ڈاکٹر یاسر رضوی کی پہلی برسی
ڈاکٹر یاسر رضوی کا شمار کراچی یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے معروف اساتذہ میں ہوتا تھا
tauceeph@gmail.com
ISLAMABAD:
ڈاکٹر یاسر رضوی کا حقیقی نام وحید الرحمن تھا۔29 اپریل 2014ء کو صبح لطیف اسکوائر واٹر پمپ سے کراچی یونیورسٹی جانے کے لیے اپنی کار میں روانہ ہوئے تو ان کی قیام گاہ سے چند کلومیٹر دور سٹی گورنمنٹ کے امراضِ قلب اسپتال کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے کلاشنکوف سے فائرنگ کر کے انھیں شہید کر دیا۔ یہ واقعہ صبح 10:00 بجے کے قریب پیش آیا۔ نامعلوم ٹارگٹ کلرز جن کی تعداد 4 سے 6 بتائی گئی تھی موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور ان میں سے کچھ نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔ اپنا مشن کامیابی سے پورا کرنے کے بعد کسی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
ڈاکٹر یاسر رضوی کا شمار کراچی یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے معروف اساتذہ میں ہوتا تھا۔وہ انتہائی مہذب اور پڑھے لکھے انسان تھے۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے میڈیا ایڈوائزر اور شعبہ ابلاغِ عامہ کے مشیر امور طلبہ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ڈاکٹر یاسر رضوی اس سے پہلے وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ وہ ایک مقامی روزنامے میں رپورٹر رہے تھے اور کراچی پریس کلب الیکشن کمیشن کے رکن بھی رہے۔ ڈاکٹر یاسر رضوی کے بہیمانہ قتل کی خبر نہ صرف ملکی ذرایع ابلاغ بلکہ غیر ملکی ذرایع ابلاغ میں بھی ہائی لائٹ ہوئی۔
ڈاکٹر یاسر رضوی کے قتل کی صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، الطاف حسین، سندھ کے گورنر و وزیر اعلیٰ سمیت ہر رہنما نے مذمت کی۔ صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ کراچی پولیس نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن قائم کیا۔ رینجرز کے اہلکاروں، خفیہ عسکری اور سول ایجنسیوں نے علیحدہ علیحدہ تحقیقات شروع کیں۔
پولیس حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ قتل کی جگہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور کچھ گواہ بھی مل گئے ہیں۔ پولیس نے گواہوں کی مدد سے مبینہ قاتل کا خاکہ تیار کیا۔ یہ خاکہ اخبارات میں شایع ہوا۔ بعض زیرک کرائم رپورٹروں نے اپنی رپورٹوں میں لکھا کہ قتل کی جگہ پر فضا میں موجود الیکٹرانک ویوز کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، تاکہ ملزمان کی شناخت ہو سکے گی۔ پولیس افسروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔ کراچی یونیورسٹی اور اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کے انٹرویو کیے گئے۔
ان طالبات کو بھی تھانہ میں طلب کیا گیا، جنہوں نے اپنے کاموں کے لیے ڈاکٹر یاسر سے ان کے موبائل فون پر رابطے کیے تھے۔ دو پولیس افسروں کو سادہ لباس میں مرحوم کے گھر میں تعینات کیا گیا۔ پولیس افسروں نے ڈاکٹر یاسر کے اہلِ خانہ سے معلومات حاصل کیں، پولیس افسران نے صحافیوں کو بتانا شروع کیا کہ جلد قاتلوں تک پہنچ جائیں گے۔ ٹی وی چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگراموں میں ڈاکٹر یاسر کے مبینہ قاتلوں کے بارے میںمبینہ تفصیلات بیان کی جانے لگیں۔
بعض ذرایع کا کہنا تھا کہ را کے ایجنٹوں نے فوج کے سربراہ کے دورہ کراچی کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔ ممکن ہے اس میں سچائی ہو۔ بہر حال اس کی حقیقت تک پہنچا جانا چاہیے تھا۔ڈاکٹر یاسر کے قتل سے چند ماہ پہلے کراچی یونیورسٹی کے اسلامی لرننگ فیکلٹی کے سربراہ ڈاکٹر شکیل اوج کو بھی اردو یونیورسٹی کے قریب پل پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے عقب سے فائر کر کے شہید کر دیا تھا۔ ان کے قاتلوں کا بھی پتہ نہیں چلا۔
ڈاکٹر یاسر رضوی نے ڈاکٹر شکیل اوج کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیا تھا اور وہ ڈاکٹر شکیل اوج کے قابل شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ اسی بناء پر ڈاکٹر یاسر کے قتل کو ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل سے جوڑا گیا۔ پولیس حکام نے بار بار یہ بات دہرائی کہ یہ دونوں قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ڈاکٹر یاسر رضوی کے قتل کے بعد کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کی۔
ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی ایک دن کی ہڑتال کی۔ حکام نے اساتذہ انجمن کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور دونوں مقتول اساتذہ کے لواحقین کو ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ دینے کا اعلان کیا گیا۔ ایوانِ صدر نے بھی ڈاکٹر یاسر کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکام کے ایجنڈے سے یہ معاملہ نظرانداز ہو گیا۔
کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر نے سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کو متعدد بار خطوط لکھے۔ انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی کے عہدیدار جب بھی گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سرکاری یونیورسٹیوں کے معاملات کی نگرانی کرنے والے بیوروکریٹس سے ملتے تو یاسر کے چاہنے والوں کو خوش خبری سنائی جاتی کہ حکومت اپنے وعدے کو پورا کرنے والی ہے۔
وفاقی حکومت نے دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے پولیس اور سرکاری افسروں کی شہادت کے بعد خصوصی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج کے تحت شہید ہونے والے پولیس افسروں کے لواحقین کو پلاٹ اور ان کے بچوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے استاد کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے گھر جا کر چیک دیے۔
حکومت سندھ نے کچی شراب پی کر مر جانے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کی زد میں آنے والے صحافیوں، وکلاء اور پولیس افسروں کے گھر والوں کو معاوضہ کے طور پر کروڑوں روپے ادا کیے گئے مگر و ہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کے قاتلوں کی گرفتاری اور ان کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے پر خاموش ہیں۔ پروفیسر سعید عثمانی جو ایک سال سے اس معاملہ میں سرگرم عمل ہیں کہتے ہیں کہ ان مقتول اساتذہ کے بارے میں ایوانِ صدر، سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کا ایک جیسا رویہ ہے۔ ایوانِ صدر کے افسران نے بڑے وعدے کیے مگر کوئی بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکا۔
ڈاکٹر یاسر رضوی نے ساری زندگی ایمانداری سے گزاری۔ وہ جب رپورٹر تھے تو ان کا شمار ایک ایماندار اور شفاف طرزِ زندگی گزارنے والوں کی فہرست میں ہوتا تھا۔ جب وہ استاد بن گئے تو ان کی ایمانداری، محبت اور پروفیشنل ازم کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ انھوں نے اپنی دو بیٹیوں اور بیوہ کو خودداری کی تعلیم دی۔ ان کی بیٹی ثناء ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں شعبہ فزیوتھراپی کی طالبہ ہے۔ وہ یونیورسٹی جاتی ہیں، گھر آ کر ٹیوشن پڑھاتی ہیں، پھر انٹرن شپ کرتی ہیں۔ گھرکا سامان لاتی ہے مگر ثناء، ان کی والدہ اور چھوٹی بہن کسی قسم کی مدد کی روادار نہیں۔
یاسر کے ساتھیوں عرفان عزیز، آزاد فتح، ناصر محمود اور سرور احمد کی کوششوں سے 29 اپریل کو ڈاکٹر یاسر کی یاد میں تعزیتی جلسہ ہوا۔ اساتذہ اور طالب علموں نے مرحوم کی اچھی باتیں بتائیں۔ قاتلوں کی گرفتاری اور لواحقین کو معاوضہ دینے کا ذکر ہوا مگر پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب 29 اپریل کو مغرب کی نماز کے بعد یاسین آباد قبرستان میں یاسر کی تدفین ہو رہی تھی تو میرے کانوں میں اردو یونیورسٹی کے شعبہ ڈیٹابیس کے انچارج خرم مشتاق کی آواز آئی تھی کہ سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے لیکن یاسر کے بچوں کو کون پوچھے گا؟ آج ایک سال بعد یہ مضمون لکھتے وقت خرم کے جملے پھر میرے کانوں میں گونجنے لگے کہ یاسر کی بیوہ اور بچیوں کے لیے زندگی گزارنے کا معقول انتظام ہو گا؟ کیا یاسر کے قاتلوں کا پتہ چلے گا؟ کیا اس کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے وعدوں پر عمل ہو گا؟ اس سوال کا جواب میرے کے پاس نہیں ہے۔
ڈاکٹر یاسر رضوی کا حقیقی نام وحید الرحمن تھا۔29 اپریل 2014ء کو صبح لطیف اسکوائر واٹر پمپ سے کراچی یونیورسٹی جانے کے لیے اپنی کار میں روانہ ہوئے تو ان کی قیام گاہ سے چند کلومیٹر دور سٹی گورنمنٹ کے امراضِ قلب اسپتال کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے کلاشنکوف سے فائرنگ کر کے انھیں شہید کر دیا۔ یہ واقعہ صبح 10:00 بجے کے قریب پیش آیا۔ نامعلوم ٹارگٹ کلرز جن کی تعداد 4 سے 6 بتائی گئی تھی موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور ان میں سے کچھ نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔ اپنا مشن کامیابی سے پورا کرنے کے بعد کسی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
ڈاکٹر یاسر رضوی کا شمار کراچی یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے معروف اساتذہ میں ہوتا تھا۔وہ انتہائی مہذب اور پڑھے لکھے انسان تھے۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے میڈیا ایڈوائزر اور شعبہ ابلاغِ عامہ کے مشیر امور طلبہ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ڈاکٹر یاسر رضوی اس سے پہلے وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ وہ ایک مقامی روزنامے میں رپورٹر رہے تھے اور کراچی پریس کلب الیکشن کمیشن کے رکن بھی رہے۔ ڈاکٹر یاسر رضوی کے بہیمانہ قتل کی خبر نہ صرف ملکی ذرایع ابلاغ بلکہ غیر ملکی ذرایع ابلاغ میں بھی ہائی لائٹ ہوئی۔
ڈاکٹر یاسر رضوی کے قتل کی صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، الطاف حسین، سندھ کے گورنر و وزیر اعلیٰ سمیت ہر رہنما نے مذمت کی۔ صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ کراچی پولیس نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن قائم کیا۔ رینجرز کے اہلکاروں، خفیہ عسکری اور سول ایجنسیوں نے علیحدہ علیحدہ تحقیقات شروع کیں۔
پولیس حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ قتل کی جگہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور کچھ گواہ بھی مل گئے ہیں۔ پولیس نے گواہوں کی مدد سے مبینہ قاتل کا خاکہ تیار کیا۔ یہ خاکہ اخبارات میں شایع ہوا۔ بعض زیرک کرائم رپورٹروں نے اپنی رپورٹوں میں لکھا کہ قتل کی جگہ پر فضا میں موجود الیکٹرانک ویوز کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، تاکہ ملزمان کی شناخت ہو سکے گی۔ پولیس افسروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔ کراچی یونیورسٹی اور اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کے انٹرویو کیے گئے۔
ان طالبات کو بھی تھانہ میں طلب کیا گیا، جنہوں نے اپنے کاموں کے لیے ڈاکٹر یاسر سے ان کے موبائل فون پر رابطے کیے تھے۔ دو پولیس افسروں کو سادہ لباس میں مرحوم کے گھر میں تعینات کیا گیا۔ پولیس افسروں نے ڈاکٹر یاسر کے اہلِ خانہ سے معلومات حاصل کیں، پولیس افسران نے صحافیوں کو بتانا شروع کیا کہ جلد قاتلوں تک پہنچ جائیں گے۔ ٹی وی چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگراموں میں ڈاکٹر یاسر کے مبینہ قاتلوں کے بارے میںمبینہ تفصیلات بیان کی جانے لگیں۔
بعض ذرایع کا کہنا تھا کہ را کے ایجنٹوں نے فوج کے سربراہ کے دورہ کراچی کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔ ممکن ہے اس میں سچائی ہو۔ بہر حال اس کی حقیقت تک پہنچا جانا چاہیے تھا۔ڈاکٹر یاسر کے قتل سے چند ماہ پہلے کراچی یونیورسٹی کے اسلامی لرننگ فیکلٹی کے سربراہ ڈاکٹر شکیل اوج کو بھی اردو یونیورسٹی کے قریب پل پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے عقب سے فائر کر کے شہید کر دیا تھا۔ ان کے قاتلوں کا بھی پتہ نہیں چلا۔
ڈاکٹر یاسر رضوی نے ڈاکٹر شکیل اوج کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیا تھا اور وہ ڈاکٹر شکیل اوج کے قابل شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ اسی بناء پر ڈاکٹر یاسر کے قتل کو ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل سے جوڑا گیا۔ پولیس حکام نے بار بار یہ بات دہرائی کہ یہ دونوں قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ڈاکٹر یاسر رضوی کے قتل کے بعد کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کی۔
ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی ایک دن کی ہڑتال کی۔ حکام نے اساتذہ انجمن کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور دونوں مقتول اساتذہ کے لواحقین کو ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ دینے کا اعلان کیا گیا۔ ایوانِ صدر نے بھی ڈاکٹر یاسر کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکام کے ایجنڈے سے یہ معاملہ نظرانداز ہو گیا۔
کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر نے سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کو متعدد بار خطوط لکھے۔ انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی کے عہدیدار جب بھی گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سرکاری یونیورسٹیوں کے معاملات کی نگرانی کرنے والے بیوروکریٹس سے ملتے تو یاسر کے چاہنے والوں کو خوش خبری سنائی جاتی کہ حکومت اپنے وعدے کو پورا کرنے والی ہے۔
وفاقی حکومت نے دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے پولیس اور سرکاری افسروں کی شہادت کے بعد خصوصی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج کے تحت شہید ہونے والے پولیس افسروں کے لواحقین کو پلاٹ اور ان کے بچوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے استاد کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے گھر جا کر چیک دیے۔
حکومت سندھ نے کچی شراب پی کر مر جانے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کی زد میں آنے والے صحافیوں، وکلاء اور پولیس افسروں کے گھر والوں کو معاوضہ کے طور پر کروڑوں روپے ادا کیے گئے مگر و ہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کے قاتلوں کی گرفتاری اور ان کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے پر خاموش ہیں۔ پروفیسر سعید عثمانی جو ایک سال سے اس معاملہ میں سرگرم عمل ہیں کہتے ہیں کہ ان مقتول اساتذہ کے بارے میں ایوانِ صدر، سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کا ایک جیسا رویہ ہے۔ ایوانِ صدر کے افسران نے بڑے وعدے کیے مگر کوئی بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکا۔
ڈاکٹر یاسر رضوی نے ساری زندگی ایمانداری سے گزاری۔ وہ جب رپورٹر تھے تو ان کا شمار ایک ایماندار اور شفاف طرزِ زندگی گزارنے والوں کی فہرست میں ہوتا تھا۔ جب وہ استاد بن گئے تو ان کی ایمانداری، محبت اور پروفیشنل ازم کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ انھوں نے اپنی دو بیٹیوں اور بیوہ کو خودداری کی تعلیم دی۔ ان کی بیٹی ثناء ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں شعبہ فزیوتھراپی کی طالبہ ہے۔ وہ یونیورسٹی جاتی ہیں، گھر آ کر ٹیوشن پڑھاتی ہیں، پھر انٹرن شپ کرتی ہیں۔ گھرکا سامان لاتی ہے مگر ثناء، ان کی والدہ اور چھوٹی بہن کسی قسم کی مدد کی روادار نہیں۔
یاسر کے ساتھیوں عرفان عزیز، آزاد فتح، ناصر محمود اور سرور احمد کی کوششوں سے 29 اپریل کو ڈاکٹر یاسر کی یاد میں تعزیتی جلسہ ہوا۔ اساتذہ اور طالب علموں نے مرحوم کی اچھی باتیں بتائیں۔ قاتلوں کی گرفتاری اور لواحقین کو معاوضہ دینے کا ذکر ہوا مگر پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب 29 اپریل کو مغرب کی نماز کے بعد یاسین آباد قبرستان میں یاسر کی تدفین ہو رہی تھی تو میرے کانوں میں اردو یونیورسٹی کے شعبہ ڈیٹابیس کے انچارج خرم مشتاق کی آواز آئی تھی کہ سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے لیکن یاسر کے بچوں کو کون پوچھے گا؟ آج ایک سال بعد یہ مضمون لکھتے وقت خرم کے جملے پھر میرے کانوں میں گونجنے لگے کہ یاسر کی بیوہ اور بچیوں کے لیے زندگی گزارنے کا معقول انتظام ہو گا؟ کیا یاسر کے قاتلوں کا پتہ چلے گا؟ کیا اس کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے وعدوں پر عمل ہو گا؟ اس سوال کا جواب میرے کے پاس نہیں ہے۔