ملزمان کی ضمانتوں پر رہائی سپریم کورٹ نے میری بات نہیں سنی قائم علی شاہ
سنگین جرائم میں ملوث ملزمان عدالتوں سے ضمانت پررہاہوجاتے ہیں،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے شکایت کردی ہے،وزیراعلیٰ سندھ
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اسمبلی سیشن کے دوران خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افرادانسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے ایک ہفتے کے اندرضمانتوں پررہاہوجاتے ہیں۔
ہم نے اس بات کی شکایت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کوکردی ہے،کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس میں میری بات سپریم کورٹ میں نہیں سنی گئی اوراس کی مجھے تشنگی ہے،سپریم کورٹ نے جو 20 نکاتی آرڈرلکھاتھااس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ چیف سیکریٹری سندھ اورقانون نافذکرنے والے حکام کوہر ماہ بلاکرپوچھ گچھ کریں،اتھارٹی تو خدا کی ہے لیکن آئین میں سب کے اختیارات واضح ہیں،میں اپنے عوام اور پارٹی کے سامنے جوابدہ ہوں،اندرونی وبیرونی عوامل کراچی کے حالات خراب کررہے ہیں،پولیس اور رینجرز کی کارکردگی مایوس کن نہیں۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اورصوبائی وزیر فیصل سبزواری کی طرف سے کراچی کی امن وامان کی صورتحال پر اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کے بعدخطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ اس وقت حکومت محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے معاملے پراپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،محرم کے بعد ہم کراچی میں امن و امان کے مسئلے کے ہرپہلوپربحث کرائیں گے،میں کسی کو الزام نہیں دے رہالیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے۔
کراچی میں 20 لاکھ غیرملکی تارکین وطن بھی بہت بڑاچیلنج ہیں،کراچی پاکستان کی معاشی و سیاسی سرگرمیوں کامرکز ہے،یہاں امن و امان بہت ضروری ہے،حکومت سندھ نے یہ فیصلہ کیاہے کہ ماضی میں لاکھوں اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ، ان سب لائسنسز کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا،جس اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوگا اسے منسوخ تصور کیا جائے گا،ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اسلحہ لائسنسز کے اجراء کو محدود کیا جائے،ہمیں باہر سے خطرناک اسلحے کی کراچی آمد کو روکناہے ، کراچی میں قیام امن صرف پیپلزپارٹی اورایم کیوایم کی ذمے دارنہیں،تمام جماعتوںکومل کراس کے لیے کوششیں کرناہوںگی۔
ہم نے اس بات کی شکایت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کوکردی ہے،کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس میں میری بات سپریم کورٹ میں نہیں سنی گئی اوراس کی مجھے تشنگی ہے،سپریم کورٹ نے جو 20 نکاتی آرڈرلکھاتھااس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ چیف سیکریٹری سندھ اورقانون نافذکرنے والے حکام کوہر ماہ بلاکرپوچھ گچھ کریں،اتھارٹی تو خدا کی ہے لیکن آئین میں سب کے اختیارات واضح ہیں،میں اپنے عوام اور پارٹی کے سامنے جوابدہ ہوں،اندرونی وبیرونی عوامل کراچی کے حالات خراب کررہے ہیں،پولیس اور رینجرز کی کارکردگی مایوس کن نہیں۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اورصوبائی وزیر فیصل سبزواری کی طرف سے کراچی کی امن وامان کی صورتحال پر اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کے بعدخطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ اس وقت حکومت محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے معاملے پراپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،محرم کے بعد ہم کراچی میں امن و امان کے مسئلے کے ہرپہلوپربحث کرائیں گے،میں کسی کو الزام نہیں دے رہالیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے۔
کراچی میں 20 لاکھ غیرملکی تارکین وطن بھی بہت بڑاچیلنج ہیں،کراچی پاکستان کی معاشی و سیاسی سرگرمیوں کامرکز ہے،یہاں امن و امان بہت ضروری ہے،حکومت سندھ نے یہ فیصلہ کیاہے کہ ماضی میں لاکھوں اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ، ان سب لائسنسز کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا،جس اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوگا اسے منسوخ تصور کیا جائے گا،ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اسلحہ لائسنسز کے اجراء کو محدود کیا جائے،ہمیں باہر سے خطرناک اسلحے کی کراچی آمد کو روکناہے ، کراچی میں قیام امن صرف پیپلزپارٹی اورایم کیوایم کی ذمے دارنہیں،تمام جماعتوںکومل کراس کے لیے کوششیں کرناہوںگی۔