ایچ ڈی اے کی لاپروائی رہائشی اسکیم تباہی سے دوچار

ترقیاتی کاموں پرکروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کوہسار ایکسٹینشن آباد نہ ہو سکی

ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی سی اور ان کا ماتحت عملہ اسٹیٹ ایجنسیز کے آلہ کار بن کر اسکیم کو کھڈے لائن لگانے اور مال بنانے میں مصروف ہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور:
کوہسار ایکسٹینشن میں آبادکاری کے لیے ایچ ڈی اے حکام لاپروائی سے کام لے رہی ہے۔


جس کے باعث1992ء میں شروع کی گئی اسکیم تباہی کے دہانے پر ہے، ترقیاتی کاموں پر لگائے گئے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ۔ ان خیالات کا اظہار متاثرین کوہسار کے نمائندے عبدالجبار رحمانی نے الاٹیز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2001 ء میں محتسب سندھ جسٹس حاذق الخیری کے فیصلے پر من و عن عمل نہ کرنے کے سبب کوہسار ایکسٹینشن میں عوام الناس کے کروڑوں روپے سے کیے گئے ترقیاتی کام تباہ ہو رہے ہیں، محتسب نے واضح حکم دیا تھا کہ جن الاٹیز نے مکمل ادائیگی کر دی ہے انہیں قبضہ اور لیز دی جائے اور جو الاٹیز ادائیگی وقت مقرر تک نہ کریں ان کے پلاٹ منسوخ کر کے فروخت کر دیے جائیں۔

لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی سی اور ان کا ماتحت عملہ اسٹیٹ ایجنسیز کے آلہ کار بن کر اسکیم کو کھڈے لائن لگانے اور مال بنانے میں مصروف ہیں اور غیر قانونی طور پر منسوخ کیے گئے پلاٹس کو رشوت کے عوض بحال کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سابق ناظم کنور نوید جمیل نے کوہسار ایکسٹینشن سمیت کوہسار زون میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرائے۔ انھوں نے کہا کہ محتسب سندھ کے فیصلے کو11 سال گزر چکے لیکن نادہندہ الاٹیز کے پلاٹ منسوخ نہیں کیے جا رہے اگر ان نادہندہ دو ہزار سے زائد الاٹیز کے پلاٹ منسوخ کرنے کے بعد نیلا م کر دیے جاتے تو ایچ ڈی اے کو کثیر سرمایہ حاصل ہوتا عبدالجبار رحمانی نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سمیت بالا حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عوام کے کروڑوں روپے سے کیے گئے ترقیاتی کام تباہی سے بچ سکیں اور حیدرآباد سے آبادی کے زبردست دبائو کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔
Load Next Story