اپوزیشن کے اتحاد کے اشارے

اگرحکومت اپنی مرضی کےمطابق کمیشن تشکیل دیتی ہےاوراس کےٹی آراوزبھی طےکردیتی ہےتواپوزیشن جماعتیں اسےتسلیم نہیں کریں گی

اپوزیشن اگر سمجھتی ہے کہ پاناما پیپرز پر ابھی مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جمہوری حدود میں رہ کر اپنا کام کریں۔ فوٹو : فائل

پاناما پیپرز کے افشا کے بعد پاکستان کی سیاست میں ہلچل کا سلسلہ جاری ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاناما لیکس کے معاملے پراپوزیشن جماعتیں ایک ہوگئیں۔ پیر کو تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی جس میںپاناما لیکس کے حوالے سے حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط اور ضابطہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جماعتوں نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومتی ٹی اوآرز مسترد کرتے ہوئے فرانزک آڈٹ سمیت ٹرم آف ریفرنس اپوزیشن کی مشاورت سے طے کرنیکا مطالبہ کردیا جب کہ معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کامشترکہ اجلاس2مئی کواعتزاز احسن کے گھر طلب کر لیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کوبھی مدعوکیا جائے گا۔

ادھر خورشید شاہ اور اعتزاز احسن نے اسلام آباد میں مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت اور سنیئر رہنما پرویز الٰہی سے ملاقات کی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق) نے بھی پاناما لیکس کی تحقیقات پر اتفاق اور جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومتی ٹی او آرز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں، ٹی اوآرز اپوزیشن کی مشاورت سے طے کیے جائیں اور قانون سازی بھی کی جائے، تحقیقات وزیراعظم کے خاندان سے شروع ہونی چاہئیں جب کہ ٹی او آرز کو پبلک کیاجاناچاہیے۔ بعد ازاںڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد نے اعتزازاحسن کی رہائشگاہ پر پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی جس میں پاناما لیکس کے انکوائری کمیشن کے لیے نئے قانون کے تحت ٹی او آرز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی 'تحریک انصاف' مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم تو اس نقطے پر متفق نظر آتی ہیں کہ حکومت نے پاناما پیپرز تحقیقات کے لیے حکومت نے جو ٹی آر اوز بنائے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ معاملات اس طریقے سے کروٹ نہیں لے رہے جس طرح حکومت چاہتی ہے۔


زیادہ بہتر یہی ہوتا کہ اگر حکومت پاناما پیپرز پر انکوائری کمیشن کی تشکیل اور اس کے ٹی ار آوز کے معاملات پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورے کر لیتی۔ سادی سی بات ہے کہ جب حکومت اس امر پر تیار ہو گئی کہ وہ پاناما پیپرز کی انکوائری کرائے گی تو اس کے بعد اسے اپوزیشن کی مرضی جانچنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ انکوائری کا فائدہ تب ہی ہے جب اس پر تمام فریقین متفق ہوں۔ اگر حکومت اپنی مرضی کے مطابق کمیشن تشکیل دیتی ہے اور اس کے ٹی آر اوز بھی طے کر دیتی ہے تو ظاہر ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اسے تسلیم نہیں کریں گی۔

اس کا نتیجہ کیا ہو گا' اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کا موڈ واضح ہے۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ایک جلسہ بھی کر دیا ہے اور وہ آگے مزید جلسے کرنے جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان روابط بھی جاری ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان روابط ہو رہے ہیں۔

اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں سپریم کورٹ بار کو مدعو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پاناما لیکس کے ایشو پر قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بھی غور کریں گی اور اس حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔بلاشبہ حکومت کا موقف درست ہو گا ' وہ نیک نیتی کے ساتھ پانا ما پیپرز کی تحقیقات بھی کرانا چاہتی ہے لیکن اگر اپوزیشن جماعتیں اس کمیشن کو تسلیم نہ کریں اور احتجاج پر نکل آئیں تو پھر اس کا حکومت کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو گا۔حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ ملک اس وقت احتجاجی جلسے جلوسوں اور گھیراؤ جلاؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے ارد گرد کی صورت حال بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ وطن عزیز میں سیاسی استحکام رہے ۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے احتجاج کو آئین اور جمہوری حدود کے اندر رکھیں۔ احتجاج کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر اس کی سرزنش کرنا اپوزیشن کا حق ہے۔اپوزیشن اگر سمجھتی ہے کہ پاناما پیپرز پر ابھی مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جمہوری حدود میں رہ کر اپنا کام کریں۔ حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ حالات کو بگڑنے سے بچائے۔ ماضی میں حالات جب بھی بگڑے ہیں اس کا فائدہ کسی کو نہیں پہنچا لہٰذا پاناما پیپرز سے پیدا ہونے والے بحران کو خوش اسلوبی سے حل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
Load Next Story