طالبان کو پاکستان اور افغانستان کی اپیل پر غور کرنا چاہیے
افغانستان میں القاعدہ کا زور ٹوٹ جانے کے بعد طالبان اور دوسرے مسلح گروہوں سے مذاکرات کرنا آسان ہو گیا ہے۔
افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل نے دورہ پاکستان کے دورے اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ فوٹو : اے پی پی
پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اس نے خطے میں امن کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہر اس فعل کی مذمت کی ہے جس سے انتشار اور افراتفری یا دہشت گردی جنم لے۔
امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کو بادل نخواستہ اس کا ساتھ دینا پڑا مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکا کو یہ بھی سمجھاتا رہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں اس کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔طالبان کو بھی پاکستان کا یہی مشورہ رہا ہے۔ مگر اب ایک طویل لڑائی اور اربوں ڈالرکے نقصان سب کو پتہ چل گیا ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کا اصل ہیں۔ کچھ عرصہ بیشتر بھی امریکا اور افغان حکومت نے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی جسے طالبان نے مسترد کرتے ہوئے امریکا سے افغانستان کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اب افغان حکومت نے ایک بار پھر طالبان اور دوسرے مسلح گروپوں سے جنگ بند کرنے اور افغان مفاہمتی عمل میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔
اس مقصد کے لیے افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل نے پاکستان کے دورے کے موقعے پر صدر زرداری' وزیراعظم راجہ پرویز اشرف' آرمی چیف جنرل کیانی اور وزیرخارجہ کے علاوہ مذہبی و سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پاکستان نے خطے میں امن و مفاہمت کے عمل کی پرجوش حمایت کرتے ہوئے افغان اعلیٰ امن کونسل اور افغان حکومت کی درخواست پر کئی طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاکہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔ ان حالات کے تناظر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور افغان حکومت طویل جنگ کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہونے پر مذاکرات کے ذریعے ہی خطے میں امن لانے کے خواہاں ہیں۔ لہٰذا وہ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کاروں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔
افغان اعلیٰ امن کونسل کے دورہ پاکستان کے موقع پر دفتر خارجہ سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان دیرپا امن کے روڈ میپ کے لیے افغانستان کے وژن کو سپورٹ کرتا ہے۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد امریکا اور افغان حکومت یہ قیاس کر رہے ہیں کہ افغانستان میں القاعدہ جو ایک طاقتور، بااثر اور زیادہ انتہا پسند گروپ تھا، کا زور ٹوٹ جانے کے بعد اب طالبان اور دوسرے مسلح گروہوں سے مذاکرات کرنا آسان ہو گیا ہے۔ لہٰذا پاکستان اور اعلیٰ امن کونسل طالبان اور دوسرے مسلح گروہوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ القاعدہ اور دوسرے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں سے اپنے روابط منقطع کر دیں۔ امریکا کا خیال ہے کہ چونکہ القاعدہ افغان جنگ میں ایک بڑی فنانسر اور پوری دنیا میں اپنے حامیوں سے اس کے مضبوط روابط تھے، اب اگر طالبان القاعدہ سے الگ ہو جاتے ہیں تو امریکا کے لیے طالبان سے امن مذاکرات میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔
خوش آیند امر یہ ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے امن کونسل کے ساتھ بات چیت میں پاکستان' افغانستان سمیت دوسرے ممالک کے علما کی ایک کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں افغانستان میں حکومتی اور انتظامی اداروں میں ازبک اور تاجک چھائے ہوئے ہیں۔پاکستان کو افغانستان کے تمام نسلی اور لسانی گروہوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے چاہئیں ۔افغانستان سے بہتر تعلقات کی صورت میں پاکستان کے روابط کا دائرہ ازبکستان اور تاجکستان تک باآسانی پھیل سکتا ہے جس سے پاکستان کو تجارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
خطے میں امن اور معاشی خوشحالی لانے کے لیے پاکستان' افغانستان' روس اور دوسری وسط ایشیائی ریاستوں کی مشترکہ کونسل بنائی جائے جس کے تحت مشترکہ چیمبر آف کامرس کے قیام کے علاوہ ثقافتی امور ، کھیلوں سمیت دوسرے شعبوں میں تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے ۔ بہر صورت طالبان سے مذاکرات کا عمل خوش آیند ہے امید ہے اس سے خطے میں امن کے پھول پھر سے کھل اٹھیں گے اور طالبان قیادت کو بھی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے امن کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔
امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کو بادل نخواستہ اس کا ساتھ دینا پڑا مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکا کو یہ بھی سمجھاتا رہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں اس کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔طالبان کو بھی پاکستان کا یہی مشورہ رہا ہے۔ مگر اب ایک طویل لڑائی اور اربوں ڈالرکے نقصان سب کو پتہ چل گیا ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کا اصل ہیں۔ کچھ عرصہ بیشتر بھی امریکا اور افغان حکومت نے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی جسے طالبان نے مسترد کرتے ہوئے امریکا سے افغانستان کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اب افغان حکومت نے ایک بار پھر طالبان اور دوسرے مسلح گروپوں سے جنگ بند کرنے اور افغان مفاہمتی عمل میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔
اس مقصد کے لیے افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل نے پاکستان کے دورے کے موقعے پر صدر زرداری' وزیراعظم راجہ پرویز اشرف' آرمی چیف جنرل کیانی اور وزیرخارجہ کے علاوہ مذہبی و سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پاکستان نے خطے میں امن و مفاہمت کے عمل کی پرجوش حمایت کرتے ہوئے افغان اعلیٰ امن کونسل اور افغان حکومت کی درخواست پر کئی طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاکہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔ ان حالات کے تناظر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور افغان حکومت طویل جنگ کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہونے پر مذاکرات کے ذریعے ہی خطے میں امن لانے کے خواہاں ہیں۔ لہٰذا وہ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کاروں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔
افغان اعلیٰ امن کونسل کے دورہ پاکستان کے موقع پر دفتر خارجہ سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان دیرپا امن کے روڈ میپ کے لیے افغانستان کے وژن کو سپورٹ کرتا ہے۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد امریکا اور افغان حکومت یہ قیاس کر رہے ہیں کہ افغانستان میں القاعدہ جو ایک طاقتور، بااثر اور زیادہ انتہا پسند گروپ تھا، کا زور ٹوٹ جانے کے بعد اب طالبان اور دوسرے مسلح گروہوں سے مذاکرات کرنا آسان ہو گیا ہے۔ لہٰذا پاکستان اور اعلیٰ امن کونسل طالبان اور دوسرے مسلح گروہوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ القاعدہ اور دوسرے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں سے اپنے روابط منقطع کر دیں۔ امریکا کا خیال ہے کہ چونکہ القاعدہ افغان جنگ میں ایک بڑی فنانسر اور پوری دنیا میں اپنے حامیوں سے اس کے مضبوط روابط تھے، اب اگر طالبان القاعدہ سے الگ ہو جاتے ہیں تو امریکا کے لیے طالبان سے امن مذاکرات میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔
خوش آیند امر یہ ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے امن کونسل کے ساتھ بات چیت میں پاکستان' افغانستان سمیت دوسرے ممالک کے علما کی ایک کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں افغانستان میں حکومتی اور انتظامی اداروں میں ازبک اور تاجک چھائے ہوئے ہیں۔پاکستان کو افغانستان کے تمام نسلی اور لسانی گروہوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے چاہئیں ۔افغانستان سے بہتر تعلقات کی صورت میں پاکستان کے روابط کا دائرہ ازبکستان اور تاجکستان تک باآسانی پھیل سکتا ہے جس سے پاکستان کو تجارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
خطے میں امن اور معاشی خوشحالی لانے کے لیے پاکستان' افغانستان' روس اور دوسری وسط ایشیائی ریاستوں کی مشترکہ کونسل بنائی جائے جس کے تحت مشترکہ چیمبر آف کامرس کے قیام کے علاوہ ثقافتی امور ، کھیلوں سمیت دوسرے شعبوں میں تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے ۔ بہر صورت طالبان سے مذاکرات کا عمل خوش آیند ہے امید ہے اس سے خطے میں امن کے پھول پھر سے کھل اٹھیں گے اور طالبان قیادت کو بھی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے امن کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔