صدر نگراں وزیر اعظم اور گورنروں کے انتخابی مہم چلانے پر پابندی وفاقی کابینہ میں بل منظور
ایم این ایزکیلیے انتخابی اخراجات کی حدبڑھاکر50،ایم پی ایزکیلیے 30لاکھ کرنے،کاغذات نامزدگی فیس میںبھی اضافے کی تجاویز
ایم این ایزکیلیے انتخابی اخراجات کی حدبڑھاکر50،ایم پی ایزکیلیے 30لاکھ کرنے،کاغذات نامزدگی فیس میںبھی اضافے کی تجاویز ، فوٹو : فائل
وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل 2012 کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت صدر، نگران وزیراعظم اور گورنرز انتخابی مہم نہیں چلاسکیں گے۔
جبکہ آئینی اداروں پر تنقید کی اجازت نہیں ہوگی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں انتخابی اصلاحات ترمیمی بل 2012، کی منظوری دی گئی ، ایک ٹی وی کے مطابق بل میں انتخابی ضابطہ اخلاق بھی شامل ہے جس کے تحت فوج سمیت آئینی اداروں پر کسی کو تنقید کی اجازت نہیں ہوگی، ایم این ایز کیلئے انتخابی اخراجات کی حد 15 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ جبکہ ایم پی ایز کیلیے اخراجات کی حد 10 لاکھ سے بڑھاکر 30 لاکھ روپے کرنیکی تجاویز بھی بل کے مسودہ میں شامل ہیں، بل کے تحت انتخابی نتائج کیخلاف اپیل 120 روز میں نمٹانی ہوگی، رکن قومی اسمبلی کیلیے کاغذات نامزدگی کی فیس 4 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار اور رکن صوبائی اسمبلی کی 2 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار کرنیکی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔
بل کے تحت الیکشن کمیشن کو مکمل مالی خودمختاری دی جائے گی ، ایک اور ٹی وی کے مطابق بل کے تحت سرکاری دوروں کے دوران صدر، نگران وزیراعظم اور گورنرز انتخابی مہم نہیں چلاسکیں گے۔ اجلاس میں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 ، لینڈ سروے اینڈ میپنگ ترمیمی بل 2012 اور دہشت گردی سے متعلق زیرسماعت مقدمات میں کسی پچیدگی سے بچنے کیلیے بچوں سے متعلق 'نظام انصاف کے ترمیمی بل 2012 ء 'کی منظوری بھی دی جس میں گواہان اورملزم بچوں سے متعلق ضروری شقیں شامل کی گئیں ہیں ۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کابینہ نے کالادھن سفید کرنے کیلیے 2 اسکیمیں متعارف کروانے کیلیے بل کے مسودے کی بھی منظوری دیدی۔
یہ بل پارلیمنٹ کے رواں سیشن کے دوران منظوری کیلیے پیش کیے جانے کی توقع ہے، اے پی پی کے مطابق کابینہ نے کسٹم ایکٹ 1969 ء' سیلزٹیکس ایکٹ 1990 ء' انکم ٹیکس آرڈنینس 2011 ء اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 ء کا جائزہ لیا اوران میں ترمیم کی منظوری دی تاکہ ٹیکس نادہندگان کو ادارہ کار میں لایاجائے ، کابینہ کو بتایاگیا کہ ٹیکس رجسٹریشن انفورسمنٹ انیشی ایٹو2012 وضع کی گئی ہے جو ایک سادہ اسکیم ہے اوراسے نادرا کیساتھ بنکوں کے ذریعے متعارف کرایاجائیگا تاکہ ٹیکس گوشوارے داخل نہ کرانیوالے ایسے لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایاجائے ۔ کابینہ کو بتایاگیا کہ انوسٹمنٹ ٹیکس اسکیم 2012 ء تجویز کی جارہی ہے جس کا اطلاق انکم ٹیکس آرڈی نینس 2001 ء کے سیکشن 120 کی اتھارٹی کے تحت ہوگا جو باقاعدہ ٹیکس نادہندگان اور انکم ٹیکس گوشوارے داخل نہ کرانیوالوں کیلیے ہوگی۔
جنھیں ٹیکس ٹوکن ادائیگی کے ذریعے 50 لاکھ روپے مالیت تک غیرظاہر شدہ آمدن اثاثوں اخراجات کو ظاہر کرنا ہوگا اورمجوزہ ٹوکن کی ادائیگی کیساتھ انوسمنٹ ٹیکس ادا کرتے ہوئے اضافی اثاثوں اور آمدن کو ظاہر کرنا ہوگا۔ سیکریٹری ریونیو ڈویژن نے کابینہ کو بتایا کہ دونوں اسکیموں کو ٹیکس قوانین پر عمل نہ کرنیوالے افراد کیلیے سیفٹی نیٹ تصور نہیں کرنا چاہیے۔ کابینہ نے پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی اورچلی کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت کی بھی منظوری دی۔ دریں اثناء وزیرداخلہ نے کابینہ کو کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دی، کابینہ نے شہر میں امن وامان کی صورتحال پر سخت تشویش کااظہار کیا اوروزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی جائے اورٹھوس تجویز پیش کی جائیں۔کابینہ نے صدر باراک اوباما کو امریکا کا دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی ۔ وزیراعظم نے شرکاء کولائوس میں ہونیو الے ایشیا یورپ سربراہ اجلاس سے بھی آگاہ کیا، قبل ازیں کابینہ نے سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے والد کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ کی ۔
جبکہ آئینی اداروں پر تنقید کی اجازت نہیں ہوگی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں انتخابی اصلاحات ترمیمی بل 2012، کی منظوری دی گئی ، ایک ٹی وی کے مطابق بل میں انتخابی ضابطہ اخلاق بھی شامل ہے جس کے تحت فوج سمیت آئینی اداروں پر کسی کو تنقید کی اجازت نہیں ہوگی، ایم این ایز کیلئے انتخابی اخراجات کی حد 15 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ جبکہ ایم پی ایز کیلیے اخراجات کی حد 10 لاکھ سے بڑھاکر 30 لاکھ روپے کرنیکی تجاویز بھی بل کے مسودہ میں شامل ہیں، بل کے تحت انتخابی نتائج کیخلاف اپیل 120 روز میں نمٹانی ہوگی، رکن قومی اسمبلی کیلیے کاغذات نامزدگی کی فیس 4 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار اور رکن صوبائی اسمبلی کی 2 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار کرنیکی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔
بل کے تحت الیکشن کمیشن کو مکمل مالی خودمختاری دی جائے گی ، ایک اور ٹی وی کے مطابق بل کے تحت سرکاری دوروں کے دوران صدر، نگران وزیراعظم اور گورنرز انتخابی مہم نہیں چلاسکیں گے۔ اجلاس میں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 ، لینڈ سروے اینڈ میپنگ ترمیمی بل 2012 اور دہشت گردی سے متعلق زیرسماعت مقدمات میں کسی پچیدگی سے بچنے کیلیے بچوں سے متعلق 'نظام انصاف کے ترمیمی بل 2012 ء 'کی منظوری بھی دی جس میں گواہان اورملزم بچوں سے متعلق ضروری شقیں شامل کی گئیں ہیں ۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کابینہ نے کالادھن سفید کرنے کیلیے 2 اسکیمیں متعارف کروانے کیلیے بل کے مسودے کی بھی منظوری دیدی۔
یہ بل پارلیمنٹ کے رواں سیشن کے دوران منظوری کیلیے پیش کیے جانے کی توقع ہے، اے پی پی کے مطابق کابینہ نے کسٹم ایکٹ 1969 ء' سیلزٹیکس ایکٹ 1990 ء' انکم ٹیکس آرڈنینس 2011 ء اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 ء کا جائزہ لیا اوران میں ترمیم کی منظوری دی تاکہ ٹیکس نادہندگان کو ادارہ کار میں لایاجائے ، کابینہ کو بتایاگیا کہ ٹیکس رجسٹریشن انفورسمنٹ انیشی ایٹو2012 وضع کی گئی ہے جو ایک سادہ اسکیم ہے اوراسے نادرا کیساتھ بنکوں کے ذریعے متعارف کرایاجائیگا تاکہ ٹیکس گوشوارے داخل نہ کرانیوالے ایسے لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایاجائے ۔ کابینہ کو بتایاگیا کہ انوسٹمنٹ ٹیکس اسکیم 2012 ء تجویز کی جارہی ہے جس کا اطلاق انکم ٹیکس آرڈی نینس 2001 ء کے سیکشن 120 کی اتھارٹی کے تحت ہوگا جو باقاعدہ ٹیکس نادہندگان اور انکم ٹیکس گوشوارے داخل نہ کرانیوالوں کیلیے ہوگی۔
جنھیں ٹیکس ٹوکن ادائیگی کے ذریعے 50 لاکھ روپے مالیت تک غیرظاہر شدہ آمدن اثاثوں اخراجات کو ظاہر کرنا ہوگا اورمجوزہ ٹوکن کی ادائیگی کیساتھ انوسمنٹ ٹیکس ادا کرتے ہوئے اضافی اثاثوں اور آمدن کو ظاہر کرنا ہوگا۔ سیکریٹری ریونیو ڈویژن نے کابینہ کو بتایا کہ دونوں اسکیموں کو ٹیکس قوانین پر عمل نہ کرنیوالے افراد کیلیے سیفٹی نیٹ تصور نہیں کرنا چاہیے۔ کابینہ نے پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی اورچلی کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت کی بھی منظوری دی۔ دریں اثناء وزیرداخلہ نے کابینہ کو کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دی، کابینہ نے شہر میں امن وامان کی صورتحال پر سخت تشویش کااظہار کیا اوروزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی جائے اورٹھوس تجویز پیش کی جائیں۔کابینہ نے صدر باراک اوباما کو امریکا کا دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی ۔ وزیراعظم نے شرکاء کولائوس میں ہونیو الے ایشیا یورپ سربراہ اجلاس سے بھی آگاہ کیا، قبل ازیں کابینہ نے سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے والد کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ کی ۔