مودی کو واجپائی کیوں یاد آئے

مودی سرکار کو کشمیر سمیت دیگر ایشوز کے حل کے لیے جلد یا بدیر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا

گزشتہ روز مودی کی آمدپرمقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے ۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر کا ایک روزہ دورہ کیا اور سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کے نعرے ''انسانیت ، جمہوریت ، کشمیریت'' کے ساتھ تشریف لائے جہاں انھوں نے ضلع ریاسی کے علاقے کٹرا میں جدید سہولیات سے آراستہ 230 بستروں والے اسپتال کا افتتاح اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی علم کی صدی ہے اور مقبوضہ وادی کے نوجوان اس میں اپنا نام و مقام پیدا کریں گے، جموں وکشمیر کی حکومت اور مرکز مل کر کشمیر کو ترقی کے راستے پر گامزن کریں گے، میں ان مائوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور دیگر ریاستی ارکان اسمبلی و افسران بھی ساتھ تھے۔ محبوبہ مفتی نے جو سابق وزیراعلیٰ مفتی سعید کی صاحبزادی ہیں مودی سے عرض کی کہ کشمیری عوام کو مصائب سے نجات دلائی جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی حکمران جب بھی جموں و کشمیر آتے ہیں یہی راگنی الاپتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کو بے مثال ترقی دی جائے گی ، مگر اس بار نہ معلوم کیوں مودی جی کو اٹل واجپائی بہت یاد آئے ، ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو ان سے بڑی عقیدت تھی، اسی طرح محبوبہ مفتی کا دل رکھنے کی خاطر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ان کے والد مفتی سعید بھی سری نگر اور جموں کے درمیان فاصلوں کو مٹانا چاہتے تھے ۔

لیکن بھارتی وزرائے اعظم کا یہ مشترکہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر کچھ سننا نہیں چاہتے جب کہ کشمیری حریت پسندوں کی خواہشات اور کشمیری عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ و پائیدار حل کے لیے کسی قسم کی ٹھوس پیش رفت کو بھارت نے کبھی اپنا ایجنڈا نہیں بنایا بلکہ اس کے برعکس عالمی رائے کو گمراہ کرنے کا ہر موقع تلاش کیا، پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ بھی کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن کشمیریوں کو بزور طاقت اور بہیمانہ مظالم کے ذریعے خاموش کرنے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے سے ہر بھارتی حکومت ایک دوسرے سے سبقت لیتی رہی۔


اس طرز عمل میں بنیادی تبدیلی آنی چاہیے مگر بھارتی مائنڈسیٹ ''میں نہ مانوں'' سے باز نہیں آتا۔ گزشتہ روز مودی کی آمدپرمقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے ، کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں طلباء نے کپواڑہ اور ہندواڑہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کے قتل کے خلاف کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے احتجاجی مظاہرے کیے ، طلباء قتل میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کر کے سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بھارت کے شہر پانڈی چری میں سینٹرل یونیورسٹی کے طلباء نے بھی کشمیر میں شہریوں کے قتل کے خلاف شمع روشن کر کے پْرامن احتجاجی مظاہرہ کیا، سرینگر کے علاقہ نارہ بل میں شہید طالبعلم سہیل احمد کی پہلی برسی پر ہڑتال کی گئی۔

دریں اثنا نظربند حریت قیادت سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میرواعظ عمر فاروق نے غیر قانونی نظربندی اور کرفیو کے نفاذ کی شدید مذمت کی اور اسے بد ترین ریاستی دہشتگردی قرار دیا۔ یاسین ملک نے کہا کہ بھارت نواز سیاستدان بھارتی فوج کا تزویراتی اثاثہ ہیں، کٹھ پتلی انتظامیہ کا واحد کام بھارتی فورسز کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور نہتے کشمیریوں پر ان کے مظالم اور قتل عام کے واقعات کی پردہ پوشی کرنا ہے۔ کشمیری رہنماؤں کے اس ٹھوس انداز نظر کو تقویت اس بھارتی دعوے سے ملتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیزفائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سامبا سیکٹر میں بھارتی چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔

بھارتی میڈیا نے بی ایس ایف ذرایع کا حوالہ دیتے ہوئے شرانگیزی کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے کچھ لمحے قبل پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی اور سامبا سیکٹر میں بھارتی فوج کی اگلی پوسٹوں پر4 سے 5 رائونڈ فائر کیے گئے تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ یہ حکمت عملی یا پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں، بھارت در حقیقت کشمیر پر قبضہ جاری رکھنے اور کشمیریوں کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کی کسی تجویز پر سنجیدہ ہونے پر تیار نہیں جو خطے میں ارتعاش، اضطراب، بے یقینی ، بدامنی اور مظالم کا بدیہی نتیجہ ہے۔

لہٰذا بھارتی حکمرانوں کے لیے اب بھی وقت ہے کہ اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کریں، اکیسویں صدی میں ظلم و جبر کا روایتی بھارتی تسلسل خود بھارت کے مفاد میں نہیں، مودی سرکار کو کشمیر سمیت دیگر ایشوز کے حل کے لیے جلد یا بدیر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا، وزیراعظم مودی خوشنما وعدوں سے اہل کشمیر کو دھوکا نہیں دے سکتے اور قبل اس کے کہ زمینی حقائق بھارت کو پاکستان سے تصفیہ طلب امور پر فیصلہ کن اور پر امن دوطرفہ بات چیت پر مجبور کردیں بھارتی حکومت کوبی جے پی کے ہندو توا ایجنڈا اور سیاسی کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے خطرناک مضمرات کا پیشگی ادراک کرنا چاہیے، خطہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
Load Next Story