عدالتیں براہ راست نوٹس نہ دیں آئی ایس آئی کی استدعا
وزارت دفاع کے ذریعے آئی ایس آئی سے جواب طلب کیا جائے،سندھ ہائیکورٹ درخواست
وزارت دفاع کے ذریعے آئی ایس آئی سے جواب طلب کیا جائے،سندھ ہائیکورٹ درخواست فوٹو: فائل
آئی ایس آئی نے سندھ ہائیکورٹ سے درخواست کی ہے کہ عدالت آئی ایس آئی کو براہ راست نوٹس نہ بھیجے بلکہ جن مقدمات میں آئی ایس آئی کو فریق بنایا جائے ان میں وزارت دفاع کے ذریعے آئی ایس آئی سے جواب طلب کیا جائے۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو درخواست گزار صحبت کھوسو کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر آئی ایس آئی کے جنرل اسٹاف افسر سیکٹر ہیڈکوارٹر سندھ لیفٹیننٹ کرنل مرزا وسیم بیگ کی جانب سے داخل کیے گئے کمنٹس میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ شہری کابل کھوسو آئی ایس آئی کی تحویل میں نہیں ہے اور آئی ایس آئی نے اسے حراست میں نہیں لیا ، اس لیے اس مقدمے میں آئی ایس آئی کو مدعا علیہان کی فہرست سے خارج کیا جائے۔
انھوں نے پیشکش کی ہے کہ اس حوالے سے عدالت ہدایت کرے تو آئی ایس آئی کی جانب سے حلف نامہ بھی جمع کرایا جاسکتا ہے۔ فاضل بینچ نے اس جواب کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایس ایس پی گھوٹکی پیر محمد شاہ کو 25 نومبر کو طلب کرلیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کابل کھوسو، اختیارچانڈیو اور جسقم آریسر گروپ کے دیگر کارکنوں کے ہمراہ 17مارچ 2011 کو کراچی سے گھوٹکی جارہے تھے کہ انھیں گرفتار کرلیاگیا۔
بعد ازاں اختیار چانڈیو کو ریلوے ٹریک دھماکے کے الزام میں ملوث کرکے 26 اگست2011 کو عدالت میں پیش کیا گیااور درخواست گزار کو بھی رہا کردیا گیا مگر درخواست گزار کا بھائی صحبت کھوسو تاحال رہا نہیں کیا گیااور نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو درخواست گزار صحبت کھوسو کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر آئی ایس آئی کے جنرل اسٹاف افسر سیکٹر ہیڈکوارٹر سندھ لیفٹیننٹ کرنل مرزا وسیم بیگ کی جانب سے داخل کیے گئے کمنٹس میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ شہری کابل کھوسو آئی ایس آئی کی تحویل میں نہیں ہے اور آئی ایس آئی نے اسے حراست میں نہیں لیا ، اس لیے اس مقدمے میں آئی ایس آئی کو مدعا علیہان کی فہرست سے خارج کیا جائے۔
انھوں نے پیشکش کی ہے کہ اس حوالے سے عدالت ہدایت کرے تو آئی ایس آئی کی جانب سے حلف نامہ بھی جمع کرایا جاسکتا ہے۔ فاضل بینچ نے اس جواب کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایس ایس پی گھوٹکی پیر محمد شاہ کو 25 نومبر کو طلب کرلیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کابل کھوسو، اختیارچانڈیو اور جسقم آریسر گروپ کے دیگر کارکنوں کے ہمراہ 17مارچ 2011 کو کراچی سے گھوٹکی جارہے تھے کہ انھیں گرفتار کرلیاگیا۔
بعد ازاں اختیار چانڈیو کو ریلوے ٹریک دھماکے کے الزام میں ملوث کرکے 26 اگست2011 کو عدالت میں پیش کیا گیااور درخواست گزار کو بھی رہا کردیا گیا مگر درخواست گزار کا بھائی صحبت کھوسو تاحال رہا نہیں کیا گیااور نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔