حکومت و سیکیورٹی ادارے کراچی میں فرقہ وارانہ قتل عام بند کرائیں الطاف حسین

زبان،مسلک یاعقیدہ کوئی بھی ہوہم ایک امہ ہیں توپھرفقہ اوراختلاف کی بنیادپرایک دوسرے کی گردنیںکیوں کاٹیں؟علماسے خطاب

کراچی، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام متحدہ قومی موومنٹ کے تحت محرم الحرام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں الطاف حسین کا خطاب سن رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رشوت دینے والے کوتوقابل سزاقراردیا گیاہے۔

جبکہ جس پررشوت لینے کاالزام ہے اس کے بارے میں کہاگیاہے کہ اس کے خلاف تحقیقات کرکے تمام پیسہ سودسمیت واپس لیاجائے،دین اسلام میں رشوت دینے اورلینے کی طرح سوددینا اورسودلینابھی حرام ہے لہٰذااسلامی تعلیمات کی روشنی میں سپریم کورٹ کایہ فیصلہ قطعی غیرشرعی ہے،کراچی میںفرقہ وارانہ فسادات کی سازش کی جارہی ہے اوریہ فرقہ وارانہ قتل اسی سازش کاحصہ ہیں،حکومت اورسیکیورٹی فورسز خدا کیلیے کراچی میں معصوم لوگوں کاقتل عام بندکرائیںکیونکہ اگریہ سلسلہ جاری رہاتوملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

ہم تمام دینی مدارس،علمائے کرام اورمشائخ عظام کادل سے احترام کرتے ہیں اوران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کوپیارمحبت کادرس دیں، عاشورہ محرم کے بعدایم کیوایم کے زیراہتمام ''خلفائے راشدین کانفرنس''کاانعقاد کیاجائے گا۔بدھ کوجناح گراؤنڈ عزیزآبادمیں محرم کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے سلسلے میں منعقدہ علمائے کرام کے ایک اجتماع سے فون پرخطاب کرتے الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنی زندگی کے 35 برس حق پرستی کی جدوجہد میں صرف کردیے ،میں نے جوانی کے ایام دیکھے ضرور ہیں لیکن جوانی کے مزے اورراحتیں نہیں لیں،میں آج تک ایک مشن ومقصد کیلیے دن رات جدوجہد کررہا ہوں اورجب تک زندگی باقی ہے یہی جدوجہد کرتا رہوں گا۔


جب میں نے بزرگان دین کے مزارات کو بم سے اڑانے کے عمل کی مذمت کی تو کہاگیاکہ الطاف حسین پتھروں اور قبروں کو پوجتاہے،کسی بزرگ ہستی کی قبر کی تعظیم وتکریم کرنا اگر غلط ہے تواس کا عذاب مجھ پر ہوگا،اگر کسی بزرگ ہستی کے مزار پر جاکر فاتحہ پڑھنا غلط ہے یااگران مزارات پر جانا گناہ ہے تو میں اس کا سزاوار ہوں اورہرسزا بھگتنے کیلیے تیار ہوںکیونکہ میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر فیصلہ کرنے والاہے۔ الطاف حسین نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ دین اسلام کی تعلیمات میں سچ بولنے،جھوٹ سے پرہیز کرنے،چوری چکاری سے بازرہنے کی تلقین کی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں،لیکن حالیہ فیصلہ میں کہاگیا کہ فلاں فلاں رشوت دینے والا سزا کا مستحق ہے اوررشوت لینے والا سود کے ساتھ پیسے واپس کرے۔

اسلام میں رشوت کی طرح سود دینا اور لینا بھی حرام ہے تو اس کی روشنی میں یہ کیسا فیصلہ ہے یعنی رشوت کے طورپر لیاگیاپیسہ سود یعنی حرام کے ساتھ واپس کیا جائے، یہ فیصلہ غیرشرعی ہے اور جس ملک میں ایسے فیصلے ہونگیں وہاں اللہ کی رحمتوں کی دعائیں کیسے قبول ہوسکتی ہیں؟آپ انصاف کی کرسی پربیٹھ کر گناہ کررہے ہیں لہٰذاآپ کو اللہ کی رحمت کی دعاکے بجائے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! ہم سے ماضی میں جو گناہ سرزد ہوئے ہیں اسے معاف فرما۔ انھوں نے قرآن مجیدکی سورہء بقرۃ کی آیات پڑھتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں ہرعلم عطاکیالیکن ہم نے اسے نہیں پہچانا،جن غیرمسلموں نے اس پر غوروفکرکیاوہ آج سپرطاقت بن گئے اورہم ان کی نقل کرنے پرمجبورہیں۔الطاف حسین نے کہاکہ محرم کا مہینہ حرمت والا مہینہ ہے،اس مہینے کی حرمت و تقدس کاخیال رکھناہرمسلمان کا فرض ہے۔

فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورمذہبی رواداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میںفرقہ وارانہ فسادات کی سازش کی جارہی ہے اوریہ فرقہ وارانہ قتل اسی سازش کاحصہ ہیں،عوام اس سازش کوناکا م بنادیں،ایک دوسرے کا احترام کریں ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلیے علاقائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دیں،اگرشیعہ سنی عوام علاقائی سطح پر رات کوپہرہ دیں توکوئی بھی فسادی آپ کے علاقے میںداخل نہیںہوسکتا۔انھوں نے مطالبہ کیاکہ دہشت گردی اورقتل وغارت گری روکنے اورعوام کی جان ومال کے تحفظ کیلیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں اورمحرام الحرام کے دوران نکالے جانے والے جلوسوں اوراجتماعات کے تحفظ کیلیے تمام تراقدامات کیے جائیں۔ تقریرکے اختتام پراجتماع میں شریک تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے الطاف حسین سے فرداً فرداً گفتگوکی اوران کے خیالات سے مکمل اتفاق کیا۔

Recommended Stories

Load Next Story