نمونیا سے ہرسال 15 لاکھ بچے ہلاک ہوتے ہیں ماہرین
نمونیا سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین ترقی پذیر ملکوں میں بھی متعارف کرائی جارہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچوں کوحفاظتی ٹیکوں کاکورس اور ابتدائی 6 ماہ میں ماں کا دودھ نمونیا سے بچانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل
ماہرین طب نے کہا ہے کہ نمونیا کی وجہ سے ہر20 سیکنڈ میں ایک بچہ زندگی کی بازی ہارجاتا ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق مجموعی طور پر ہر سال تقریباً 15 لاکھ بچے نمونیا کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں یہ شرح، ملیریا اور تپ دق کے مرض کے مقابلے میں زیادہ ہے نمونیا کی روک تھام اور مناسب علاج سے ہر سا ل بچوں میں 10 لاکھ اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
قومی پروگرام میں نمونیا سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین کواب ترقی پذیر ملکوں میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی نمبر5 میں نمونیا اوردائمی رکاوٹ پھیپھڑوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین کا خطاب،اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بخاری نے خطاب میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچوں کوحفاظتی ٹیکوں کاکورس اور ابتدائی 6 ماہ میں ماں کا دودھ نمونیا سے بچانے میں مدد گار ثابت ہوتاہے اور کراچی سمیت صوبے بھر میں حفاظتی ٹیکوں کاکورس مفت لگایا جاتا ہے۔
جس میں انفلوائنزا اورنمونیا سے بچائوکے ٹیکے بھی شامل ہیں،دائمی کھانسی کے حوالے سے ماہر امراض سینہ ڈاکٹر شکیل احمد صدیقی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد پھیپھڑوں میں دائمی رکائوٹ اور دائمی کھانسی میں مبتلا ہیں، ڈاکٹر ساجد مسعود نے کہا کہ نمونیا کی بروقت تشخیص نہ کی جائے تو نمونیا کی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں اور نمونیا سے اموات کی شرح 40 فیصد ہے۔
قومی پروگرام میں نمونیا سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین کواب ترقی پذیر ملکوں میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی نمبر5 میں نمونیا اوردائمی رکاوٹ پھیپھڑوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین کا خطاب،اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بخاری نے خطاب میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچوں کوحفاظتی ٹیکوں کاکورس اور ابتدائی 6 ماہ میں ماں کا دودھ نمونیا سے بچانے میں مدد گار ثابت ہوتاہے اور کراچی سمیت صوبے بھر میں حفاظتی ٹیکوں کاکورس مفت لگایا جاتا ہے۔
جس میں انفلوائنزا اورنمونیا سے بچائوکے ٹیکے بھی شامل ہیں،دائمی کھانسی کے حوالے سے ماہر امراض سینہ ڈاکٹر شکیل احمد صدیقی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد پھیپھڑوں میں دائمی رکائوٹ اور دائمی کھانسی میں مبتلا ہیں، ڈاکٹر ساجد مسعود نے کہا کہ نمونیا کی بروقت تشخیص نہ کی جائے تو نمونیا کی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں اور نمونیا سے اموات کی شرح 40 فیصد ہے۔