انسداد دہشت گردی کی مزید خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

23 جون کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان ایڈووکیٹ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں کوئی بھی پراسیکیوٹر کنٹریکٹ کی بنیاد پر نہیں ہے۔ فوٹو : فائل

حکومت سندھ نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے مالی وانتظامی امور سندھ ہائیکورٹ کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے اوریہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ سلطان آباد میں واقع انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں جلد ہی سندھ سیکریٹریٹ میں فنانس ڈپارٹمنٹ کی بیرکس میں منتقل کردی جائینگی۔


یہ بات چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم کی زیر صدارت صوبے بھر کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں بتائی گئی، اجلاس میں خصوصی عدالتوں کے مانیٹرنگ جج جسٹس سجاد علی شاہ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان ،ممبر انسپکشن ٹیم سندھ ہائیکورٹ فہیم صدیقی، سندھ کی 11خصوصی عدالتوں کے سربراہان ،اسپیشل سیکریٹری ہوم نے شرکت کی،اجلاس میں 23جون 2012کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کی تین نئی خصوصی عدالتوں کے قیام کو فیصلہ کیاگیا ہے۔

جن میں سے 2کراچی اور ایک کشمور میں قائم کی جائیگی ، اس سلسلے میں سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کردی گئی ہے ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان ایڈووکیٹ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں کوئی بھی پراسیکیوٹر کنٹریکٹ کی بنیاد پر نہیں ہے، تمام عدالتوں میں مستقل پراسیکیوٹرز فرائض انجام دے رہے ہیں ، انھوں نے بتایاکہ خصوصی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں ہائی پروفائل مقدمات شامل ہیں کیونکہ ان میں جن وکلا کی خصوصی طور پر خدمات حاصل کی گئی تھیں وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، اس لیے اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ مقدمات جن خصوصی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان عدالتوں میں تعینات پراسیکیوٹرز ہی ان کی پیروی کرینگے، اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
Load Next Story