مصباح کو نائٹ ٹیسٹ میں بیٹنگ کی فکرستانے لگی
یو اے ای میں ویسٹ انڈیز سے ممکنہ مقابلے میں اچھی تیاری کا موقع ملے گا،کپتان
ٹیسٹ میں عوامی دلچسپی بڑھانے کیلیے منفرد اقدامات ضروری ہوگئے،رمیزراجہ فوٹو : فائل
KARACHI:
مصباح الحق کو نائٹ ٹیسٹ میں بیٹنگ کی فکر ستانے لگی،قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک میچز اور یو اے ای میں ویسٹ انڈیز سے ممکنہ مقابلے میں آسٹریلیا کیخلاف برسبین میں میچ کی اچھی تیاری کا موقع ملے گا۔سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ کنڈیشنز مشکل ضرور ہونگی لیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کو ان سے مطابقت پیدا کرلینی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دورئہ آسٹریلیا میں اتفاق رائے سے ایک نائٹ ٹیسٹ برسبین میں شیڈول کیا گیا ہے، اس نوعیت کے پہلے مقابلے میں کینگروز نے مہمان نیوزی لینڈکو مات دی تھی، گرین کیپس کو مشکل ٹور میں پہلی بار یہ منفرد تجربہ حاصل ہوگا، مصباح الحق نے ایک آسٹریلوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں اس تشویش کا اظہار کیا کہ مصنوعی روشنیوں میں بیٹنگ آسان نہیں ہوگی، قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اگر میچ پریکٹس نہ ہوتو اس نوعیت کے مقابلے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، پنک بال سے کھیلے جانے والے نائٹ ٹیسٹ میں بولرز تو فائدے میں رہتے لیکن بیٹسمین مصنوعی روشنیوں میں جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس نوعیت کے مقابلے بہت ہی کم ہوتے ہیں، البتہ اس بار ملکی سطح پر ہر ٹیم کو کم از کم ایک میچ کھیلنے کا موقع ملے گا، یو اے ای میں ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کا ایک ٹیسٹ بھی مصنوعی روشنیوں میں کرانے کی تجویز ہے، اگر ایسا ہوا تو آسٹریلیا کیخلاف برسبین میں میچ کی اچھی تیاری ہو جائے گی، کھلاڑی اس نئے تجربے کیلیے پُرجوش لیکن ساتھ ہی درپیش مسائل سے بھی آگاہ ہیں، نائٹ ٹیسٹ وقت کی ضرورت بن چکے، اس لیے کرکٹرز کو ان کا عادی بننا ہوگا۔ سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ کنڈیشنز مشکل ضرور ہونگی لیکن ایک پروفیشنل کھلاڑی کو ان سے مطابقت پیدا کرلینی چاہیے،تیزی سے مقبولیت کھونے والے ٹیسٹ کرکٹ میں عوامی دلچسپی بڑھانے کیلیے اس طرح کے اقدامات کرنا ضروری ہوچکا،پی سی بی گرین کیپس کو یواے ای میں ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں تجربہ دلانے میں کامیاب ہوجائے تو بہتر ہوگا۔
مصباح الحق کو نائٹ ٹیسٹ میں بیٹنگ کی فکر ستانے لگی،قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک میچز اور یو اے ای میں ویسٹ انڈیز سے ممکنہ مقابلے میں آسٹریلیا کیخلاف برسبین میں میچ کی اچھی تیاری کا موقع ملے گا۔سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ کنڈیشنز مشکل ضرور ہونگی لیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کو ان سے مطابقت پیدا کرلینی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دورئہ آسٹریلیا میں اتفاق رائے سے ایک نائٹ ٹیسٹ برسبین میں شیڈول کیا گیا ہے، اس نوعیت کے پہلے مقابلے میں کینگروز نے مہمان نیوزی لینڈکو مات دی تھی، گرین کیپس کو مشکل ٹور میں پہلی بار یہ منفرد تجربہ حاصل ہوگا، مصباح الحق نے ایک آسٹریلوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں اس تشویش کا اظہار کیا کہ مصنوعی روشنیوں میں بیٹنگ آسان نہیں ہوگی، قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اگر میچ پریکٹس نہ ہوتو اس نوعیت کے مقابلے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، پنک بال سے کھیلے جانے والے نائٹ ٹیسٹ میں بولرز تو فائدے میں رہتے لیکن بیٹسمین مصنوعی روشنیوں میں جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس نوعیت کے مقابلے بہت ہی کم ہوتے ہیں، البتہ اس بار ملکی سطح پر ہر ٹیم کو کم از کم ایک میچ کھیلنے کا موقع ملے گا، یو اے ای میں ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کا ایک ٹیسٹ بھی مصنوعی روشنیوں میں کرانے کی تجویز ہے، اگر ایسا ہوا تو آسٹریلیا کیخلاف برسبین میں میچ کی اچھی تیاری ہو جائے گی، کھلاڑی اس نئے تجربے کیلیے پُرجوش لیکن ساتھ ہی درپیش مسائل سے بھی آگاہ ہیں، نائٹ ٹیسٹ وقت کی ضرورت بن چکے، اس لیے کرکٹرز کو ان کا عادی بننا ہوگا۔ سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ کنڈیشنز مشکل ضرور ہونگی لیکن ایک پروفیشنل کھلاڑی کو ان سے مطابقت پیدا کرلینی چاہیے،تیزی سے مقبولیت کھونے والے ٹیسٹ کرکٹ میں عوامی دلچسپی بڑھانے کیلیے اس طرح کے اقدامات کرنا ضروری ہوچکا،پی سی بی گرین کیپس کو یواے ای میں ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں تجربہ دلانے میں کامیاب ہوجائے تو بہتر ہوگا۔