تھر کمیشن کی چشم کشا رپورٹ
تھر صرف بھوک، بدحالی ، مجبوری اور موت کا نام نہیں بلکہ اس کا دوسرا رخ انتہائی حسین ہے۔
افسران کی تقرری میرٹ پر کی جائے اور چائلڈ میرج بل پر عمل درآمد کرایا جائے فوٹو: فائل
حکومت سندھ کی جانب سے تھر میں قحط سالی اور بچوں کی اموات کے حقائق جاننے کے لیے قائم تھر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تھر میں قحط اور ہلاکتوں کی ذمے دار سندھ حکومت ہے، متعلقہ محکموں نے نااہلی دکھائی۔ کمیشن نے محکمہ صحت اور محکمہ بہبود آبادی سمیت سندھ کے 11سرکاری محکموں کی نااہلی، افسران کے یکے بعد دیگرے تبادلے و تقرریوں اور لڑکیوں کی کم عمری میں شادیوں کو تھرکی اندوہ ناک صورتحال کے چند اہم اسباب قرار دیے ہیں۔اخباری اطلاع کے مطابق رپورٹ مکمل کر کے چیف سیکریٹری سندھ کے حوالے کردی گئی ہے، واضح رہے سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن قائم کیا گیا تھا، تھر کمیشن کا اجلاس پیر کوکنوینر عبدالفتاح ملک کی زیرصدارت ہوا ۔ کمیشن نے 300 صفحات پر مشتمل رپورٹ چیف سیکریٹری سندھ کے حوالے کردی۔
اب سندھ حکومت کے لیے تھر کے ریگستان کی دردناک داستان اور اس سے جڑے لاتعداد معصوم بچوں اور تھری عوام کی الم ناک زندگی کے حقائق سے صرف نظر کرنے کا کوئی آپشن نہیں، نوکر شاہی کی طرف سے تھر سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور ٹھوس اقدامات کی قریب سے مسلسل مانیٹرنگ میں کوتاہی اور بے حسی کا مظاہرہ نہ ہوتا تو عالمی سطح پر تھر کی غیر انسانی صورتحال پر کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق علاقے میں قحط کے ذمے دار صحت ، تعلیم، آبپاشی، لائیو اسٹاک ، بہبود آبادی زراعت ، بحالی، ریونیو، سیاحت ، جنگلات اور جنگلی حیات کے محکمے ہیں ، تھرپارکر میں گورننس کی خراب صورت حال کا عالم یہ ہے کہ 3 سال کے دوران 6 ڈپٹی کمشنرز کا تبادلہ کیا گیا اور افسران کی ترقیوں اور تبادلوں میں میرٹ کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں ، تھر کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی قلت ہے، موجود ڈاکٹرز کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں ۔
علاقے میں چائلڈ میرج بل پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ، کم عمر کی لڑکیوں کی شادیاں بچوں کی اموات کا بنیادی سبب ہیں، تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار جب کہ سیاحت کے لیے تھر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ، محکمہ زراعت اورلائیو اسٹاک سمیت محکمہ بہبود آبادی کی تھر میں کارکرگی صفر ہے ۔ تھرپارکر دیکھنے میں ایک لق و دق ریگستان اور بے منزل صحرا نظر آتا ہے جو بظاہر قحط سالی کا استعارہ ہے ، جس کی ٹھنڈی ریت میں بھی دردناک انسانی خواہشات کی ہوک اٹھتی رہتی ہے۔ مگر قدرت نے اسے سیال سونے کی سرزمین کا اعزاز بخشا ہے۔
یہ خوش نصیبی ہے کہ ہم جس خطہ زمین پر رہتے ہیں اسے اللہ نے بدلتے موسموں، بلند و بالا پہاڑوں ، میٹھے پانی کے چشموں، دلفریب آبشاروں ، سر سبز و شاداب میدانوں سے نوازا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تھر کے صحرا نشینوں کے لیے ان کی دھرتی گزشتہ کئی سالوں سے ایک طلسم ہوشربا بنی ہوئی ہے، تھری عوام آج بھی جینے کی امنگ لیے میڈیا میں اپنے علاقے کی خشک سالی کی داستانیں سنتے ہیں، ان کے بچوں کی اموات ہیں کہ ٹھہرنے نام نہیں لیتیں ، ایک شور برپا ہے کہ صحرائے تھر مر رہا ہے جب کہ سندھ حکومت کا یہی کہنا تھا کہ تھر مفت میں بدنام ہے ، کچھ لوگ حقائق کو دانستہ جھٹلاتے ہیں ، تھر صرف بھوک، بدحالی ، مجبوری اور موت کا نام نہیں بلکہ اس کا دوسرا رخ انتہائی حسین ہے۔
جسے بد قسمتی سے سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے ، مخالفین محض الزامات کی بارش برسا رہے ہیں جب کہ تھر کی سماجی اور معاشی حالت بدلنے کے لیے حکومت سندھ نے ایک ہنگامی معاشی پیکیج پیش کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ تھر میں صورتحال بدلی ہے اور مزید بہتر ہو گی ۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کوئلہ کا چھٹا بڑاذخیرہ یہاں موجود ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کھلی اور کشادہ سڑکوں کا جال پھیلا رہی ہے۔ منڈی تک رسائی کا نیٹ ورک لایا جارہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ تھری عوام کے ہونٹ پیاس سے خشک تھے، اور شاعر کے بقول وہ فریاد کناں تھے کہ
کانٹوں کی زبان سوکھ گئی پیاس سے یارب
اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آئے
بہر حال صوبائی حکومت بضد رہی کہ بے شمار انسانی مسائل کا شکار اور فطرت کے غیر معمولی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تھر کی زمین نئی کروٹ لے رہی ہے۔ آج تھر کے عوام میں بے رحم موت سے تھرتھراہٹ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔
تھر وہ تھر نہیں رہا۔ مگر اب جب کہ عدالتی کیمشن نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ رپورٹ کی سفارشات پر جلد عملدرآمد کرائیں، تھری عوام کو بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تھر کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے، تھر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تھر میں تعینات ڈاکٹرز کی تنخواہیں کم از کم 4 لاکھ روپے ماہانہ کی جائیں ۔ افسران کی تقرری میرٹ پر کی جائے اور چائلڈ میرج بل پر عمل درآمد کرایا جائے۔ ان قابل عمل سفارشات میں ایک دکھی تھر کا منظر نامہ اپنی پوری مظلومیت کے ساتھ ابھرتا ہے جو سندھ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
اب سندھ حکومت کے لیے تھر کے ریگستان کی دردناک داستان اور اس سے جڑے لاتعداد معصوم بچوں اور تھری عوام کی الم ناک زندگی کے حقائق سے صرف نظر کرنے کا کوئی آپشن نہیں، نوکر شاہی کی طرف سے تھر سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور ٹھوس اقدامات کی قریب سے مسلسل مانیٹرنگ میں کوتاہی اور بے حسی کا مظاہرہ نہ ہوتا تو عالمی سطح پر تھر کی غیر انسانی صورتحال پر کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق علاقے میں قحط کے ذمے دار صحت ، تعلیم، آبپاشی، لائیو اسٹاک ، بہبود آبادی زراعت ، بحالی، ریونیو، سیاحت ، جنگلات اور جنگلی حیات کے محکمے ہیں ، تھرپارکر میں گورننس کی خراب صورت حال کا عالم یہ ہے کہ 3 سال کے دوران 6 ڈپٹی کمشنرز کا تبادلہ کیا گیا اور افسران کی ترقیوں اور تبادلوں میں میرٹ کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں ، تھر کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی قلت ہے، موجود ڈاکٹرز کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں ۔
علاقے میں چائلڈ میرج بل پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ، کم عمر کی لڑکیوں کی شادیاں بچوں کی اموات کا بنیادی سبب ہیں، تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار جب کہ سیاحت کے لیے تھر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ، محکمہ زراعت اورلائیو اسٹاک سمیت محکمہ بہبود آبادی کی تھر میں کارکرگی صفر ہے ۔ تھرپارکر دیکھنے میں ایک لق و دق ریگستان اور بے منزل صحرا نظر آتا ہے جو بظاہر قحط سالی کا استعارہ ہے ، جس کی ٹھنڈی ریت میں بھی دردناک انسانی خواہشات کی ہوک اٹھتی رہتی ہے۔ مگر قدرت نے اسے سیال سونے کی سرزمین کا اعزاز بخشا ہے۔
یہ خوش نصیبی ہے کہ ہم جس خطہ زمین پر رہتے ہیں اسے اللہ نے بدلتے موسموں، بلند و بالا پہاڑوں ، میٹھے پانی کے چشموں، دلفریب آبشاروں ، سر سبز و شاداب میدانوں سے نوازا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تھر کے صحرا نشینوں کے لیے ان کی دھرتی گزشتہ کئی سالوں سے ایک طلسم ہوشربا بنی ہوئی ہے، تھری عوام آج بھی جینے کی امنگ لیے میڈیا میں اپنے علاقے کی خشک سالی کی داستانیں سنتے ہیں، ان کے بچوں کی اموات ہیں کہ ٹھہرنے نام نہیں لیتیں ، ایک شور برپا ہے کہ صحرائے تھر مر رہا ہے جب کہ سندھ حکومت کا یہی کہنا تھا کہ تھر مفت میں بدنام ہے ، کچھ لوگ حقائق کو دانستہ جھٹلاتے ہیں ، تھر صرف بھوک، بدحالی ، مجبوری اور موت کا نام نہیں بلکہ اس کا دوسرا رخ انتہائی حسین ہے۔
جسے بد قسمتی سے سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے ، مخالفین محض الزامات کی بارش برسا رہے ہیں جب کہ تھر کی سماجی اور معاشی حالت بدلنے کے لیے حکومت سندھ نے ایک ہنگامی معاشی پیکیج پیش کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ تھر میں صورتحال بدلی ہے اور مزید بہتر ہو گی ۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کوئلہ کا چھٹا بڑاذخیرہ یہاں موجود ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کھلی اور کشادہ سڑکوں کا جال پھیلا رہی ہے۔ منڈی تک رسائی کا نیٹ ورک لایا جارہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ تھری عوام کے ہونٹ پیاس سے خشک تھے، اور شاعر کے بقول وہ فریاد کناں تھے کہ
کانٹوں کی زبان سوکھ گئی پیاس سے یارب
اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آئے
بہر حال صوبائی حکومت بضد رہی کہ بے شمار انسانی مسائل کا شکار اور فطرت کے غیر معمولی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تھر کی زمین نئی کروٹ لے رہی ہے۔ آج تھر کے عوام میں بے رحم موت سے تھرتھراہٹ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔
تھر وہ تھر نہیں رہا۔ مگر اب جب کہ عدالتی کیمشن نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ رپورٹ کی سفارشات پر جلد عملدرآمد کرائیں، تھری عوام کو بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تھر کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے، تھر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تھر میں تعینات ڈاکٹرز کی تنخواہیں کم از کم 4 لاکھ روپے ماہانہ کی جائیں ۔ افسران کی تقرری میرٹ پر کی جائے اور چائلڈ میرج بل پر عمل درآمد کرایا جائے۔ ان قابل عمل سفارشات میں ایک دکھی تھر کا منظر نامہ اپنی پوری مظلومیت کے ساتھ ابھرتا ہے جو سندھ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔