آتشزدگی کیس کی تفتیش مکملعدالت میں چالان داخل

دروازے بند ہونے سے مزدورعمارت باہرنہ نکل سکے،مالکان بھی جائے حادثہ سے چلے گئے.

فیکٹری میں نصب ہائیڈرنٹ اور آگ بجھانے کے آلات تک موجود نہ تھے،پولیس فوٹو: اے ایف پی

SUKKUR:
تھانہ سائٹ بی نے سانحہ بلدیہ آتشزدگی کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد ملزمان فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ ، عبدالعزیز بھائیلہ ، شاہد بھائیلہ ، جنرل منیجر منصور احمد ، سیکیورٹی گارڈ فضل محمد ، علی محمد اورارشد محمود کے خلاف مقدمے کا چالان جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری کی عدالت میں جمع کرادیا ۔

چالان میں شاہ رخ لطیف، ماجد بیگ اورمحمد حنیف کوضابطہ فوجداری کے ایکٹ 512 کے تحت مفرور قرار دیا ہے، پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے ایکسپلوزیوایکسپرٹ کے مطابق واقعے کے روز فیکٹری کے گودام گرائونڈ فلور میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی تھی جبکہ الیکٹرک انسپکٹر اور سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں آتشزدگی کی کوئی ٹھوس وجہ نہ تھی۔


تاہم الیکٹرک انسپکٹر کے بیان اور رپورٹ کے مطابق فیکٹری کے اندر 210کلو واٹ بجلی کی اجازت تھی جبکہ 318 کلو واٹ بجلی کی مقدار استعمال میں تھی اور خدشہ ظاہر کیا کہ الیکٹرک وائر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے شارٹ سرکٹ سے آگ لگی،تفتیش کے دوران گواہان کے بیانات سرکاری رپورٹس، سی سیٹی وی ریکارڈنگ، فوٹو گرافس اور ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ فیکٹری میں روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے جیل کا سا گمان ہوتا ہے ،ملزمان فیکٹری مالکان نے سائٹ لمیٹڈ کے منظور شدہ پلان بتاریخ 9مارچ 2004کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرائونڈ فلور کے اوپر لکڑی کے فلور کی تعمیر کی اور اس تعمیر کا معائنہ سائٹ لمیٹڈ سے نہیں کرایا گیا اور سائٹ لمیٹڈ کے قانون کی خلاف ورزی کی۔

فیکٹری ایکٹ 1934 کی تدابیر کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی لیبر ڈپارٹمنٹ، سول ڈیفنس، الیکٹریکل انسپکٹرز سے معائنہ کرایا، فیکٹری مالکان نے مسلسل قانون سے روگردانی کی اور حفاظتی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا اگر قانون پر عمل کیا جاتا اور سیکیورٹی امور سامنے رکھے جاتے تو یہ حادثہ رونما نہ ہوتا ایک اندازے کے مطابق واقعے کے روز فیکٹری کے جس بلاک میں آگ لگی اس کے مختلف فلورز پر لگ بھگ 600ورکرز موجود تھے، آگ لگنے کے بعد مالکان ارشد بھائیلہ، شاہد بھائیلہ جو موقع پر موجود تھے نہ تو انھوں نے فائر برگیڈ طلب کی اور نہ ہی آگ بجھانے والے آلات استعمال کیے، گرائونڈ فلور سے فرسٹ فلور کی جانب جانے والی سیڑھیوں کا دروازہ جو عموماً کھلا رہتا تھا اس وقت بند تھا جسے کھلوانے کی بھی کوشش نہ کی گئی،گواہان کے بیانات سے ثابت ہوا ہے کہ فرسٹ فلور کا دروازہ جو بیت الخلا کے نزدیک تھا عمومی طور پر کھلا ہوتا تھا واقع کے روز بند تھا ۔
Load Next Story