کرپشن بھتے اور سہولت کار

سابق فوجی صدر پر عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں اور وہ حکومت کی اجازت سے ملک سے باہر جا چکے ہیں

دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جاری آپریشن میں دہشت گردوں کی دانستہ یا نادانستہ مدد کرنے والوں اور سہولتیں فراہم کرنے والوں کی ملک بھر میں شامت آئی ہوئی ہے اور سہولت کاری اتنی مشہور ہو چکی ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کے معاملے میں حکومت پر بھی سہولت کاری کا الزام لگ گیا ہے۔

سابق فوجی صدر پر عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں اور وہ حکومت کی اجازت سے ملک سے باہر جا چکے ہیں اور سماعت پر حاضر نہ ہونے پر خصوصی عدالت کے فاضل جج کو بھی یہ کہنا پڑ گیا کہ جس طرح سابق فوجی صدر کو ملک سے جانے دیا گیا تو لگتا ہے کہ حکومت خود اس سلسلے میں سہولت کار بن گئی ہے۔ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے نہایت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جس میں سب سے اہم کردار پاک فوج نے ادا کیا ہے اور اپنے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دے کر عوام کا جو اعتماد حاصل کیا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں ہے اور آرمی چیف نے خود کو اور فوج کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھ کر اپنی مکمل توجہ اپنے پیشہ ورانہ معاملات پر مرکوز رکھی ہے جس کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب کامیابی سے ہمکنار ہو رہا ہے جس کے مکمل ہو جانے کی سال رواں تک خبریں بھی آ چکی ہیں۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس سال کے اختتام سے قبل ہونے والی ریٹائرمنٹ اور مدت ملازمت میں توسیع پر بحث کا معاملہ آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں توسیع نہ لینے کی وضاحت کر کے ختم تو کرا دیا تھا مگر قوم اور بعض نجی ادارے جنرل راحیل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نومبر میں اپنی مجوزہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیں۔

آرمی چیف اس وقت ملک میں اپنی مقبولیت کی انتہا پر ہیں اور عوام کی بہت بڑی تعداد ان پر اعتماد کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ ابھی ریٹائر نہ ہوں۔ آپریشن ضرب عضب اس سال تک مکمل ہو جانے کی کوشش جاری ہے، شاید آرمی چیف اسی وجہ سے اپنی مدت مکمل کر کے عزت سے گھر جانے کے خواہاں ہوں مگر عوامی حلقے ابھی جنرل راحیل کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔

آج کل ملک بھر میں کرپشن کی باتیں، حکومت اور سیاستدانوں پر کرپشن کے سنگین الزامات نہ صرف عروج پر ہیں بلکہ ملک میں ہر خاص و عام کی زباں پر ہیں۔ پانامہ لیکس کے بعد عمران خان اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنما روزانہ کرپشن کے متعلق بیانات دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت پر الزامات بھی لگا رہے ہیں۔ اپوزیشن اس سلسلے میں وزیر اعظم کی وضاحت اور حکومتی حلقوں کی طرف سے پیش کی جانے والی طرح طرح کی صفائیوں سے بھی مطمئن نہیں ہے اور حکومت سے مختلف مطالبے کیے جا رہے ہیں۔

آرمی چیف نے بھی اپنی تقریر میں کرپشن کو ایک ناسور اور دہشت گردی میں معاونت قرار دیا تھا جس کے فوری بعد پاک فوج نے فوج کو اپنے کرپٹ عناصر سے نجات دلانے کا عملی مظاہرہ قوم کو دکھا کر حیران کر دیا اور اپنے بارہ اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفی کے اعلان سے ثابت کر دیا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے اور ہر کرپٹ کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہو گی۔


ملک کی تاریخ میں پہلی بار فوج کے اعلیٰ افسران کی برطرفی کی تشہیر ہوئی اور کرپٹ سیاستدان اور کرپٹ افسران ہکا بکا رہ گئے اور حکومت مخالف سیاستدانوں نے فوج کے اس احتساب سے حکومت کے لیے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ پاک فوج میں خود احتسابی کا نظام پہلے سے موجود ہے اور جرم ثابت ہو جانے پر پاک فوج میں سپاہی سے جنرل تک معافی کا تصور نہیں ہے جس کا واضح ثبوت جنرل راحیل شریف نے دے دیا ہے۔

پاک فوج میں کرپشن کی باتیں سیاست کی طرح کھلے عام نہیں ہوتیں جب کہ سیاستدان ہی ہمیشہ سے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے آ رہے ہیں۔ قوم کو حیرت تو اس بات پر ہو رہی ہے کہ کرپشن میں مکمل لتھڑے ہوئے سابق حکمران اور سیاستدان بھی خود پاک صاف ہونے کے دعوے کرتے نہیں تھک رہے اور حکومتی کرپشن پر چراغ پا ہو رہے ہیں اور اپنے دور کی کرپشن کسی کو یاد نہیں۔ اس تماشے سے کرپٹ بیورو کریسی محفوظ ہو رہی تھی اور سابق اور موجودہ حکمرانوں اور اقتدار کے خواہشمند سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات میں خود کو محفوظ سمجھ رہی تھی مگر پاک فوج کے احتساب کے نظام نے بیوروکریسی اور کرپٹ سیاسی عناصر کی نیندیں حرام کر دی ہیں کیونکہ کسی کو بھی فوج میں اپنے خلاف ایسے سخت ایکشن کی توقع نہیں تھی جو فوج نے کر دکھایا ہے۔

توقع ہے کہ آرمی چیف کے اس تاریخی اقدام کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے اور قومی دولت شیر مادر کی طرح پی جانے والوں کو بلاامتیاز گرفت ہی میں نہیں لیا جائے گا بلکہ کرپشن کی رقم وصول کر کے کرپٹ سیاستدانوں بیوروکریٹس اور پولیس سمیت ہر محکمے کے بدعنوانوں کو عبرتناک سزائیں دلا کر قوم کو مطمئن کیا جائے گا۔

کرپشن کے ساتھ بھتہ خوری بھی ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور جگا ٹیکس کے نام سے شروع ہونے والا یہ مذموم غیر قانونی سلسلہ روکنے کے لیے بھی موثر اور انتہائی سخت اقدامات کرنے کی فوری اور اشد ضرورت بھی جلد پوری کی جائے گی۔

ملک بھر میں کئی سالوں سے معاشی صورتحال خراب اور کاروبار مندا چلا آ رہا ہے اور تاجر جس طرح کاروبار چلا رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جو حکومت صنعتکاروں اور تاجروں بلکہ چھوٹے دکانداروں کو بھی جانی و مالی تحفظ فراہم نہ کر سکے ایسی حکومت کو ان سے ٹیکس نہ دینے کی شکایت بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جب ٹیکس دینے کی استطاعت رکھنے والے اپنے کاروبار کو جاری رکھنے اور تحفظ کے لیے سیاسی گروہوں، نام نہاد فلاحی تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر اور بھتہ خوروں کو باقاعدگی سے بھتہ دینے پر مجبور کر دیے جائیں اور بھتے کے بغیر کاروبار کرنا ناممکن بنا دیا جائے اور حکومت بھی کچھ نہ کر رہی ہو تو حکومتی ٹیکس اور بھتے کی رقم انتہائی مشکل ہو جاتی ہے تو انھیں مجبوراً سرکاری ٹیکس کی ادائیگی میں گڑبڑ کرنا ہی پڑتی ہے۔

حکومت تو ٹیکس مانگتی ہے مگر بھتہ خور بھتہ نہ دینے پر جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ کوئی اپنی حلال کی کمائی سے خوشی سے بھتہ نہیں دیتا مگر اب تو مجبوری میں بھتہ نہ دینے والوں کو سہولت کار بنا دیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کو بھتہ نہ دینا تو کاروباری لوگوں کے لیے ممکن نہیں کیونکہ بھتہ نہ دینے پر انھیں اغوا اور مارنے کی دھمکیاں ملتی ہیں اور مجبوری میں بھتہ دینے والے اب سہولت کار قرار پاتے ہیں مگر ان کی مجبوری نہیں دیکھی جاتی۔

اپنی خوشی سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ سیاسی عناصر کو ماضی میں چندہ یا بھتہ دینے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے مگر اب ماضی کی بنیاد پر مجبوری میں ایسا کرنے والوں کو سہولت کاری کے الزام میں باعزت لوگوں کو بھی پکڑ کر منہ پر کپڑا اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر عدالتوں میں پیش کرنا انصاف نہیں بلکہ ان کی تذلیل ہے۔ ایسا کرنے والوں کو ان مجبوروں کی مجبوری کا بھی احساس کرنا چاہیے کیونکہ ہر سہولت کار مجرم نہیں ہوتا مگر مال اور جان کے خوف سے ایسا کرنے والوں سے عادی مجرموں جیسا سلوک کسی طور مناسب نہیں۔
Load Next Story