جل تو جلال تو
جب بھی سیاستدانوں پر کوئی برا وقت آتا ہے تو جمہوریت بچاؤ مہم کا آغاز ہو جاتا ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جب بھی سیاستدانوں پر کوئی برا وقت آتا ہے تو جمہوریت بچاؤ مہم کا آغاز ہو جاتا ہے۔ 2014ء میں جب عمران خان اور طاہرالقادری نے اسلام آباد میں دھرنا مہم کا آغاز کیا تو یہ قیاس کیا جانے لگا کہ شاید فوج ''مداخلت'' کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس امکان اور شبہے نے اہل سیاست میں ہلچل مچا دی اور 11 جماعتوں کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے اندر جمہوریت کی رکھشا کے لیے تاریخی دھرنا دیا۔ ان کا اجتماعی مطالبہ جمہوریت کو بچانا تھا۔ 2014ء میں جمہوریت اس لیے بچ گئی کہ ایمپائر عمران خان کی توقع کے مطابق انگلی نہیں کھڑی کر سکے۔
اس بحران میں بھی میاں صاحب کی حکومت ڈول رہی تھی لیکن نواز شریف کے لیے ''اللہ کا فضل'' کارآمد رہا اور نشانہ میاں صاحب کے کان پر سے گزر گیا۔ اس ''جان لیوا'' خطرے سے نکلنے کے بعد سیاسی ستارہ شناسوں کو یہ اندازہ ہونے لگا کہ اب میاں صاحب 2018ء کو کراس کر لیں گے۔ اس تناظر میں میاں برادران بڑے اعتماد کے ساتھ 2018ء کی طرف بڑھنے لگے کہ اچانک میاں برادران کے کرہ اقتدار سے ایک پانامہ لیکس کا اتنا بڑا شہاب ثاقب آ ٹکرایا ہے کہ میاں صاحب کا بلڈ پریشر ان کے قابو سے باہر ہو گیا اور وہ اپنا چیک اپ کرانے کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔
میاں صاحب اگرچہ بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پانامہ لیکس نے ان کے اعصاب شل کر دیے ہیں۔ یہ پہلا اتفاق ہے کہ میاں حکومت واقعی خطرے کی زد میں ہے کیونکہ بین الاقوامی سطح کے پانامہ لیکس نے مکمل دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ مختلف سیاستدانوں ان کی آل اولاد اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بدعنوانوں کی فہرست شایع کر دی ہے۔
اگرچہ اس فہرست میں میاں برادران کے نام شامل نہیں لیکن میاں صاحب کے دور فرزندانِ ارجمند کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ اب میاں صاحب کے دوستوں کی بھی یہ مجبوری بن گئی ہے کہ وہ دونوں صاحبزادوں کی پانامہ لیکس میں شمولیت کی تردید نہیں کر پا رہے ہیں لیکن وہ یہ اسٹینڈ لے رہے ہیں کہ بیرون ملک کاروبار کرنے کا ہر پاکستانی کو حق ہے۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ پانامہ لیکس اپنی اصل میں ناجائز کاروبار ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس کاروبار میں شامل ہونے کا مطلب منی لانڈرنگ، کالے دھن کو سفید کرنا وغیرہ ہے، جو کرپشن کی ایک ناقابل انکار شکل ہے۔
میاں برادران اس مخمصے سے نکلنے کی کوشش میں تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میاں صاحب کا اس حوالے سے دورہ لندن کامیاب رہا۔ میاں صاحب واپس وطن آ رہے تھے کہ ہمارے چیف آف اسٹاف نے ایک دھماکا خیز بیان دے ڈالا۔ اس گمبھیر صورتحال میں بھی ہمارے حکمرانون کا عالم یہ ہے کہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے ہیں کہ ''کرپشن کے خاتمے کی آڑ میں کسی کو سیاست نہیں کرنے دیں گے کیونکہ ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے۔'' میاں صاحب نے وطن واپسی کے بعد فرمایا ہے کہ ''نابالغ سیاستدانوں نے پھر گند ڈالنا شروع کر دیا ہے''۔
مشکل یہ آن پڑی ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے مسئلے پر تقریباً سارے سیاستدان خوشی یا مجبوری سے ایک پیج پر آ گئے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ''جل تُو جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو'' کا ورد اس بار بلا کو ٹالتا نہیں دکھ رہا ہے، اس بار آنے والی بلائے ناگہانی خالی ہاتھ واپس جاتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام اب اس بلا کے پیچھے کھڑے نظر آ رہے ہیں، جب عوام کسی بلا کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں تو وہ بلا، بلائے عظیم بن جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے لیکن عوام ایک دوسرے سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ''کیا تم نے پاکستان میں کبھی جمہوریت دیکھی ہے؟''
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ فوج کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن جب ملک اندر سے دیمک کا گھر بن جانے لگے تو پھر غیر سیاسی لوگوں کا سیاست کرنا عوام کی ضرورت بن جاتا ہے۔ 69 سال سے حزب اقتدار اور ان کی فرینڈلی اپوزیشن پاکستان کو گھن کی طرح کھا رہی ہے اور ان کا پیٹ بڑھتے بڑھتے اب پانامہ تک پھیل گیا اور اس پھیلاؤ کی وجہ عوام کے پیٹ پیٹھ سے جا لگے ہیں۔ جب عوام کے پیٹ پیٹھ سے جا لگتے ہیں تو وہ کسی ایسے مسیحا کی طرف دیکھتے ہیں جو ان کے پیٹ کو پیٹھ سے ہٹا کر ان کے پیٹ میں غذا پہنچا سکے، پھر وہ جمہوری اور غیر جمہوری سیاسی اور غیر سیاسی کی تفریق کو بھلا بیٹھتے ہیں۔
بلاشبہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام کی غربت کا اصل سبب چند ہاتھوں میں ارتکاز زر ہے، جب اشرافیہ کے مٹھی بھر افراد ملک کی 80 فیصد دولت پر قابض ہو جائیں تو 90 فیصد عوام کے پیٹ خالی ہی رہیں گے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ماضی میں احتساب ''مضحکہ خیز'' ہی رہا لیکن حکمران مطمئن رہیں کہ اس بار احتساب مضحکہ خیز نہیں بلکہ سبق آموز رہے گا اور عوام اب کسی کو بھی کرپشن کی آڑ میں سیاست نہیں کرنے دیں گے، اگر کرپشن کی آڑ میں کوئی محض سیاست کرنے کی کوشش کرے گا تو عوام سیاست ہی کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔
اس بحران میں بھی میاں صاحب کی حکومت ڈول رہی تھی لیکن نواز شریف کے لیے ''اللہ کا فضل'' کارآمد رہا اور نشانہ میاں صاحب کے کان پر سے گزر گیا۔ اس ''جان لیوا'' خطرے سے نکلنے کے بعد سیاسی ستارہ شناسوں کو یہ اندازہ ہونے لگا کہ اب میاں صاحب 2018ء کو کراس کر لیں گے۔ اس تناظر میں میاں برادران بڑے اعتماد کے ساتھ 2018ء کی طرف بڑھنے لگے کہ اچانک میاں برادران کے کرہ اقتدار سے ایک پانامہ لیکس کا اتنا بڑا شہاب ثاقب آ ٹکرایا ہے کہ میاں صاحب کا بلڈ پریشر ان کے قابو سے باہر ہو گیا اور وہ اپنا چیک اپ کرانے کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔
میاں صاحب اگرچہ بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پانامہ لیکس نے ان کے اعصاب شل کر دیے ہیں۔ یہ پہلا اتفاق ہے کہ میاں حکومت واقعی خطرے کی زد میں ہے کیونکہ بین الاقوامی سطح کے پانامہ لیکس نے مکمل دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ مختلف سیاستدانوں ان کی آل اولاد اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بدعنوانوں کی فہرست شایع کر دی ہے۔
اگرچہ اس فہرست میں میاں برادران کے نام شامل نہیں لیکن میاں صاحب کے دور فرزندانِ ارجمند کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ اب میاں صاحب کے دوستوں کی بھی یہ مجبوری بن گئی ہے کہ وہ دونوں صاحبزادوں کی پانامہ لیکس میں شمولیت کی تردید نہیں کر پا رہے ہیں لیکن وہ یہ اسٹینڈ لے رہے ہیں کہ بیرون ملک کاروبار کرنے کا ہر پاکستانی کو حق ہے۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ پانامہ لیکس اپنی اصل میں ناجائز کاروبار ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس کاروبار میں شامل ہونے کا مطلب منی لانڈرنگ، کالے دھن کو سفید کرنا وغیرہ ہے، جو کرپشن کی ایک ناقابل انکار شکل ہے۔
میاں برادران اس مخمصے سے نکلنے کی کوشش میں تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میاں صاحب کا اس حوالے سے دورہ لندن کامیاب رہا۔ میاں صاحب واپس وطن آ رہے تھے کہ ہمارے چیف آف اسٹاف نے ایک دھماکا خیز بیان دے ڈالا۔ اس گمبھیر صورتحال میں بھی ہمارے حکمرانون کا عالم یہ ہے کہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے ہیں کہ ''کرپشن کے خاتمے کی آڑ میں کسی کو سیاست نہیں کرنے دیں گے کیونکہ ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے۔'' میاں صاحب نے وطن واپسی کے بعد فرمایا ہے کہ ''نابالغ سیاستدانوں نے پھر گند ڈالنا شروع کر دیا ہے''۔
مشکل یہ آن پڑی ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے مسئلے پر تقریباً سارے سیاستدان خوشی یا مجبوری سے ایک پیج پر آ گئے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ''جل تُو جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو'' کا ورد اس بار بلا کو ٹالتا نہیں دکھ رہا ہے، اس بار آنے والی بلائے ناگہانی خالی ہاتھ واپس جاتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام اب اس بلا کے پیچھے کھڑے نظر آ رہے ہیں، جب عوام کسی بلا کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں تو وہ بلا، بلائے عظیم بن جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے لیکن عوام ایک دوسرے سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ''کیا تم نے پاکستان میں کبھی جمہوریت دیکھی ہے؟''
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ فوج کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن جب ملک اندر سے دیمک کا گھر بن جانے لگے تو پھر غیر سیاسی لوگوں کا سیاست کرنا عوام کی ضرورت بن جاتا ہے۔ 69 سال سے حزب اقتدار اور ان کی فرینڈلی اپوزیشن پاکستان کو گھن کی طرح کھا رہی ہے اور ان کا پیٹ بڑھتے بڑھتے اب پانامہ تک پھیل گیا اور اس پھیلاؤ کی وجہ عوام کے پیٹ پیٹھ سے جا لگے ہیں۔ جب عوام کے پیٹ پیٹھ سے جا لگتے ہیں تو وہ کسی ایسے مسیحا کی طرف دیکھتے ہیں جو ان کے پیٹ کو پیٹھ سے ہٹا کر ان کے پیٹ میں غذا پہنچا سکے، پھر وہ جمہوری اور غیر جمہوری سیاسی اور غیر سیاسی کی تفریق کو بھلا بیٹھتے ہیں۔
بلاشبہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام کی غربت کا اصل سبب چند ہاتھوں میں ارتکاز زر ہے، جب اشرافیہ کے مٹھی بھر افراد ملک کی 80 فیصد دولت پر قابض ہو جائیں تو 90 فیصد عوام کے پیٹ خالی ہی رہیں گے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ماضی میں احتساب ''مضحکہ خیز'' ہی رہا لیکن حکمران مطمئن رہیں کہ اس بار احتساب مضحکہ خیز نہیں بلکہ سبق آموز رہے گا اور عوام اب کسی کو بھی کرپشن کی آڑ میں سیاست نہیں کرنے دیں گے، اگر کرپشن کی آڑ میں کوئی محض سیاست کرنے کی کوشش کرے گا تو عوام سیاست ہی کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔