الزامات جوابی الزامات پر کھڑی سیاست  

2014ء میں بھی عمران خان کا واحد مطالبہ ’’گو نواز شریف گو‘‘ ہی تھا۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

24 اپریل کو دو بڑے اور ایک چھوٹا جلسہ منعقد ہوا، ان میں سب سے بڑا تحریک انصاف کا تھا جو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا سارا زور اس مطالبے پر تھا کہ پانامہ لیکس اسکینڈل میں شریف خاندان خاص طور پر ان کے دو بیٹوں کے ملوث ہونے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔

2014ء میں بھی عمران خان کا واحد مطالبہ ''گو نواز شریف گو'' ہی تھا۔ میاں صاحب کے مصاحبین کا اس حوالے سے یہ اسٹینڈ ہے کہ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام ہی نہیں سو میاں صاحب اپنے عہدے سے استعفیٰ کیوں دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں صاحب براہ راست آف شور اسکینڈلز میں ملوث نہیں لیکن ان کے دو بیٹوں کے نام ہیں جس کی تردید نہ میاں صاحب کر رہے ہیں نہ ان کے مصاحبین کر رہے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ دونوں بیٹوں نے کوئی ناجائز کام نہیں کیا بلکہ جائز کاروبار کیا ہے لہٰذا ان دونوں پر بھی کوئی الزام نہیں آ سکتا۔ مصاحبین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر دونوں ملزم ہیں تو ان کی تحقیق کی جائے اور جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق انھیں سزا دی جائے۔

دوسری طرف ساری دنیا میں آف شور کمپنیوں کو بذات خود غیرقانونی اور غیر اخلاقی کاروبار کہا جا رہا ہے۔2014ء کے بعد عمران خان کی تنقید کا سب سے بڑا ہدف میاں نواز شریف ہی ہیں۔ اس پس منظر میں نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ عمران خان میرا سب سے بڑا سیاسی مخالف ہے تو غلط نہیں کہتے لیکن یہ مسئلہ نہ مخالفت کا ہے نہ دشمنی کا بلکہ یہ ایک اتنا بڑا اخلاقی مسئلہ ہے کہ مغربی ملکوں کے 3 سربراہ اس حوالے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ کوئی حکومت یا کوئی حکمران یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ آف شور کمپنیاں پوتر اور بے داغ ہیں بلکہ یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ یہ کمپنیاں حکمرانوں کے کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس بچانے کا کام انجام دے رہی ہیں اور ساری دنیا میں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کو حکمرانوں کے سنگین جرم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس حقیقت کے پیش نظر آف شور کمپنیوں کو جائز کاروباری کمپنیاں کہنا بددیانتی کے علاوہ کچھ نہیں، اگر عمران خان کی یہ لڑائی محض میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی لڑائی رہتی ہے تو عوام کو اس لڑائی سے کچھ نہیں مل سکتا کیونکہ ہماری سیاست میں ایسی مرکزی قیادت کا فقدان ہے جو نواز شریف کو ہٹا کر ان کا ایک بہتر متبادل بن سکے جب کہ عمران خان اپنے آپ کو نواز شریف کا ایک بہتر متبادل سمجھتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر سیاست دانوں کے اختلافات چونکہ شدید سے شدید تر ہوتے جا رہے ہیں، اس تناظر میں یہ تو ممکن ہے کہ یہ حضرات پانامہ لیکس کی قابل اعتبار تحقیقات پر تو متفق ہو جائیں لیکن نواز شریف کے خلاف کسی بھرپور سیاسی تحریک سے بہرحال گریزاں رہیں گے کیونکہ ان رہنماؤں کے نواز شریف سے تعلقات بہت قریبی ہیں۔ وہ عمران جیسے ولن کی موجودگی میں نواز شریف کے استعفے کے حوالے سے چلنے والی کسی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ یہ رہنما نواز شریف کی جمہوریت سے بہت مستفید ہو رہے ہیں۔


2014ء میں جب سے عمران خان سیاست میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کی نظر ہر وقت وزارت عظمیٰ کی کرسی پر لگی ہوتی ہے، اس تین سالہ عرصے میں عمران خان نے اس ملک کے 20 کروڑ عوام کے بدترین مسائل کے حل کے لیے کوئی موثر تجاویز دیں نہ اس بدترین استحصالی نظام کو بدلنے کی کوئی سنجیدہ اور موثر کوشش کی محض نیا پاکستان کے نعرے سے نہ حکمرانوں کا کوئی متبادل مل سکتا ہے نہ عوام کے 69 سالہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اس ملک کے بڑے اور بنیادی مسئلے زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کے حوالے سے عمران خان چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ کرپشن بلاشبہ پاکستان کو گھن کی طرح کھا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں اس ملک کے 20 کروڑ عوام روز بروز غربت کے دلدل میں گہرائی سے اترتے جا رہے ہیں جب کہ عمران خان کے دائیں بائیں وہی پگڑی والے سیاسی وڈیرے موجود ہیں۔

24 اپریل کو دوسرا بڑا جلسہ کراچی میں سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے کیا۔ مصطفیٰ کمال نے اپنی میئر شپ کے دوران کراچی کو ماڈرن بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن انھوں نے اس نیک نامی کو کیش کرانے کا غلط طریقہ ایجاد کیا وہ اپنی ہر تقریر، ہر پریس کانفرنس میں یہ فرما رہے ہیں کہ ہم دوست بنانے آئے ہیں دشمن بنانے نہیں۔ لیکن ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ متحدہ کے خلاف ہوتا ہے۔

بلاشبہ متحدہ کی سیاست سے بے شمار لوگوں کو شکایت بھی ہے، تحفظات بھی لیکن دن رات متحدہ اور اس کی قیادت کو برا بھلا کہنے سے انھیں عوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ ''بوجوہ'' ابھی تک متحدہ سندھ کی ایک مقبول عوام جماعت ہے جس کا ایک بڑا ثبوت بدترین اور نامساعد حالات میں اس کی بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات میں لگاتار کامیابی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپنے جلسے سے خطاب میں جو کچھ کہا ہے اسے ہم ایک جملے ''کراچی کو را کے ایجنٹوں کا نہیں حب الوطنوں کا شہر بنائیں گے'' میں بیان کر سکتے ہیں۔ ہماری پوری سیاست الزامات اور جوابی الزامات پر کھڑی ہے۔ کوئی سیاستدان ملک کے اہم ترین مسائل جنھیں ہم اسٹیٹس کو کے ایک لفظ میں سمیٹ سکتے ہیں، کے خلاف نہ زبان کھولتا ہے نہ اس نعرے کو اپنے منشور کا پہلا آئٹم بنا کر سڑکوں پر آتا ہے۔

لاہور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک دھرنا دیا گیا اور جماعت کے امیر نے ایک بڑے انقلابی کی طرح اچھی اچھی باتیں کیں لیکن جماعت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے عام انتخابات میں 5-4 سے زیادہ نشستیں نہیں ملتی ہیں اور انقلاب کا غیر جمہوری راستہ اپنانا جماعت کے خیال میں بداخلاقی اور غیر جمہوری راستہ ہے۔ اگر 24 اپریل کے تینوں جلسوں پر نظر ڈالیں تو ان میں عوام کی بھلائی اور اس سسٹم کی تبدیلی کی کوئی بات نظر نہیں آتی جس کے پنجے میں اس ملک کے 20 کروڑ عوام 69 سال سے جکڑے ہوئے ہیں اور آئے روز ان زنجیروں میں اور مضبوطی آ رہی ہے۔
Load Next Story