یونس تنازع بورڈ نے محض ’’ایک فون کال‘‘ پر ہتھیار ڈال دیے

بیٹسمین کیخلاف کارروائی ہوئی توریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے، ڈائریکٹر کال وصول کرتے ہی چیئرمین کے پاس پہنچ گئے

صورتحال کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے یونس سے بات کرائی، ’’معافی‘‘ پر معاملہ ختم ہوگیا، اندرونی کہانی منظرعام پرآگئی۔ فوٹو: فائل

بدھ کے روز ایک ڈائریکٹر کوکال موصول ہوئی، اس میں بتایا گیا کہ اگر یونس خان کیخلاف کارروائی ہوئی تو وہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے، وہ بھاگے بھاگے چیئرمین کے پاس گئے اور صورتحال کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے سینئر بیٹسمین سے بات کرائی، پھر ''معافی'' پر معاملہ ختم ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق بدھ کو پی سی بی کے ایک ڈائریکٹر کو فون کال موصول ہوئی، اس میں بتایا گیا کہ اگر یونس خان کیخلاف کارروائی ہوئی تو وہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے، انگلینڈ سے سیریز بھی آنے والی ہے، ایسے میں ٹیم کو خاصا نقصان ہو سکتا ہے، اسی اثنا میں ٹی وی چینلز پر بھی یہ خبریں چلنے لگیں کہ یونس خان احتجاجاً کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہیں، مذکورہ ڈائریکٹر گھبرا کر چیئرمین کے پاس پہنچے اور انھیں بتایا کہ اس صورتحال میں بورڈ پر شدید دبائو پڑ جائے گا، انھوں نے اپنے فون سے ہی شہریارخان کی یونس خان سے بات کرائی جس میں یونس نے معافی مانگ لی اور معاملہ حیران کن طور پر ختم کر دیا گیا، بعد میں جب بعض بورڈ آفیشلز نے فیصلے پر احتجاج کیا تو انھیں یہ کہہ کر خاموش کرا دیا گیاکہ معافی مانگ لی لہذا بات ختم، خوامخوا تنازع بڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔


اس کیس میں بورڈ نے خود اپنے قوانین کی دھجیاں اڑا دیں، کے پی کے نے یونس کے متبادل کھلاڑی کو میچ بھی کھلا دیا مگر اب وہ واپس آگئے، اسی طرح میچ ریفری کی سماعت کے بغیر تمام ''گناہ'' کیسے معاف ہو گئے یہ بھی ایک بڑا سوال ہے،پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق پنجاب کو بھی یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ یونس خان کی میچ میں شرکت پر پروٹیسٹ کر سکے۔ تفصیلات کے مطابق امپائرنگ پر اعتراض کی وجہ سے یونس خان پاکستان کپ ادھورا چھوڑ کر فیصل آباد سے کراچی واپس آ گئے تھے، پی سی بی نے پہلے ان کیخلاف کسی کارروائی کو خارج از امکان قرار دیا، پھر میڈیا اور سابق کرکٹرز کی تنقید پر اگلے دن لمبی چوڑی چارج شیٹ اور شوکاز نوٹس جاری کر دیا، ایسے میں اچانک یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ یونس خان پریس کانفرنس میں احتجاجاً ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے ہیں، مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔

البتہ شام کو بورڈ نے پریس ریلیز جاری کر کے بتایا کہ یونس نے چیئرمین سے معافی مانگ لی لہذا تمام الزامات ختم ہوگئے ، وہ خیبر پختونخوا کی فائنل میں رسائی پر میچ میں حصہ لیں گے، اب یونس خان فیصل آباد پہنچ چکے اور اتوارکو پنجاب سے میچ میں شرکت کیلیے تیار ہیں، ایسے میں اس کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پی سی بی نے محض ایک فون کال پر ہی ہتھیار ڈال دیے تھے، بورڈ میں موجود بعض حلقے پہلے سے چیئرمین شہریار خان کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ یونس کیخلاف کارروائی نہ کریں ، کہیں وہ بھی سابق کوچ وقار یونس کی طرح میڈیا میں آکر تنقیدی نشتر نہ برسا دیں، اس سے حکام پر دبائو میں مزید اضافہ ہو جائے گا، بادل نخواستہ شہریارخان نے شوکاز نوٹس تو جاری کر دیا مگر ایک دن بھی دبائو نہ جھیل سکے۔

دوسری جانب اس کیس میں بورڈ نے خود اپنے قوانین کو قدموں تلے روند دیا،خیبر پختونخوا نے بطور متبادل اسرار اﷲکا انتخاب کیا اور انھیں میچ بھی کھلا دیا، اب پھر یونس واپس آ گئے مگر وضاحت نہیں کی گئی کہ کسے اور کیوں بٹھایا گیا ہے، اسی طرح میچ ریفری کی سماعت کے بغیر تمام ''گناہ'' کیسے معاف ہو گئے یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق پنجاب کو بھی یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ یونس خان کی میچ میں شرکت پر پروٹیسٹ کر سکے۔
Load Next Story