یونس کا رویہ سابق کرکٹرز کے ماتھے پر شکنیں آگئیں

غیر اخلاقی حرکت سے نوجوانوں کیلیے کوئی اچھی مثال نہیں چھوڑی، وقار یونس

بورڈ درست فیصلے نہیں کرسکا،احتجاج ملکی کرکٹ پرسوالیہ نشان ہے، عامر سہیل فوٹو: فائل

یونس خان کے رویے پر سابق کرکٹرز کے ماتھے پر شکنیں آ گئیں، وقار یونس نے اسے غیر اخلاقی قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق یونس خان کی جانب سے امپائرز کے فیصلوں پر احتجاج اور پاکستان کپ ادھورا چھوڑنے کو وقار یونس نے آڑے ہاتھوں لیا ہے، سابق ہیڈ کوچ کو بھی سینئر بیٹسمین کا ایک انوکھا فیصلہ جھیلنا پڑا تھا جب انھوں نے گذشتہ سال انگلینڈ سے سیریز کا پہلا ہی میچ کھیلنے کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کردیا تھا۔ ''ایکسپریس ٹریبیون'' کو انٹرویو میں سابق پیسر نے کہا کہ کسی بھی ٹورنامنٹ میں ٹیم کو افراتفری کا شکار کرنے والے اس طرح کے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں، ڈریسنگ روم میں ایک سینئر بیٹسمین کی موجودگی سے نوجوانوں کو امید ہوتی ہے کہ حوصلہ اور کارکردگی دکھانے کا جذبہ پروان چڑھے گا، یونس نے ان کیلیے بہت ہی بُری مثال چھوڑی،ایمانداری سے بات کروں تو ان کا فیصلہ غیر اخلاقی تھا۔


سابق کپتان عامر سہیل نے کہا کہ پی سی بی یونس خان کے معاملے میں درست فیصلے نہیں کرسکا، ان کا احتجاج پاکستان کرکٹ پر ایک سوالیہ نشان ہے، سابق کپتان کو اس انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیوں ہونا پڑا یہ جاننا پڑیگا،انھوں نے کہا کہ بورڈ میں معاملات جس انداز میں چلائے جارہے ہیں ڈسپلن توڑنے کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

شوکاز نوٹس کا کھیل کھیلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، تحفظات جان کر مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش ہو تو یہ سلسلہ رک جائے گا،انھوں نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کا میدان یا ایونٹ چھوڑ کر چلے جانا مناسب نہیں لیکن اس طرح کے حالات پیدا کیوں ہونے دیے جائیں کہ کیریئر کے اختتام کے قریب پہنچا کھلاڑی اس قدر دلبرداشتہ ہوجائے۔
Load Next Story