گرمی کی لہر
درجہ حرارت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب گرین گیسوں کا غیر معمولی اخراج بتایاجاتا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
دنیا میں آئے دن مختلف حوالوں سے دن منائے جاتے ہیں، جس کا مقصد کسی مخصوص دن کی اہمیت کو واضح کرنا ہوتا ہے 23 اپریل کو ''یوم ارض'' منایا جاتا ہے۔ یہ دن کرۂ ارض کے حوالے سے منایا جاتا ہے،اس دن کے حوالے سے ادارہ تحفظ ماحولیات کا جو اشتہار اخباروں میں چھپا ہے اس میں کرۂ ارض کو ماحولیات کی طرف سے لاحق مختلف خطرات کی نشان دہی کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کو ماحولیات سے لاحق خطرات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ایک دن پہلے سے یہ اعلانات کیے جارہے ہیں کہ کراچی میں آج سے تین دن تک سخت گرمی پڑے گی۔ اس حوالے سے حکومت نے جو غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں اس سے جہاں حکومت کی پھرتی اور ذمے داری کا اندازہ ہوتا ہے وہیں عوام میں پائی جانے والی تشویش بھی سامنے آتی ہے لیکن ہوا یہ کہ اس دن یعنی 22 اپریل کو پیشگوئی کے مطابق نہ کوئی غیر معمولی گرمی پڑی نہ کسی بڑے جانی نقصان کی کوئی اطلاع ملی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ بے بنیاد تھی، محکمہ موسمیات کو ان حوالوں سے بہت محتاط زیادہ درست معلوماتی اطلاعات عوام سے شیئرکرنی چاہئیں تاکہ عوام غیر ضروری دہشت اور خوف کا شکار نہ ہوں۔
کرۂ ارض جن ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے اس میں درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ ایک ایسا خطرناک پہلو ہے جس سے پورا کرۂ ارض متاثر ہورہاہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو بڑے بڑے گلیشیئر پگھل کر سمندروں میں آتے رہیں گے اور سطح سمندر بلند ہوتی رہے گی اور خطرہ ہے کہ اس صدی کے دوران کئی ساحلی شہر سمندر برد ہوجائیں گے اور شدید گرمی سے انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہوگا، درجہ حرارت اورگرمی کی لہر میں اضافہ کرۂ ارض پر یکساں طور پر نہیں ہوتا کہیں سخت گرمی ہے تو کہیں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے خود پاکستان کے مختلف شہروں میں موسمی کیفیات یکساں نہیں الگ الگ ہیں۔ بھارت میں پچھلے دن ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد گرمی کی لہر سے جاں بحق ہوگئے۔
درجہ حرارت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب گرین گیسوں کا غیر معمولی اخراج بتایاجاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ گرین گیس کا استعمال صنعتی علاقوں میں ہوتا ہے اور انسانی سہولتوں میں بھی گرین گیس استعمال ہوتی ہے، ظاہر ہے صنعتی ترقی اور انسانی آسائش بھی انسانوں کے لیے ناگزیر ہیں لیکن یہ ضرور نہیں یہ سہولتیں انسانی زندگی سے مشروط ہیں اگر انسان زندہ ہی نہ رہے تو ان سہولتوں کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔
اس حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ ACاور ریفریجیٹر اگرچہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں لیکن آج بھی آبادی کا 80 فی صد سے زیادہ حصہ جو روٹی کا محتاج ہے نہ AC سے استفادہ حاصل کرسکتا ہے نہ فرج سے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سہولتیں عوام کی پہنچ سے دور ہیں، ان میں گرین گیس استعمال کرکے انسانی زندگی کو خطرے میں کیوں ڈالا جارہا ہے۔
گرمی کی لہروں سے پیدل چلنے والے موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے ہی عام طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور یہ غریب طبقات ہی ہوتے ہیں، ایک طرف 80 فی صد وہ لوگ ہیں جو AC اور فرج وغیرہ سے نا آشنا ہیں دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے ہر کمرے، ہر گاڑی میں اے سی لگا ہوا ہے ایک ہی خدا کی اس مخلوق میں اتنا فرق کیوں ہے؟
بیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے آغاز کی صدی ہے، بیسویں صدی کا ماہر انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اکیسویں صدی کے آغاز تک اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ وہ اب ہمارے نظام شمسی کے سیاروں پر ہی کمند نہیں ڈال رہا ہے بلکہ کائنات کے پوشیدہ اسرار سے اس طرح پردے اٹھارہا ہے کہ ہزاروں سالوں پر پھیلے عقائدونظریات بے جواز ہوکر رہ گئے ہیں، مریخ پرکمند ڈالنے والے انسان کی کیا مجبوری ہے کہ وہ کرۂ ارض کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، کیا یہ ناکامی انسان کی مجبوری ہے یا غفلت اور لاپرواہی؟ اگر مجبوری ہے تو پھر انسان کو قدرتی آفات سے کوئی نہیں بچاسکتا، اگر لاپرواہی ہے تو انسان انسانیت کا مجرم ہے۔
ایٹمی تجربات کو بھی ماحولیات کی خرابی کا ایک فیکٹر کہا جاتا ہے، دنیا میں 25 ہزار کے لگ بھگ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، ایٹمی ملک آئے دن ایٹمی میزائلوں کے تجربات کرتے رہتے ہیں، برصغیر کے دو ملکوں میں ایٹمی میزائلوں کے تجربات کا باضابطہ مقابلہ ہورہا ہے، دنیا کا ہر ایک ایٹمی ملک یہ جانتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرۂ ارض کو تباہ کرسکتا ہے اس حقیقت کے پیش نظر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ممکن ہی نہیں۔
1945 میں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بموں کے استعمال سے جو تباہی آئی تھی ۔ اس کے خیال ہی سے کرۂ ارض کا انسان خوف زدہ ہوجاتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بھیانک تجربے کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی لگادی جاتی لیکن حضرت انسان کا عالم یہ ہے کہ 1945 میں استعمال ہونے والے ایٹم بموں سے بہت زیادہ طاقت ور ایٹم بم تیارکیے جارہے ہیں، کیا اس رویے کو انسان دوستی اور کرۂ ارض دوستی کہا جا سکتا ہے؟
کرۂ ارض کی عمر 4 ارب سال بتائی جاتی ہے اس طویل ترین عرصے میں کرۂ ارض کتنی بار اجڑا، کتنی بار آباد ہوا اس کا اندازہ ممکن نہیں، البتہ چند ہزار سال پہلے زیر زمین جانے والی بستیوں کے آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اجڑتا رہا اورآباد ہوتا رہا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ زیر زمین جانے والی بستیوں کا سبب کیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چار ارب سالوں کے ناقابل یقین عرصے میں دنیا میں کتنی تہذیبیں اجڑیں،کتنی بار کرۂ ارض پر جاندار دوبارہ جنم لیے اس حوالے سے اگر غور کیا جائے تو کرۂ ارض پر جانداروں کی تباہی کوئی انہونی نظر نہیں آتی البتہ کس دور میں کس طرح دنیا تباہ ہوئی اس حوالے سے ماہرین ارض کچھ بتانے سے بہر حال قاصر ہیں۔
کراچی میں اگرچہ درجۂ حرارت غیر معمولی نہیں رہا لیکن پھر بھی شدید گرمی سے عوام پریشان رہے اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ کراچی میں اس سہ روزہ گرمی کے دوران بجلی لوڈ شیڈنگ کے شیڈول سے بہت زیادہ غائب رہی اور عوام اس غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے سخت پریشان رہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی ضروریات کے یہ ادارے ہر کنٹرول سے آزاد ہیں اور عوام لاوارث بن گئے ہیں۔
آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ایک دن پہلے سے یہ اعلانات کیے جارہے ہیں کہ کراچی میں آج سے تین دن تک سخت گرمی پڑے گی۔ اس حوالے سے حکومت نے جو غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں اس سے جہاں حکومت کی پھرتی اور ذمے داری کا اندازہ ہوتا ہے وہیں عوام میں پائی جانے والی تشویش بھی سامنے آتی ہے لیکن ہوا یہ کہ اس دن یعنی 22 اپریل کو پیشگوئی کے مطابق نہ کوئی غیر معمولی گرمی پڑی نہ کسی بڑے جانی نقصان کی کوئی اطلاع ملی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ بے بنیاد تھی، محکمہ موسمیات کو ان حوالوں سے بہت محتاط زیادہ درست معلوماتی اطلاعات عوام سے شیئرکرنی چاہئیں تاکہ عوام غیر ضروری دہشت اور خوف کا شکار نہ ہوں۔
کرۂ ارض جن ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے اس میں درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ ایک ایسا خطرناک پہلو ہے جس سے پورا کرۂ ارض متاثر ہورہاہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو بڑے بڑے گلیشیئر پگھل کر سمندروں میں آتے رہیں گے اور سطح سمندر بلند ہوتی رہے گی اور خطرہ ہے کہ اس صدی کے دوران کئی ساحلی شہر سمندر برد ہوجائیں گے اور شدید گرمی سے انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہوگا، درجہ حرارت اورگرمی کی لہر میں اضافہ کرۂ ارض پر یکساں طور پر نہیں ہوتا کہیں سخت گرمی ہے تو کہیں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے خود پاکستان کے مختلف شہروں میں موسمی کیفیات یکساں نہیں الگ الگ ہیں۔ بھارت میں پچھلے دن ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد گرمی کی لہر سے جاں بحق ہوگئے۔
درجہ حرارت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب گرین گیسوں کا غیر معمولی اخراج بتایاجاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ گرین گیس کا استعمال صنعتی علاقوں میں ہوتا ہے اور انسانی سہولتوں میں بھی گرین گیس استعمال ہوتی ہے، ظاہر ہے صنعتی ترقی اور انسانی آسائش بھی انسانوں کے لیے ناگزیر ہیں لیکن یہ ضرور نہیں یہ سہولتیں انسانی زندگی سے مشروط ہیں اگر انسان زندہ ہی نہ رہے تو ان سہولتوں کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔
اس حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ ACاور ریفریجیٹر اگرچہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں لیکن آج بھی آبادی کا 80 فی صد سے زیادہ حصہ جو روٹی کا محتاج ہے نہ AC سے استفادہ حاصل کرسکتا ہے نہ فرج سے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سہولتیں عوام کی پہنچ سے دور ہیں، ان میں گرین گیس استعمال کرکے انسانی زندگی کو خطرے میں کیوں ڈالا جارہا ہے۔
گرمی کی لہروں سے پیدل چلنے والے موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے ہی عام طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور یہ غریب طبقات ہی ہوتے ہیں، ایک طرف 80 فی صد وہ لوگ ہیں جو AC اور فرج وغیرہ سے نا آشنا ہیں دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے ہر کمرے، ہر گاڑی میں اے سی لگا ہوا ہے ایک ہی خدا کی اس مخلوق میں اتنا فرق کیوں ہے؟
بیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے آغاز کی صدی ہے، بیسویں صدی کا ماہر انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اکیسویں صدی کے آغاز تک اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ وہ اب ہمارے نظام شمسی کے سیاروں پر ہی کمند نہیں ڈال رہا ہے بلکہ کائنات کے پوشیدہ اسرار سے اس طرح پردے اٹھارہا ہے کہ ہزاروں سالوں پر پھیلے عقائدونظریات بے جواز ہوکر رہ گئے ہیں، مریخ پرکمند ڈالنے والے انسان کی کیا مجبوری ہے کہ وہ کرۂ ارض کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، کیا یہ ناکامی انسان کی مجبوری ہے یا غفلت اور لاپرواہی؟ اگر مجبوری ہے تو پھر انسان کو قدرتی آفات سے کوئی نہیں بچاسکتا، اگر لاپرواہی ہے تو انسان انسانیت کا مجرم ہے۔
ایٹمی تجربات کو بھی ماحولیات کی خرابی کا ایک فیکٹر کہا جاتا ہے، دنیا میں 25 ہزار کے لگ بھگ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، ایٹمی ملک آئے دن ایٹمی میزائلوں کے تجربات کرتے رہتے ہیں، برصغیر کے دو ملکوں میں ایٹمی میزائلوں کے تجربات کا باضابطہ مقابلہ ہورہا ہے، دنیا کا ہر ایک ایٹمی ملک یہ جانتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرۂ ارض کو تباہ کرسکتا ہے اس حقیقت کے پیش نظر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ممکن ہی نہیں۔
1945 میں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بموں کے استعمال سے جو تباہی آئی تھی ۔ اس کے خیال ہی سے کرۂ ارض کا انسان خوف زدہ ہوجاتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بھیانک تجربے کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی لگادی جاتی لیکن حضرت انسان کا عالم یہ ہے کہ 1945 میں استعمال ہونے والے ایٹم بموں سے بہت زیادہ طاقت ور ایٹم بم تیارکیے جارہے ہیں، کیا اس رویے کو انسان دوستی اور کرۂ ارض دوستی کہا جا سکتا ہے؟
کرۂ ارض کی عمر 4 ارب سال بتائی جاتی ہے اس طویل ترین عرصے میں کرۂ ارض کتنی بار اجڑا، کتنی بار آباد ہوا اس کا اندازہ ممکن نہیں، البتہ چند ہزار سال پہلے زیر زمین جانے والی بستیوں کے آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اجڑتا رہا اورآباد ہوتا رہا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ زیر زمین جانے والی بستیوں کا سبب کیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چار ارب سالوں کے ناقابل یقین عرصے میں دنیا میں کتنی تہذیبیں اجڑیں،کتنی بار کرۂ ارض پر جاندار دوبارہ جنم لیے اس حوالے سے اگر غور کیا جائے تو کرۂ ارض پر جانداروں کی تباہی کوئی انہونی نظر نہیں آتی البتہ کس دور میں کس طرح دنیا تباہ ہوئی اس حوالے سے ماہرین ارض کچھ بتانے سے بہر حال قاصر ہیں۔
کراچی میں اگرچہ درجۂ حرارت غیر معمولی نہیں رہا لیکن پھر بھی شدید گرمی سے عوام پریشان رہے اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ کراچی میں اس سہ روزہ گرمی کے دوران بجلی لوڈ شیڈنگ کے شیڈول سے بہت زیادہ غائب رہی اور عوام اس غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے سخت پریشان رہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی ضروریات کے یہ ادارے ہر کنٹرول سے آزاد ہیں اور عوام لاوارث بن گئے ہیں۔