جنوبی سوڈان کی خانہ جنگی امریکا اور اتحادیوں کا کردار

امریکا اور یورپی ممالک کی پالیسیوں نے غریب اور پسماندہ ممالک کو تباہی کے راستے پر ڈال رکھا ہے

امریکا اور مغربی ممالک کی اس پالیسی نے پورے براعظم افریقہ کو غربت اور خانہ جنگی کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے فوٹو؛ فائل

جنوبی سوڈان میں گزشتہ دو سال سے خانہ جنگی کے بعد امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ ایک بار پھر دم توڑ گئی۔ متحدہ سوڈان سے علیحدہ ہونے والے اس ملک میں اسلحے کی بھرمار ہے جس کا ہمہ وقت جا و بے جا استعمال کیا جاتا ہے۔ باغیوں کے لیڈر ''ریک ماچر'' جس کے بارے میں توقع کی جا رہی تھی کہ وہ دارالحکومت ''جوبا'' میں واپس آ کر متحدہ حکومت قائم کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے لیکن ماچر کے مخالفین کو اس پر اعتبار نہیں اور نہ ہی ماچر کو اپنے متحارب فریق پر بھروسہ ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جنوبی سوڈان کے عوام جنگ و جدل سے تنگ آ چکے ہیں اور قیام امن کے کسی عمل کے شروع ہونے پر آس لگائے بیٹھے ہیں۔

اگست 2015ء میں دونوں متحارب فریقوں میں ایک معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا جس کے تحت ماچر نے اپنے شدید مخالف صدر سالوا کیر کے ساتھ نائب صدر کا عہدہ سنبھالنا تھا مگر اتنا وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ چنانچہ مذکورہ امن معاہدے کا انجام کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے باغی لیڈر ریک ماچر پر زور دیا ہے کہ وہ بلا مزید تاخیر جوبا پہنچ جائیں جب کہ امریکا' برطانیہ اور ناروے کی طرف سے بھی باغی لیڈر کی واپسی پر زور دیا گیا ہے۔


دوسری طرف سفارتی حلقوں کی طرف سے بدستور غیر یقینی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ دو سالہ خانہ جنگی کے بعد ملک کی معیشت مکمل تباہ ہو چکی ہے۔ تیل، گیس اور قیمتی معدنیات کی دولت سے مالامال اس بدنصیب افریقی ملک میں بھی سامراجی ممالک کی ریشہ دوانیوں کے باعث عرصہ دراز سے پراکسی وار جاری ہے جسے خانہ جنگی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک کی پالیسیوں نے غریب اور پسماندہ ممالک کو تباہی کے راستے پر ڈال رکھا ہے' سوڈان مصر کے ساتھ ہے' یہاں کے اثرات پورے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک مرتب ہوتے ہیں' پہلے سوڈان کو تقسیم کیا گیا' جنوبی سوڈان کے عوام کو لالچ دیا گیا کہ اگر وہ شمالی سوڈان کے مسلم حکمرانوں سے نجات حاصل کر لیں تو خوشحال ہو جائیں گے لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ وہاں بدستور خانہ جنگی جاری ہے۔

امریکی اور مغربی کمپنیاں وہاں کے وسائل سستے داموں خرید رہے ہیں' امریکا اور مغربی ممالک کی اس پالیسی نے پورے براعظم افریقہ کو غربت اور خانہ جنگی کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے جب کہ وہ مشرق وسطیٰ میں بھی آگ بھڑکا رہے ہیں' اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بدستور تباہی و بربادی کا کھیل کھیل رہے ہیں' جب تک امریکا اور یورپ اپنی استحصالی پالیسی تبدیل نہیں کرتے' دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی خوشحالی آ سکتی ہے۔
Load Next Story