سی این جی سلنڈرز کی غیر قانونی درآمد تحقیقات رکوانے کیلئے دباؤ

پابندی کے باوجود وی بوک اور اپریزمنٹ کلکٹریٹ نے 30 ہزار سے زائد بھارتی سلنڈرز کی جعلی دستاویزات پر کلیئرنس دی۔

کسٹمزنے تفصیلات حاصل کرلیں،3 کمپنیوں کیخلاف مقدمہ، بااثر امپورٹرز مزید کیسز کا اندراج رکوانے کیلیے دبائو ڈال رہے ہیں، ذرائع فوٹو فائل۔

حکومت اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے مبینہ دبائو پر محکمہ کسٹمز سے غیرقانونی طور پر کلیئر ہونیوالے زائد المیعاد 30 ہزار سی این جی سلنڈرز کی تحقیقات خطرے میں پڑگئی۔


واضح رہے کہ تجارتی پالیسی آرڈرمجریہ 2009 کے پیراگراف 5، سب پیراگرافA اوریکم فروری 2012 کو جاری ہونے والے ایس آراو نمبر 84(I)/2012 کے تحت سی این جی سلنڈرز کی درآمدپر پابندی عائد ہے لیکن اس پابندی کے باوجود محکمہ کسٹمز کے وی بوک اور اپریزمنٹ کلکٹریٹ نے30 ہزار سے زائد بھارتی سی این جی سلنڈرز کی کلیئرنس دی جو جعلی دستاویزات اور جعلی بل آف لیڈنگ کی بنیاد پر کی گئی۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر کراچی نے بھارت سے درآمد ہونے والے تمام سی این جی سلنڈرز کی مکمل تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور ابتدائی طور پر2 ہزار 946 سی این جی سلنڈرز غیرقانونی درآمد کرنے والی 3کمپنیوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرلی ہے لیکن حکومتی حلقوں میں درآمدکنندگان کے اعلیٰ اثرورسوخ کے باعث ڈائریکٹریٹ پر مبینہ طور پرمزید مقدمات قائم نہ کرنے کے لیے دبائو ڈالا جارہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز کے ایک ایڈیشنل کلکٹر نے سی این جی سلنڈرز کے مذکورہ کنسائنمنٹس خلاف ضابطہ ریلیز کردیے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومتی حلقوں میں اثرورسوخ رکھنے والے عناصر کے انہی ہتھکنڈوں کے نتیجے میں کسٹمز کی سطح پر بے قاعدگیوں پر قابو پانا مشکل ہوگیا ہے جس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جعلی ایف ٹی اے سرٹیفکیٹس اور مس ڈیکلریشنز کا رحجان بڑھتا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ وی بوک کے شعبہ آراینڈڈی نے حال ہی میں انڈرانوائسنگ، جعلی پوسٹ ڈیٹڈچیکس، ایس آراو، جعلی ایف ٹی اے سرٹیفکیٹ اورمس ڈیکلریشن کے93 کیسز میں ڈیوٹی ٹیکسوں کی مد میں چوری ہونے والے 6کروڑ 8 لاکھ 45 ہزار 821 روپے مالیت کا ریونیو وصول کیا لیکن اب بھی مختلف تنازعات کے تصفیے نہ ہونے کی وجہ سے 3 کروڑ 46 لاکھ 47 ہزار443روپے مالیت کی کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوںکی وصولیاں رکی ہوئی ہیں۔
Load Next Story