قرضے ہی قرضے‘ عوام کی حالت نہ بدل سکی
وزارتِ خزانہ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ فوٹو؛ فائل
KARACHI:
وزارتِ خزانہ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خزانہ نے تحریری بیان میں بتایا کہ پاکستان کا مجموعی غیر ملکی قرضہ 55 کھرب روپے سے زائد ہے جب کہ مقامی قرضوں کی مد میں 131 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔
3 برس میں ملک مزید 5 ارب ڈالر کا مقروض ہوگیا۔ بی بی سی کے مطابق سراج الحق کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت مالیاتی خسارے میں چل رہی ہے لہٰذا ملکی قرضہ واپس کرنے کے لیے مقامی مارکیٹ سے نئی شرائط پر دوبارہ قرضہ لیا گیا۔ موجودہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑے جوش و خروش سے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر کشکول توڑ دیں گے اور غیر ملکی اداروں سے قرضے لینے کے بجائے ایسی اقتصادی پالیسیاں تشکیل دیں گے کہ ملکی وسائل کے اندر رہتے ہوئے خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا جائے گا لیکن اب خود حکومت نے جو اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔
اس سے اس کے غیر ملکی اداروں سے قرضے نہ لینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ اقتصادی نظام چلانے کے لیے ملکی وسائل کو ترقی دینے کے بجائے غیرملکی قرضوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں حکومت نے یہ کہا تھا کہ جب وہ برسراقتدار آئی تو یہ قرضے 48ارب دس کروڑ ڈالر تھے اور اب اس کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں لیے گئے قرضے کہاں استعمال ہوئے اور ملکی ترقی میں ان کا کیا کردار رہا۔
عوام کی صورت حال تو یہ ہے کہ ان کی زندگیوں میں کوئی معاشی انقلاب دکھائی نہیں دیتا' بیروز گاری اور غربت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے' توانائی کا بحران بھی جوں کا توں ہے اور ابھی تک حکومت کوئی بڑا توانائی کا منصوبہ مکمل نہیں کر سکی۔ توانائی بحران کے باعث صنعتوں کی حالت بھی بہتر نہیں ہو سکی۔
حکومت نے اربوں ڈالر کے قرضے لیے جب کہ بتایا جا رہا ہے کہ بعض اداروں کے ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ یہ قرضے کہاں گئے۔ اب بھی حکومت کی طرف سے کوئی ایسی پالیسی نظر نہیں آتی کہ آیندہ وہ اپنی معاشی پالیسیاں چلانے کے لیے غیرملکی قرضے نہیں لے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیندہ بھی حکومت قرضوں پے قرضے لے گی اور ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبتی چلی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خزانہ نے تحریری بیان میں بتایا کہ پاکستان کا مجموعی غیر ملکی قرضہ 55 کھرب روپے سے زائد ہے جب کہ مقامی قرضوں کی مد میں 131 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔
3 برس میں ملک مزید 5 ارب ڈالر کا مقروض ہوگیا۔ بی بی سی کے مطابق سراج الحق کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت مالیاتی خسارے میں چل رہی ہے لہٰذا ملکی قرضہ واپس کرنے کے لیے مقامی مارکیٹ سے نئی شرائط پر دوبارہ قرضہ لیا گیا۔ موجودہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑے جوش و خروش سے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر کشکول توڑ دیں گے اور غیر ملکی اداروں سے قرضے لینے کے بجائے ایسی اقتصادی پالیسیاں تشکیل دیں گے کہ ملکی وسائل کے اندر رہتے ہوئے خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا جائے گا لیکن اب خود حکومت نے جو اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔
اس سے اس کے غیر ملکی اداروں سے قرضے نہ لینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ اقتصادی نظام چلانے کے لیے ملکی وسائل کو ترقی دینے کے بجائے غیرملکی قرضوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں حکومت نے یہ کہا تھا کہ جب وہ برسراقتدار آئی تو یہ قرضے 48ارب دس کروڑ ڈالر تھے اور اب اس کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں لیے گئے قرضے کہاں استعمال ہوئے اور ملکی ترقی میں ان کا کیا کردار رہا۔
عوام کی صورت حال تو یہ ہے کہ ان کی زندگیوں میں کوئی معاشی انقلاب دکھائی نہیں دیتا' بیروز گاری اور غربت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے' توانائی کا بحران بھی جوں کا توں ہے اور ابھی تک حکومت کوئی بڑا توانائی کا منصوبہ مکمل نہیں کر سکی۔ توانائی بحران کے باعث صنعتوں کی حالت بھی بہتر نہیں ہو سکی۔
حکومت نے اربوں ڈالر کے قرضے لیے جب کہ بتایا جا رہا ہے کہ بعض اداروں کے ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ یہ قرضے کہاں گئے۔ اب بھی حکومت کی طرف سے کوئی ایسی پالیسی نظر نہیں آتی کہ آیندہ وہ اپنی معاشی پالیسیاں چلانے کے لیے غیرملکی قرضے نہیں لے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیندہ بھی حکومت قرضوں پے قرضے لے گی اور ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبتی چلی جائے گی۔