سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
پانامہ لیکس میں دنیا بھر کے مختلف حکمرانوں اور دیگر افراد کے نام آنے کے بعد ایک ہلچل سی مچ گئی
پانامہ لیکس میں دنیا بھر کے مختلف حکمرانوں اور دیگر افراد کے نام آنے کے بعد ایک ہلچل سی مچ گئی، فوٹو؛ فائل
KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے وزیراعظم کے حوالے سے انٹرنیشنل کنسورشیم فار انویسٹی گیٹو جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی مذمت کی۔ کابینہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اس اقدام کو سراہا گیا کہ انھوں نے خود اپنے آپ اور اپنے پورے خاندان کو کھلے احتساب کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا اس کے علاوہ کابینہ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ٹی او آرز کی منظوری دی اور کہا کہ یہ ٹی او آرز حتمی ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
پانامہ لیکس میں دنیا بھر کے مختلف حکمرانوں اور دیگر افراد کے نام آنے کے بعد ایک ہلچل سی مچ گئی اور بعض ممالک میں عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ گئے اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا۔ پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال پیدا ہو گئی اور اپوزیشن نے حکومت پر پانامہ لیکس کی مکمل تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی کسی وضاحت کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دے رہیں اور اس پر پانامہ لیکس کے حوالے سے مکمل تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے، صورت حال یہ ہے کہ کل تک وہ سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہی تھیں آج حکومت کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے بدھ کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے ان کی رہائش گاہ لال حویلی میں ملاقات کی اور انھیں پانامہ لیکس کے معاملے پر 2 مئی کے اپوزیشن اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسے شیخ رشید نے قبول کر لیا۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے پانامہ لیکس پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ پروپیگنڈے کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جس انداز میں حکومت کے خلاف متحرک ہو رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آیندہ آنے والے چند دنوں میں حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
حکومت پانامہ لیکس اور سیاسی جماعتوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے اس دباؤ سے نکلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے خطاب کے دوران اپنی صفائی پیش کر چکے ہیں اور اب وفاقی کابینہ کا اجلاس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں کابینہ نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کی قرار داد منظور کی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپوزیشن کی جانب سے پیدا کردہ دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں جلسے کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب اسلام آباد میں حکومت کے خلاف دھرنا دیا گیا تو اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا جو کئی روز تک مسلسل جاری رہا اور وزیراعظم خود اس میں شرکت کرتے رہے' اب جب پانامہ لیکس کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف نیا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اکٹھی ہو رہی ہیں تو ایسی صورت حال سے بھی نمٹنے کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا چاہیے اور وہاں اپوزیشن کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے وضاحت پیش کرنا چاہیے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے کیا لائحہ عمل طے کرتی ہے، آیا وہ اپوزیشن جماعتوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہو جائے گا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف سرگرمیاں دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اس کے لیے نئی مشکلات پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ملک کی سیاست کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے احتساب کا مطالبہ ضرور کریں لیکن وہ کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کریں کہ ملک میں سیاسی بحران' انتشار اور افراتفری کی صورت حال پیدا ہو کیونکہ داخلی اور خارجی طور پر مسائل میں گھرا ہوا ملک کسی نئے سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے وزیراعظم کے حوالے سے انٹرنیشنل کنسورشیم فار انویسٹی گیٹو جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی مذمت کی۔ کابینہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اس اقدام کو سراہا گیا کہ انھوں نے خود اپنے آپ اور اپنے پورے خاندان کو کھلے احتساب کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا اس کے علاوہ کابینہ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ٹی او آرز کی منظوری دی اور کہا کہ یہ ٹی او آرز حتمی ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
پانامہ لیکس میں دنیا بھر کے مختلف حکمرانوں اور دیگر افراد کے نام آنے کے بعد ایک ہلچل سی مچ گئی اور بعض ممالک میں عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ گئے اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا۔ پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال پیدا ہو گئی اور اپوزیشن نے حکومت پر پانامہ لیکس کی مکمل تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی کسی وضاحت کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دے رہیں اور اس پر پانامہ لیکس کے حوالے سے مکمل تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے، صورت حال یہ ہے کہ کل تک وہ سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہی تھیں آج حکومت کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے بدھ کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے ان کی رہائش گاہ لال حویلی میں ملاقات کی اور انھیں پانامہ لیکس کے معاملے پر 2 مئی کے اپوزیشن اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسے شیخ رشید نے قبول کر لیا۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے پانامہ لیکس پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ پروپیگنڈے کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جس انداز میں حکومت کے خلاف متحرک ہو رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آیندہ آنے والے چند دنوں میں حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
حکومت پانامہ لیکس اور سیاسی جماعتوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے اس دباؤ سے نکلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے خطاب کے دوران اپنی صفائی پیش کر چکے ہیں اور اب وفاقی کابینہ کا اجلاس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں کابینہ نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کی قرار داد منظور کی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپوزیشن کی جانب سے پیدا کردہ دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں جلسے کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب اسلام آباد میں حکومت کے خلاف دھرنا دیا گیا تو اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا جو کئی روز تک مسلسل جاری رہا اور وزیراعظم خود اس میں شرکت کرتے رہے' اب جب پانامہ لیکس کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف نیا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اکٹھی ہو رہی ہیں تو ایسی صورت حال سے بھی نمٹنے کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا چاہیے اور وہاں اپوزیشن کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے وضاحت پیش کرنا چاہیے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے کیا لائحہ عمل طے کرتی ہے، آیا وہ اپوزیشن جماعتوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہو جائے گا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف سرگرمیاں دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اس کے لیے نئی مشکلات پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ملک کی سیاست کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے احتساب کا مطالبہ ضرور کریں لیکن وہ کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کریں کہ ملک میں سیاسی بحران' انتشار اور افراتفری کی صورت حال پیدا ہو کیونکہ داخلی اور خارجی طور پر مسائل میں گھرا ہوا ملک کسی نئے سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔