سندھ ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزاؤں کا ریکارڈطلب کرلیا

باورچی حبیب اللہ پرجاسوسی کا الزام ہے،کورٹ مارشل نہیں کیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل

باورچی حبیب اللہ پرجاسوسی کا الزام ہے،کورٹ مارشل نہیں کیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل ۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے ان مقدمات کا ریکارڈطلب کرلیا ہے جن میں فوجی عدالتوںسے سزائیںسنائی گئی ہیں۔

فاضل عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ یہ مواد11دسمبر کو بند لفافے میں پیش کیا جائے۔چیف جسٹس مشیرعالم اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ ہدایت سپاہیوں اور سویلینز کی فوج میں تحویل کے خلاف متعدد آئینی درخواستوںکی سماعت کرتے ہوئے جاری کی۔ درخواستیں سویلین افراد وسایو،محمد بخش،پرائمری ٹیچرعبدالواحد،بلوچ رجمنٹ کے سپاہی مولا بخش،سپاہی روشن دین اور چھورکمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل کے باورچی حبیب اللہ کی گمشدگی کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔


جمعرات کو فوج کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل نے ایک رپورٹ بینچ کے روبرو پیش کی جس میں بتایاگیا کہ سویلین افرادوسایواور محمد بخش کے خلاف جاسوسی کے الزامات ہیں،تاہم پرائمری ٹیچر عبدالواحد کے بارے میں ڈی اے جی نے مہلت طلب کی تاکہ وہ حتمی صورتحال جان سکیں۔مولا بخش کے بارے میں عدالت عالیہ کو بتایاگیا کہ اسے 3سال کی سزا سنائی جاچکی ہے، جبکہ سی ایم ایچ چھور کے باورچی حبیب اللہ کو جاسوسی کے الزام میںملازمت سے برطرف کردیا گیاتاہم کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس موقع پر فاضل بینچ نے ڈی اے جی سے وضاحت طلب کی کہ بتایا جائے کہ اسے کورٹ مارشل کی کارروائی کے بغیر کیوں چھوڑ دیاگیا جبکہ دیگر سویلینز کانہ صرف کورٹ مارشل کیا جارہا ہے بلکہ سزائیں بھی سنائی جاچکی ہیں۔اشرف مغل نے سپاہی روشن دین کے بارے میں بتایا کہ اس کے خلاف بھی جاسوسی کے الزامات ہیں اور کورٹ مارشل کی کارروائی جارہی ہے جوجلد ہی مکمل ہوجائیگی، فاضل بینچ نے رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ڈی اے جی اشرف مغل کو ہدایت کی کہ فوج کی تحویل میں ایسے شہریوں کے مقدمات کی تفصیل اورمواد ہائیکورٹ میں پیش کریں جن کی سماعت مکمل ہوچکی اور وہ مواد بھی فراہم کیا جائے جن کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئی ہیں۔
Load Next Story