سندھ میں نیا صوبہ ہر گز نہیں بننے دیں گے زین انصاری
کالا باغ ڈیم کی حمایت پر ن لیگ سندھ کے تمام کارکنان پارٹی چھوڑ دیں گے، نیوز کانفرنس
مسلم لیگ ن کی سندھ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکررہنماؤں اورکارکنان کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان مسلم لیگ ن کی لوکل باڈی آرڈیننس کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے چیئرمین زین انصاری نے کہا ہے کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ سمیت ہر شعبے میں ناکام اور انتقامی کاروائیوں پر اتر آئی ہے۔
حیدرآباد پریس کلب میں حاجی شفیع جاموٹ، ملک چنگیز خان ،خدا ڈنو شاہ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دُہرے بلدیاتی نظام کے بعد سندھ انتظامی طور پر تقسیم ہو چکا ہے، بس اعلان کرنا باقی ہے لیکن مسلم لیگ ن سندھ میں کوئی نیا صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
انھوں نے کہا کہ اگر نون لیگ نے کالا باغ ڈیم بنانے کی حمایت کی تو سندھ میں ایک کارکن بھی پارٹی میں نہیں رہے گا۔ پی پی اگر کالا باغ ڈیم کی اتنی ہی مخالف ہے تو کونسل آف کامن انٹریسٹ میں لے جا کر اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے دفن کیوں نہیں کر دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک خصوصاً کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، سندھ میں کئی وزیر اعلیٰ ہیں،انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سندھ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکررہنماؤں اورکارکنان کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
حیدرآباد پریس کلب میں حاجی شفیع جاموٹ، ملک چنگیز خان ،خدا ڈنو شاہ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دُہرے بلدیاتی نظام کے بعد سندھ انتظامی طور پر تقسیم ہو چکا ہے، بس اعلان کرنا باقی ہے لیکن مسلم لیگ ن سندھ میں کوئی نیا صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
انھوں نے کہا کہ اگر نون لیگ نے کالا باغ ڈیم بنانے کی حمایت کی تو سندھ میں ایک کارکن بھی پارٹی میں نہیں رہے گا۔ پی پی اگر کالا باغ ڈیم کی اتنی ہی مخالف ہے تو کونسل آف کامن انٹریسٹ میں لے جا کر اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے دفن کیوں نہیں کر دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک خصوصاً کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، سندھ میں کئی وزیر اعلیٰ ہیں،انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سندھ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکررہنماؤں اورکارکنان کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔