گل بکاؤلی کی تلاش میں

پرانے زمانے کی کہانیوں، فلموں اور داستانوں میں آپ نے ’’گل بکاؤلی‘‘ کے بارے میں ضرور سنا یا پڑھا ہو گا

barq@email.com

لاہور:
پرانے زمانے کی کہانیوں، فلموں اور داستانوں میں آپ نے ''گل بکاؤلی'' کے بارے میں ضرور سنا یا پڑھا ہو گا، جس کی ''شہزادی'' کے باپ کو ضرورت ہوتی ہے یا خود شہزادی ہی کوئی ایسی ناگفتہ مرض میں مبتلا ہوتی ہے جس کا علاج صرف گل بکاؤلی ہوتا تھا، چنانچہ کہانی کا ہیرو شہزادہ گل بکاؤلی کی تلاش میں نکل جاتا ہے، جو بے شمار خطرناک واقعات سے گزر کر اسے لانے میں کامیاب ہوتا ہے، شہزادی اچھی ہو کر شہزادے کی قید شریعت میں آ کر جلوہ کثرت اولاد دکھانے میں لگ جاتی ہے، یہ تو کہانی ہوئی لیکن یہ سن کر آپ حیران ہو جائیں گے کہ ہم بھی گل بکاؤلی کی مہم پر نکلے تھے لیکن ناکام و نامراد لوٹ آئے۔ ہمارا بیٹا جو بطور ڈرائیور کے ہمارے ساتھ تھا اتنا تنگ آ گیا، اتنا ناراض ہو گیا کہ اس نے ہماری ڈرائیوری سے انکار کرتے ہوئے ماں کو بتایا کہ اگر یہی حال رہا تو ایک دن میں گھر سے بھاگ جاؤں گا۔

یہ جس گل بکاؤلی کا ہم ذکر کر رہے ہیں یہ کوئی پھول نہیں بلکہ پیڑ یا پودا ہے جو ویسے تو پاکستان خصوصاً سندھ و پنجاب خاص طور پر جنوبی پنجاب میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ افریقہ میں اس مغربی دانشور نے جس مورنگا نامی پودے کے گن گائے ہیں وہ تو پاکستان میں سوہانجنا کے نام سے بے پناہ پایا جاتا ہے اور اس مغربی کی بتائی خصوصیات بھی یہاں کے باسی مدتوں سے جانتے ہیں کہ اس کی مولی نما جڑیں کھائی اور پکائی جاتی ہیں ان کا ایک بڑا ہی مزیدار اچار بھی بنتا ہے۔ اس کے پھول یا کلیاں کچنار کی طرح بڑی خوش ذائقہ ترکاری ہوتی ہے، اس کی پھلیاں پکائی بھی جاتی ہیں اور بہترین اچار بھی ان سے بنتا ہے اور اس کے پتے جانوروں کا ایک مقوی اور صحت بخش کھاجا ہیں۔ یعنی کنول یا فارسی میں نیلوفر (لوٹس) کی طرح اس کا ہر حصہ کام کا ہوتا ہے۔ لیکن یہ معلومات ہمیں بعد میں حاصل ہوئیں۔

پہلے اس کرشماتی اور کثیر الفوائد پودے یا پیڑ کے بار ے میں ہم نے ماہرین سے سنا بلکہ اس کے بارے میں پڑھا تھا۔ پیڑ پودوں اور نباتات کا جنون تو ہمیں ایسے بھی جدی پشتی طور پر لاحق ہے۔ اس طرح کی کسی چیز کے بارے میں معلوم ہوتے ہی ہم بے چین ہو جاتے ہیں اور تب تک آرام نہیں آتا جب تک اسے حاصل کر کے لگا نہیں لیتے۔ اپنے صوبے میں یہ پودا عام طور پر نہیں پایا جاتا، لیکن جب یہ سنا کہ اپنے ہاں کے متعلقہ محکمے اس پر ''کام'' کر رہے ہیں تو ہم بھی اس کے پیچھے پڑ گئے۔ خوش تھے کہ کہیں سے اس پودے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اس وقت تک ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ جنوبی پنجاب میں اس کی بہتات ہے ورنہ خواہ مخواہ سرکاری مزارات عرف محکموں اور مجاورین عرف ماہرین کے پیچھے کیوں خوار ہوتے۔ ویسے اس میں کچھ قصور اپنا بھی ہے کہ جہاں کھجلی نہیں ہوتی ہم وہاں بھی کھجاتے ہیں یا یوں کہئے ۔۔۔۔۔ ایک لطیفہ بھی دم ہلانے لگا ہے اس سے بھی نپٹ چلیں تو اچھا ہے۔

کہتے ہیں ایک چشم دید گواہ جو اصل میں ''چشم دید'' یعنی پیشہ ور گواہ تھا۔ اس سے ایک دن جج نے پوچھا ۔۔۔ یہ کیا بات ہے کہ ہر واقعہ تمہاری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ گواہ نے عرض کیا حضور ۔۔۔ اتفاق سے جہاں بھی ایسا کچھ ہو رہا ہوتا ہے خدا مجھے وہیں پر لے جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہے حالانکہ ہم نہ چشم دید ہیں نہ چشمہ دید نہ گواہ اور نہ پیشہ ور ۔۔۔ لیکن نہ جانے کیوں اور کیسے خدا ہمیں کسی ایسے محکمے یا ادارے یا دفتر پہنچا دیتا ہے جو نور علی نور اور ھمہ آفتاب ہوتا ہے۔ چنانچہ اب کے بہانہ یہ پودا یا پیڑ بنا اور ہمیں چند محکموں سے واسطہ پڑ ہی گیا

رکھتی ہے مجھے خواہش دل بس کہ پریشان


درپے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں

سب سے پہلے تو ہمیں کسی ایسے رہنماء کی تلاش ہوئی جو اس ''گل بکاؤلی'' کا پتہ نشان بتا دے اور اس کے ویر اباؤٹ کے بارے میں ہماری رہنمائی کرے۔ فون پر کوشش کی، بہت سارے ماہرین سے رابطہ کیا لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔ کسی کو گل بکاؤلی کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا حالانکہ ان میں سے اکثر سرکاری خرچے پر تقریباً سارے براعظموں کے وہ ''یاتری'' بھی تھے جو وہاں سے یہ گز گز بھر کی ڈگریاں لاد کر لائے تھے۔ جو چاہے کسی بھی مضمون میں پی ایچ ڈی کریں، ماہر صرف معاشیات بلکہ کرنسیات کے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی موہوم سی ایک توقع تو تھی۔

یہاں سے مایوس ہو کر چند محکموں سے رجوع کیا جو ہمارے خیال میں اس پیڑ یا پودے سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلے فارسٹ یعنی جنگلات والوں سے پتہ کیا تو ان کے پاس پہلے ہی سے شاید ٹائپ شدہ ایک بیان موجود تھا۔ بولے اس ''پلانٹ'' کا تعلق چونکہ خوراک سے ہے یعنی غذائی ہے اس لیے زراعت والے اس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ زراعت والوں کے پاس گئے بلکہ گئے کیا کئی کئی دن جاتے رہے کیونکہ وہاں دفاتر تو موجود تھے لیکن ان کے مکین یا کرسی نشین ''فیلڈ'' میں ہوتے تھے۔ جو گل بکاؤلی سے بھی زیادہ نامعلوم تھے۔ لیکن کم از کم یہ فائدہ تو ہوا کہ یہاں بھی کسی کو ''گل بکاؤلی'' کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ پتہ چلا کہ پشاور یونیورسٹی کے پہلو بہ پہلو زرعی اور فارسٹ انسٹی ٹیوٹ بھی ہیں اور ان کے ہاں نرسریوں میں ضرور یہ پودا ہو گا لیکن

مقدر میں جو سختی تھی وہ مر کر بھی نہیں نکلی

قبر کھودی گئی میری تو پتھریلی زمین نکلی

زراعت والوں کی نرسری میں تو سب کچھ تھا لیکن نرسری نہیں تھی۔ یہاں وہاں کچھ جنگلی یا آرائشی جھاڑ جھنکار تھا، بہت سارے لوگ بھی تھے لیکن ذمے دار کوئی بھی نہیں تھا۔ رہی جنگلات کی نرسری تو کم از کم انسٹی ٹیوٹ میں تو نہیں ملی ممکن ہے کسی جنگل میں کہیں موجود ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ گل بکاؤلی کے آس پاس ہی ہو بلکہ کیا پتہ شاید یہ نرسری ہی گل بکاؤلی اور گل بکاؤلی ہی نرسری ہو۔
Load Next Story