انڈے چوزے اور پولٹیکل پولٹری فارمز
لیکن خیال یہ ہے کہ اس سے چوزے ہی نکالے جائیں جو زیادہ تر عجیب الخلقت از قسم دھرنا وغیرہ ہوں گے۔
barq@email.com
ISLAMABAD/KARACHI:
اپنے یہاں کا تو پتہ نہیں کہ ''پانامہ انڈوں'' کا کیا بنے گا اس پر کمیشن نام کی کوئی کڑک مرغی بٹھا کر چوزے نکالے جائیں گے یا کوئی مرد مجاہد قسم کا باورچی یہ بولے گا کہ
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
''پانامہ لیکس'' کے انڈے ہیں گندے
لیکن خیال یہ ہے کہ اس سے چوزے ہی نکالے جائیں جو زیادہ تر عجیب الخلقت از قسم دھرنا وغیرہ ہوں گے۔ حالانکہ عجیب الخلقت تو ایک طرف عام سادھارن چوزہ بھی کچھ کم عجیب الخلقت اور عجیب الخصلت نہیں ہوتا کیونکہ چوزے کی عجوبگی کے لیے صرف یہ بات بھی کافی ہے کہ آپ اسے ''پیدا ہونے'' سے پہلے بھی کھا سکتے ہیں، بیج سکتے ہیں، خرید سکتے ہیں، دوسری عجیب بات اس کے اندر یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی سائنس دان، طبیعات دان اور چوزہ دان یہ پتہ نہیں لگا پایا کہ چوزہ ایک چھوٹے اور سخت انڈے کے اندر گھس کیسے جاتا ہے کہ اکیس دن تک ''انڈا باس'' لیے ہوئے گھس بیٹھیا بنا رہتا ہے اور پھر نکل آتا ہے۔ یہ آخری مرحلہ تو سب دیکھ پاتے ہیں لیکن پہلا گھسنے کا عمل کسی نے بھی نہیں دیکھا ہے، چوزوں اور ان کے چوزے دان یعنی انڈوں کے بارے میں یہ بھی ایک خاص بات یہ ہے کہ ''پر'' نہ ہونے کے باوجود پرندے کہلاتے ہیں حالانکہ علامہ نے یہ صفت ''دل کی بات'' کے لیے کہی ہے کہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
''پر'' نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حالانکہ چوزہ پرندہ ہونے کے باوجود یعنی ''سر پر پیر'' ہونے کے باوجود بھی پرواز نہیں کر سکتا، خود اس کی تو بساط ہی کیا خود اس کے ''والدین'' تک بے پروازی پرندے ہوتے ہیں، علماء نے اس کی وجہ بسیار خوری یعنی زیادہ ٹھونسنا اور اس کے نتیجے میں موٹا ہونا بتایا ہے یہاں پر آ کر انڈے اور چوزے لیڈروں کے مماثل ہو جاتے ہیں کہ بسیار خوری اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ ان میں اور بھی کئی مشترکات اور مماثلات پائی جاتی ہیں۔
یہ اگر پرندہ ہوتے ہوئے پرواز نہیں کر سکتے تو وہ انسان ہونے کے باوجود ''انڈے'' ہوتے ہیں جو تھوڑا سا گرم ہوتے ہی گندے ہو جاتے ہیں اور پھر چار دانگ پانامہ میں مشہور ہو جاتے ہیں، ان گندے انڈوں کا مسئلہ مملکت ناپرسان میں بھی کافی اہمیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ وہاں بھی سیکڑوں پولٹری فارم عرف پولیٹکل پارٹیاں موجود ہیں جن میں گندے انڈے نکلتے رہتے ہیں، چنانچہ چینل ''ہیاں سے ہواں'' نے اپنی طرف سے ''پانامہ ایگس'' پر از خود کمیشن کی مرغی بٹھا دی، بلکہ مرغیاں کہیے جن میں دو تو ہماری اپنے گھر کی دال برابر مرغیاں ہیں اور ایک خاص الخاص مرغی ہم نے مملکت ناپرسان سے زرکثیر صرف کر کے منگوائی ہوئی ہے۔
اس ناپرسانی مرغی کا نام نامی اور اسم گرمی چوزے خان انڈہ ہے اور وہاں کے بہترین گندے انڈوں میں ان کا شمار ہوتا ہے کیونکہ وہاں کے تقریباً سارے ہی پولٹری فارموں میں ان آؤٹ کا شغل کر چکے ہیں، تو آیئے اپنا خاص الخاص ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' شروع کرتے ہیں
اینکر: ہاں تو جناب انڈہ خان
چوزہ: چوزے خان انڈا
اینکر: چوزے خان انڈا، یہ مملکت اللہ داد ناپرسان میں گندے انڈوں کا کیا چکر ہے، خاص طور پر ''پانامہ ایگس'' پر کمیشن کی مرغی بٹھانے کا کیا مسئلہ ہے
چوزہ: مسئلہ بڑا گھمبیر ہے ناپرسان میں اس وقت تک تقریباً تین سو پولٹری فارم موجود ہیں
چشم: ہمارے ہاں تو تین سو بیس ہیں
علامہ: اور سو کے برابر تم خود ہو اس لیے چار سو بیس بنے
چشم: یہ تو اپ کا لکی عدد ہے
علامہ: اور تمہارا آٹھ سو چالیس
اینکر: تم دونوں اپنے گندے منہ بند رکھو، ہاں تو یہ اتنی ساری پارٹیاں
چوزہ: پارٹیاں نہیں پولٹیکل پولٹری فارمز
اینکر: اگر تم دونوں نے ایک لفظ بھی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا
چشم: وہ تو اب بھی نہیں ہے
علامہ: تم جو ہو
اینکر: اچھا آ آ پ... آپ بتائیں گندے انڈوں کا نکلنا اچھا کیسے ہوا؟
چوزہ: مطلب اس کا یہ ہے کہ تم مملکت ناپرسان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے وہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے
اینکر: مثلاً اب یہ جو پولٹیکل پولٹری فارموں میں گندے انڈے نکلے ہیں یہی گندے انڈے ہی تو مارکیٹ میں زیادہ ویلیو رکھتے ہیں
اینکر: عجیب بات ہے
چوزہ: بل کہ وہاں تو منشی لوگ بیٹھ کر حساب کتاب بھی کرنے لگے ہیں
اینکر: کیسا حساب کتاب؟
چوزہ: جس پولٹیکل پولٹری فارم کے گندے انڈے زیادہ نکلیں گے اقتدار اسی کو ملے گا
اینکر: یہ تو اچھی بات نہیں ہے
چوزہ: یہی بری بات تو سب سے اچھی بات ہے
اینکر: میں سمجھا نہیں
چوزہ: یہ تو سیدھی سی بات ہے کسی کے پاس ''کچھ'' ہو گا تو کسی کو دے سکے گا نا
اینکر: اور جس کے پاس کچھ نہیں ہو گا وہ کسی کو کیا دے گا خالی میدان سے کوئی کیا لے جائے گا اور ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا
اینکر: عجیب و غریب فلسفہ ہے
چوزہ: عجیب ہو گا لیکن غریب نہیں ہے لوگ اسی درخت کے پاس جاتے ہیں جو سایہ دار اور میوہ دار ہو
اینکر: ہاں یہ تو ہے
چوزہ: تو یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں سب سے بڑی نیک نامی بدنامی ہی ہوتی ہے۔
اپنے یہاں کا تو پتہ نہیں کہ ''پانامہ انڈوں'' کا کیا بنے گا اس پر کمیشن نام کی کوئی کڑک مرغی بٹھا کر چوزے نکالے جائیں گے یا کوئی مرد مجاہد قسم کا باورچی یہ بولے گا کہ
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
''پانامہ لیکس'' کے انڈے ہیں گندے
لیکن خیال یہ ہے کہ اس سے چوزے ہی نکالے جائیں جو زیادہ تر عجیب الخلقت از قسم دھرنا وغیرہ ہوں گے۔ حالانکہ عجیب الخلقت تو ایک طرف عام سادھارن چوزہ بھی کچھ کم عجیب الخلقت اور عجیب الخصلت نہیں ہوتا کیونکہ چوزے کی عجوبگی کے لیے صرف یہ بات بھی کافی ہے کہ آپ اسے ''پیدا ہونے'' سے پہلے بھی کھا سکتے ہیں، بیج سکتے ہیں، خرید سکتے ہیں، دوسری عجیب بات اس کے اندر یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی سائنس دان، طبیعات دان اور چوزہ دان یہ پتہ نہیں لگا پایا کہ چوزہ ایک چھوٹے اور سخت انڈے کے اندر گھس کیسے جاتا ہے کہ اکیس دن تک ''انڈا باس'' لیے ہوئے گھس بیٹھیا بنا رہتا ہے اور پھر نکل آتا ہے۔ یہ آخری مرحلہ تو سب دیکھ پاتے ہیں لیکن پہلا گھسنے کا عمل کسی نے بھی نہیں دیکھا ہے، چوزوں اور ان کے چوزے دان یعنی انڈوں کے بارے میں یہ بھی ایک خاص بات یہ ہے کہ ''پر'' نہ ہونے کے باوجود پرندے کہلاتے ہیں حالانکہ علامہ نے یہ صفت ''دل کی بات'' کے لیے کہی ہے کہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
''پر'' نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حالانکہ چوزہ پرندہ ہونے کے باوجود یعنی ''سر پر پیر'' ہونے کے باوجود بھی پرواز نہیں کر سکتا، خود اس کی تو بساط ہی کیا خود اس کے ''والدین'' تک بے پروازی پرندے ہوتے ہیں، علماء نے اس کی وجہ بسیار خوری یعنی زیادہ ٹھونسنا اور اس کے نتیجے میں موٹا ہونا بتایا ہے یہاں پر آ کر انڈے اور چوزے لیڈروں کے مماثل ہو جاتے ہیں کہ بسیار خوری اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ ان میں اور بھی کئی مشترکات اور مماثلات پائی جاتی ہیں۔
یہ اگر پرندہ ہوتے ہوئے پرواز نہیں کر سکتے تو وہ انسان ہونے کے باوجود ''انڈے'' ہوتے ہیں جو تھوڑا سا گرم ہوتے ہی گندے ہو جاتے ہیں اور پھر چار دانگ پانامہ میں مشہور ہو جاتے ہیں، ان گندے انڈوں کا مسئلہ مملکت ناپرسان میں بھی کافی اہمیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ وہاں بھی سیکڑوں پولٹری فارم عرف پولیٹکل پارٹیاں موجود ہیں جن میں گندے انڈے نکلتے رہتے ہیں، چنانچہ چینل ''ہیاں سے ہواں'' نے اپنی طرف سے ''پانامہ ایگس'' پر از خود کمیشن کی مرغی بٹھا دی، بلکہ مرغیاں کہیے جن میں دو تو ہماری اپنے گھر کی دال برابر مرغیاں ہیں اور ایک خاص الخاص مرغی ہم نے مملکت ناپرسان سے زرکثیر صرف کر کے منگوائی ہوئی ہے۔
اس ناپرسانی مرغی کا نام نامی اور اسم گرمی چوزے خان انڈہ ہے اور وہاں کے بہترین گندے انڈوں میں ان کا شمار ہوتا ہے کیونکہ وہاں کے تقریباً سارے ہی پولٹری فارموں میں ان آؤٹ کا شغل کر چکے ہیں، تو آیئے اپنا خاص الخاص ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' شروع کرتے ہیں
اینکر: ہاں تو جناب انڈہ خان
چوزہ: چوزے خان انڈا
اینکر: چوزے خان انڈا، یہ مملکت اللہ داد ناپرسان میں گندے انڈوں کا کیا چکر ہے، خاص طور پر ''پانامہ ایگس'' پر کمیشن کی مرغی بٹھانے کا کیا مسئلہ ہے
چوزہ: مسئلہ بڑا گھمبیر ہے ناپرسان میں اس وقت تک تقریباً تین سو پولٹری فارم موجود ہیں
چشم: ہمارے ہاں تو تین سو بیس ہیں
علامہ: اور سو کے برابر تم خود ہو اس لیے چار سو بیس بنے
چشم: یہ تو اپ کا لکی عدد ہے
علامہ: اور تمہارا آٹھ سو چالیس
اینکر: تم دونوں اپنے گندے منہ بند رکھو، ہاں تو یہ اتنی ساری پارٹیاں
چوزہ: پارٹیاں نہیں پولٹیکل پولٹری فارمز
اینکر: اگر تم دونوں نے ایک لفظ بھی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا
چشم: وہ تو اب بھی نہیں ہے
علامہ: تم جو ہو
اینکر: اچھا آ آ پ... آپ بتائیں گندے انڈوں کا نکلنا اچھا کیسے ہوا؟
چوزہ: مطلب اس کا یہ ہے کہ تم مملکت ناپرسان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے وہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے
اینکر: مثلاً اب یہ جو پولٹیکل پولٹری فارموں میں گندے انڈے نکلے ہیں یہی گندے انڈے ہی تو مارکیٹ میں زیادہ ویلیو رکھتے ہیں
اینکر: عجیب بات ہے
چوزہ: بل کہ وہاں تو منشی لوگ بیٹھ کر حساب کتاب بھی کرنے لگے ہیں
اینکر: کیسا حساب کتاب؟
چوزہ: جس پولٹیکل پولٹری فارم کے گندے انڈے زیادہ نکلیں گے اقتدار اسی کو ملے گا
اینکر: یہ تو اچھی بات نہیں ہے
چوزہ: یہی بری بات تو سب سے اچھی بات ہے
اینکر: میں سمجھا نہیں
چوزہ: یہ تو سیدھی سی بات ہے کسی کے پاس ''کچھ'' ہو گا تو کسی کو دے سکے گا نا
اینکر: اور جس کے پاس کچھ نہیں ہو گا وہ کسی کو کیا دے گا خالی میدان سے کوئی کیا لے جائے گا اور ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا
اینکر: عجیب و غریب فلسفہ ہے
چوزہ: عجیب ہو گا لیکن غریب نہیں ہے لوگ اسی درخت کے پاس جاتے ہیں جو سایہ دار اور میوہ دار ہو
اینکر: ہاں یہ تو ہے
چوزہ: تو یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں سب سے بڑی نیک نامی بدنامی ہی ہوتی ہے۔