ایشیائی ممالک اور سیکیورٹی چیلنجز

خطے کو اس وقت کئی چیلنجزکا سامنا ہے، اقوام متحدہ کے منشورکے مطابق پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا چاہیے

خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام ممالک مشترکہ کوششیں کرنے کے لیے آگے بڑھیں ورنہ معاملات جوں کے توں رہیں گے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے جمعرات کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات اور رابطے کے بارے میں کانفرنس (سی آئی سی اے) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے پانچویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں علاقائی تنازعات کے معاملے پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام معاملات پرجامع مذاکرات کے تحت پائیدارامن کے حصول کے لیے مکمل پرعزم ہے، جنوبی ایشیاء میں پائیدارامن اوراستحکام کے لیے کشمیرکا تنازع سلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔

پرامن اورمستحکم افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، شام اوریمن کے تنازعات صرف پرامن سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں،ایشیاء نے معیشت اورتجارت کے شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے، خطے میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی بنیادی وجوہات پر توجہ مرکوز کرنے اور ان پر جلد از جلد قابو پانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو اقتصادی، تجارتی اور توانائی کوریڈور اور علاقائی رابطوں کے مرکزکی حیثیت سے اپنی اسٹرٹیجک لوکیشن کی صلاحیتوں کا ادراک کرنا چاہیے، دہشتگردی، منشیات، اسمگلنگ اور جرائم کے خلاف مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں، بین المذاہب ہم آہنگی اور بین الثقافتی مذاکرے کو فروغ دیا جانا چاہیے، خطے کو اس وقت کئی چیلنجزکا سامنا ہے، اقوام متحدہ کے منشورکے مطابق پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا چاہیے۔

سرتاج عزیز نے جن علاقائی اور عالمی تنازعات کا ذکر کیا، دنیا کے تمام ممالک ان کے حل پر زور تو دیتے چلے آ رہے ہیں مگر اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کا کردار بہت کمزور ہے۔ جہاں تک بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کا تعلق ہے تو اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ قراردادیں منظور کر چکا ہے مگر ابھی تک وہ ان پر عملدرآمد کرانے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا اور معاملہ صرف قرارداد کی منظوری تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

موجودہ صورت حال کے تناظر میں امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی، اسٹرٹیجک اور علاقائی مفادات کے باعث یہ کہنا قطعی مشکل نہیں کہ یہ بڑی طاقتیں کشمیر کے مسئلہ پر بھارتی موقف کو زیادہ اہمیت دے رہی ہیں اور پاکستان کے بار بار مطالبات کے باوجود وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی جاندار کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل کے لیے بارہا مذاکرات کر چکا ہے مگر ابھی تک ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اب سرتاج عزیز نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان جامع مذاکرات کے تحت پائیدار امن چاہتا ہے اور تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل ہونا ضروری ہے۔


جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو پاکستان وہاں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہا ہے مگر افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون اور مشترکہ کوششیں کرنے کے بجائے معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ گزشتہ دنوں افغان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ جب افغان حکومت ہی دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے بجائے مخالفانہ رویہ اپنائے گی تو پاکستان کی جانب سے پائیدار امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششیں کیسے نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔ جہاں تک شام اور یمن کے تنازعات کا تعلق ہے تو اس میں ان ممالک کی اپنی داخلی پالیسیوں کے علاوہ عالمی سازشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

عالمی طاقتوں نے ایک منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ کے علاقے کو داخلی عدم استحکام اور خانہ جنگی سے دوچار کیا ہے۔ سرتاج عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور اگلے دس سال میں ایشیا کی معیشت کی ترقی کے امکانات روشن ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیندہ دس سال میں ایشیا میں ہونے والی معاشی ترقی میں پاکستان کا کتنا حصہ ہو گا، کیا پاکستان نے ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دی ہیں جو اسے آیندہ آنے والے برسوں میں ایشیا کے اندر ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے مقابل لا کھڑا کرے۔

موجودہ صورت حال انتہائی پریشان کن دکھائی دیتی ہے پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف داخلی سطح پر بڑی جنگ لڑ رہا ہے اور دوسری جانب افغان سرحد سے بھی اسے دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کا سامنا ہے، اس کے وسائل کا ایک بڑا حصہ تو دہشت گردی سے نبرد آزمائی میں صرف ہو رہا ہے۔دوسری جانب توانائی کا بحران معاشی ترقی کے پہیے کو سست رفتار کر رہا ہے، حکومت آیندہ دو تین برسوں میں توانائی کا بحران حل ہونے کی نوید تو دے رہی ہے مگر جب یہ بحران حل ہو گا تو تب بات بنے گی۔

دہشت گردی، منشیات، اسمگلنگ اور دیگر جرائم سمیت خطے کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے ابھی تک اس سے نمٹنے کے لیے علاقائی ممالک نے کوئی مشترکہ کوششیں شروع نہیں کیں اور معاملات ابھی تک صرف تقریروں تک محدود ہیں۔ خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام ممالک مشترکہ کوششیں کرنے کے لیے آگے بڑھیں ورنہ معاملات جوں کے توں رہیں گے۔
Load Next Story