھی الہام ہو گیا کہ نواز شریف علاج کے لیے نہیں پاناما لیکس کے معاملے پر آصف زرداری کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے لندن گئے۔
چوہدری اعتزاز وزیراعظم سے اس قدر خفا ہیں کہ انھوں نے اپنے سیاسی قائد کو فون بھی کر دیا کہ وہ لندن میں نواز شریف سے نہ ملیں وگرنہ پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا۔ واضح رہے کہ چوہدری اعتزاز وہی پی پی رہنما ہیں، جنھوں نے پی پی دور حکومت کے 5 سالوں میں کرپشن کے شور میں مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی اور لندن میں سرے محل کے معاملے پر بھی کبھی نہیں بولے البتہ انھوں نے ججوں کی بحالی کی تحریک پی پی کی مرضی کے خلاف چلائی تھی اور بعد میں سینیٹر بن کر ان کی پالیسی تبدیل ہو گئی تھی۔
تیسری بار ملک کا وزیر اعظم اور تیسری بار پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے والے شریف برادران شروع سے ہی چوہدری اعتزاز کے لیے نرم گوشہ رکھتے آئے ہیں اور اعتزاز احسن نواز شریف کے وکیل بھی رہے مگر اس بار انھوں نے اپنی سیاست کے لیے نہ صرف ان کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا بلکہ دونوں بھائیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کا بھی بیان داغ دیا۔ سیاست میں رواداری اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔
ملک کے چاروں صوبوں میں اگر کوئی مکمل طور پر وزیر اعلیٰ بااختیار نظر آتا ہے اس کی وجہ ان کے بڑے بھائی کا وزیر اعظم ہونا تو ہے ہی مگر انتظامی صلاحیتوں میں وہ اپنے بڑے بھائی سے بھی آگے نظر آتے ہیں اور انھیں نواز شریف کا مکمل اعتماد حاصل ہونا بھی نظر آتا ہے مگر پاناما لیکس کے معاملے پر وہ خاموش نظر آئے اور آف شور کمپنیاں بنانے کے معاملے میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا کہیں نام نہیں ہے اور اس وقت ٹارگٹ صرف وزیراعظم اور ان کا خاندان بنا ہوا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف تقریباً تین عشروں سے سیاست میں ہیں مگر دونوں کی عوامی سیاست مختلف ہے۔
شہباز شریف کو جذباتی سمجھا جاتا ہے اور وہ نہ صرف عوامی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں، ان کی سنتے ہیں اپنی سناتے ہیں اور اپنے عوامی انداز سے لوگوں کو متاثر بھی کرتے ہیں۔ وہ بارش کے پانی میں اتر جاتے ہیں، سیلاب کے متاثرین کے پاس پہنچنے کے علاوہ کسی اہم مسئلے پر دور دراز علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ شہباز شریف متعدد امراض کا بھی شکار ہیں مگر اپنی صحت کی اتنی پرواہ نہیں کرتے، جتنی ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق انھیں کرنی چاہیے۔
شہباز شریف محنتی شخص ہیں وہ دن دیکھتے ہیں نہ رات وہ ہمیشہ چوکس رہتے ہیں اور پنجاب کے دور دراز کے اضلاع کے افسروں میں بھی یہ خوف رہتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نہ جانے کب ان کے پاس پہنچ جائیں اور ان کی شامت نہ آ جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا انتظامی صلاحیتوں میں وزیراعظم اور کوئی وزیر اعلیٰ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ نہ صرف خود دن رات کام کرتے ہیں بلکہ کام لینا بھی جانتے ہیں۔
پنجاب کی گزشتہ حکومت میں وہ تقریباً 5 سال وزیر اعلیٰ رہے جب کہ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ پنجاب کو وفاق سے کم فنڈز ملے مگر شہباز شریف نے تینوں صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے جب کہ مقررہ مدت میں لاہور کو جدید میٹرو بس کی سہولت فراہم کرائی جو ملک بھر میں کہیں نہیں تھی۔ میٹرو اور پنجاب حکومت کی گزشتہ کارکردگی نے ہی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو شاندار کامیابی دلائی جس کے نتیجے میں نواز شریف وزیراعظم بنے۔ پنجاب کی ریکارڈ ترقی کا کریڈٹ بلاشبہ شہباز شریف کو جاتا ہے۔
شہباز شریف پر الزام لگتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی طرح اسمبلی کے اجلاس میں آتے ہیں نہ باقاعدگی سے اپنی کابینہ سے اجلاس کرتے ہیں۔ شہباز شریف جذباتی ہونے کے ساتھ غصے کے بھی تیز ہیں جس کی وجہ سے پنجاب کے افسران اور پولیس وزیر اعلیٰ سے خوفزدہ رہتی ہے۔
شہباز شریف کام کے معاملے میں لحاظ کے قائل نہیں اور اپنے احکامات کی تعمیل چاہتے ہیں اور خود کو وزیر اعلیٰ کی بجائے خادم اعلیٰ کہلاتے ہیں اور اکثر پنجاب کے دور دراز کے اضلاع کے بھی دورے کر کے عوام سے ملتے رہتے ہیں اور وہاں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے کر ہدایات دیتے ہیں جس کی وجہ سے پنجاب میں تعمیری و ترقیاتی کام دیگر صوبوں کے مقابلے میں جلد مکمل ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کاموں کے معیار پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ کرپشن کو مکمل طور پر روکنے کا دعویٰ تو نہیں کرتے مگر پنجاب میں کرپشن دیگر صوبوں سے کم مگر ترقی میں پنجاب آگے ہے۔
شاہانہ مزاج کے حامل وزیراعظم نواز شریف نہ شہباز شریف کی طرح محنتی ہیں نہ وہ انتظامی صلاحیت میں ان سے بہتر ہیں، نواز شریف اپنے مقررہ وقت تک سرکاری معاملات نمٹاتے ہیں اور بعد میں گھر کے ہو جاتے ہیں اس لیے وفاقی افسروں کو وزیر اعظم کے اچانک دوروں کا خوف ہے نہ باز پرس کا ڈر۔ نواز شریف صرف اپنی ضرورت پر ہی قومی اسمبلی آنا پسند کرتے ہیں اور جلد چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے ایک سال تک سینیٹ آنا گوارا نہ کیا جس پر سینیٹ میں اس پر احتجاج بھی ہوا۔ نواز شریف اپنے خاص لوگوں پر ہی اعتماد کرتے ہیں اور وفاقی کابینہ اور اہم آئینی اداروں کے باقاعدگی سے نواز شریف اجلاس طلب نہیں کرتے اور چند اہم وزیروں کی کچن کیبنٹ سے ہی مشاورت ضروری کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت میں اہم عہدے مہینوں خالی پڑے رہتے ہیں۔ تقرر و تعیناتیوں میں وفاقی حکومت کوئی اچھی مثال نہیں پیش کر سکی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف عوام کو تو کیا اپنے وزیروں اور ارکان اسمبلی کو بھی وقت نہیں دیتے۔ ملک کے چند بڑے شہروں کے علاوہ وزیر اعظم اندرون ملک اضلاع کے دورے نہیں کرتے اور عوام اپنے وزیراعظم کی شکل صرف ٹی وی پر ہی دیکھ پاتے ہیں۔ اندرون ملک کی بجائے بیرون ممالک کے وزیراعظم کے دوروں پر تنقید بھی ہوتی ہے اور انھیں صرف پنجاب کا وزیراعظم قرار دیا جاتا ہے۔
نواز شریف کی اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) پر بھی توجہ نہیں ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) صرف اقتدار کی حد تک ہے۔ سندھ میں خود اپنے سابق وزرائے اعلیٰ اور مسلم لیگ کے لیے نواز شریف کے پاس وقت نہیں ہے اپنے بااعتماد لوگوں پر نواز شریف بھی آصف زرداری کی طرح مہربان رہتے ہیں وعدے کر کے بھول جانا نواز شریف اور شہباز شریف کی پالیسی یکساں ہے۔ اب آخری موقع ہے نواز شریف حقائق اور عوامی خواہشات کا ادراک کر لیں اور گزشتہ ادوار کی غلطیاں نہ دہرائیں۔ وقت کبھی کسی کا ہوا ہے نہ ایک جیسا رہتا ہے اس لیے رویوں اور طرز حکمرانی میں فوری تبدیلی ضروری ہے۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے سلسلے میں شاید چھوٹے میاں نے بڑے میاں کے خلاف سازش کی ہو جس کے نتیجے میں وزیراعظم نواز شریف مشکل میں ہیں اور انھیں اپوزیشن کے مطالبے پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم کے خلاف انتہائی طور پر اختیار کیے گئے جارحانہ رویے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اعتزاز احسن کو شریف برادران سے ذاتی طور پر سخت تکلیف پہنچی ہے اور انھیں یہ بھی الہام ہو گیا کہ نواز شریف علاج کے لیے نہیں پاناما لیکس کے معاملے پر آصف زرداری کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے لندن گئے۔
چوہدری اعتزاز وزیراعظم سے اس قدر خفا ہیں کہ انھوں نے اپنے سیاسی قائد کو فون بھی کر دیا کہ وہ لندن میں نواز شریف سے نہ ملیں وگرنہ پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا۔ واضح رہے کہ چوہدری اعتزاز وہی پی پی رہنما ہیں، جنھوں نے پی پی دور حکومت کے 5 سالوں میں کرپشن کے شور میں مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی اور لندن میں سرے محل کے معاملے پر بھی کبھی نہیں بولے البتہ انھوں نے ججوں کی بحالی کی تحریک پی پی کی مرضی کے خلاف چلائی تھی اور بعد میں سینیٹر بن کر ان کی پالیسی تبدیل ہو گئی تھی۔
تیسری بار ملک کا وزیر اعظم اور تیسری بار پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے والے شریف برادران شروع سے ہی چوہدری اعتزاز کے لیے نرم گوشہ رکھتے آئے ہیں اور اعتزاز احسن نواز شریف کے وکیل بھی رہے مگر اس بار انھوں نے اپنی سیاست کے لیے نہ صرف ان کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا بلکہ دونوں بھائیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کا بھی بیان داغ دیا۔ سیاست میں رواداری اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔
ملک کے چاروں صوبوں میں اگر کوئی مکمل طور پر وزیر اعلیٰ بااختیار نظر آتا ہے اس کی وجہ ان کے بڑے بھائی کا وزیر اعظم ہونا تو ہے ہی مگر انتظامی صلاحیتوں میں وہ اپنے بڑے بھائی سے بھی آگے نظر آتے ہیں اور انھیں نواز شریف کا مکمل اعتماد حاصل ہونا بھی نظر آتا ہے مگر پاناما لیکس کے معاملے پر وہ خاموش نظر آئے اور آف شور کمپنیاں بنانے کے معاملے میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا کہیں نام نہیں ہے اور اس وقت ٹارگٹ صرف وزیراعظم اور ان کا خاندان بنا ہوا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف تقریباً تین عشروں سے سیاست میں ہیں مگر دونوں کی عوامی سیاست مختلف ہے۔
شہباز شریف کو جذباتی سمجھا جاتا ہے اور وہ نہ صرف عوامی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں، ان کی سنتے ہیں اپنی سناتے ہیں اور اپنے عوامی انداز سے لوگوں کو متاثر بھی کرتے ہیں۔ وہ بارش کے پانی میں اتر جاتے ہیں، سیلاب کے متاثرین کے پاس پہنچنے کے علاوہ کسی اہم مسئلے پر دور دراز علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ شہباز شریف متعدد امراض کا بھی شکار ہیں مگر اپنی صحت کی اتنی پرواہ نہیں کرتے، جتنی ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق انھیں کرنی چاہیے۔
شہباز شریف محنتی شخص ہیں وہ دن دیکھتے ہیں نہ رات وہ ہمیشہ چوکس رہتے ہیں اور پنجاب کے دور دراز کے اضلاع کے افسروں میں بھی یہ خوف رہتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نہ جانے کب ان کے پاس پہنچ جائیں اور ان کی شامت نہ آ جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا انتظامی صلاحیتوں میں وزیراعظم اور کوئی وزیر اعلیٰ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ نہ صرف خود دن رات کام کرتے ہیں بلکہ کام لینا بھی جانتے ہیں۔
پنجاب کی گزشتہ حکومت میں وہ تقریباً 5 سال وزیر اعلیٰ رہے جب کہ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ پنجاب کو وفاق سے کم فنڈز ملے مگر شہباز شریف نے تینوں صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے جب کہ مقررہ مدت میں لاہور کو جدید میٹرو بس کی سہولت فراہم کرائی جو ملک بھر میں کہیں نہیں تھی۔ میٹرو اور پنجاب حکومت کی گزشتہ کارکردگی نے ہی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو شاندار کامیابی دلائی جس کے نتیجے میں نواز شریف وزیراعظم بنے۔ پنجاب کی ریکارڈ ترقی کا کریڈٹ بلاشبہ شہباز شریف کو جاتا ہے۔
شہباز شریف پر الزام لگتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی طرح اسمبلی کے اجلاس میں آتے ہیں نہ باقاعدگی سے اپنی کابینہ سے اجلاس کرتے ہیں۔ شہباز شریف جذباتی ہونے کے ساتھ غصے کے بھی تیز ہیں جس کی وجہ سے پنجاب کے افسران اور پولیس وزیر اعلیٰ سے خوفزدہ رہتی ہے۔
شہباز شریف کام کے معاملے میں لحاظ کے قائل نہیں اور اپنے احکامات کی تعمیل چاہتے ہیں اور خود کو وزیر اعلیٰ کی بجائے خادم اعلیٰ کہلاتے ہیں اور اکثر پنجاب کے دور دراز کے اضلاع کے بھی دورے کر کے عوام سے ملتے رہتے ہیں اور وہاں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے کر ہدایات دیتے ہیں جس کی وجہ سے پنجاب میں تعمیری و ترقیاتی کام دیگر صوبوں کے مقابلے میں جلد مکمل ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کاموں کے معیار پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ کرپشن کو مکمل طور پر روکنے کا دعویٰ تو نہیں کرتے مگر پنجاب میں کرپشن دیگر صوبوں سے کم مگر ترقی میں پنجاب آگے ہے۔
شاہانہ مزاج کے حامل وزیراعظم نواز شریف نہ شہباز شریف کی طرح محنتی ہیں نہ وہ انتظامی صلاحیت میں ان سے بہتر ہیں، نواز شریف اپنے مقررہ وقت تک سرکاری معاملات نمٹاتے ہیں اور بعد میں گھر کے ہو جاتے ہیں اس لیے وفاقی افسروں کو وزیر اعظم کے اچانک دوروں کا خوف ہے نہ باز پرس کا ڈر۔ نواز شریف صرف اپنی ضرورت پر ہی قومی اسمبلی آنا پسند کرتے ہیں اور جلد چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے ایک سال تک سینیٹ آنا گوارا نہ کیا جس پر سینیٹ میں اس پر احتجاج بھی ہوا۔ نواز شریف اپنے خاص لوگوں پر ہی اعتماد کرتے ہیں اور وفاقی کابینہ اور اہم آئینی اداروں کے باقاعدگی سے نواز شریف اجلاس طلب نہیں کرتے اور چند اہم وزیروں کی کچن کیبنٹ سے ہی مشاورت ضروری کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت میں اہم عہدے مہینوں خالی پڑے رہتے ہیں۔ تقرر و تعیناتیوں میں وفاقی حکومت کوئی اچھی مثال نہیں پیش کر سکی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف عوام کو تو کیا اپنے وزیروں اور ارکان اسمبلی کو بھی وقت نہیں دیتے۔ ملک کے چند بڑے شہروں کے علاوہ وزیر اعظم اندرون ملک اضلاع کے دورے نہیں کرتے اور عوام اپنے وزیراعظم کی شکل صرف ٹی وی پر ہی دیکھ پاتے ہیں۔ اندرون ملک کی بجائے بیرون ممالک کے وزیراعظم کے دوروں پر تنقید بھی ہوتی ہے اور انھیں صرف پنجاب کا وزیراعظم قرار دیا جاتا ہے۔
نواز شریف کی اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) پر بھی توجہ نہیں ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) صرف اقتدار کی حد تک ہے۔ سندھ میں خود اپنے سابق وزرائے اعلیٰ اور مسلم لیگ کے لیے نواز شریف کے پاس وقت نہیں ہے اپنے بااعتماد لوگوں پر نواز شریف بھی آصف زرداری کی طرح مہربان رہتے ہیں وعدے کر کے بھول جانا نواز شریف اور شہباز شریف کی پالیسی یکساں ہے۔ اب آخری موقع ہے نواز شریف حقائق اور عوامی خواہشات کا ادراک کر لیں اور گزشتہ ادوار کی غلطیاں نہ دہرائیں۔ وقت کبھی کسی کا ہوا ہے نہ ایک جیسا رہتا ہے اس لیے رویوں اور طرز حکمرانی میں فوری تبدیلی ضروری ہے۔