گورننگ بورڈ رکن نے پی سی بی پر من مانی کا الزام دھر دیا
گورننگ بورڈ کے اراکین کو اہمیت نہ دیے جانے کا تاثر درست قرارنہیں دیا جاسکتا ، پی سی بی
چیئرمین واپڈا ظفر محمود کو انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر تقرر پربھی اعتراض ہے فوٹو: فائل
گورننگ بورڈ رکن چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر تقرر پر بھی سوال اٹھایا ہے،ان کے مطابق اخراجات اور بھرتیاں خفیہ رکھی جاتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی گورننگ بورڈ کے رکن چیئرمین واپڈاظفر محمود نے انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر تقرر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ سابق کپتان کا انتخاب کس قانون کے تحت کیا گیا ہے؟ خط میں انھوں نے تحریر کیا کہ پی سی بی کے اخراجات اور بھرتیاں خفیہ کیوں رکھی جاتی ہیں،گورننگ بورڈ انتہائی اہم ہے لیکن اس کے اراکین کو صرف چائے، بسکٹ اور کھانوں تک محدود رکھا جاتا ہے، پی سی بی نے گورننگ بورڈ کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرکٹ بورڈ نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے ظفر محمود کو جواب دیا ہے کہ پی سی بی آئین کے تحت سلیکشن کمیٹی کا انتخاب چیئرمین کی صوابدید ہے، اس لیے کوئی خلاف قواعد بات نہیں کی گئی، اس کے ساتھ ماضی میں منظور کیے جانے متعدد قوانین اور ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے آگاہ کہا گیا کہ آپ نے کئی مواقع پر ان کے حق میں رائے دی ہے، اس ضمن میں تیار کی جانے دستاویزات پر آپ کے دستخط بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں، لہٰذا گورننگ بورڈ کے اراکین کو اہمیت نہ دیے جانے کا تاثر درست قرارنہیں دیا جاسکتا ۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی گورننگ بورڈ کے رکن چیئرمین واپڈاظفر محمود نے انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر تقرر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ سابق کپتان کا انتخاب کس قانون کے تحت کیا گیا ہے؟ خط میں انھوں نے تحریر کیا کہ پی سی بی کے اخراجات اور بھرتیاں خفیہ کیوں رکھی جاتی ہیں،گورننگ بورڈ انتہائی اہم ہے لیکن اس کے اراکین کو صرف چائے، بسکٹ اور کھانوں تک محدود رکھا جاتا ہے، پی سی بی نے گورننگ بورڈ کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرکٹ بورڈ نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے ظفر محمود کو جواب دیا ہے کہ پی سی بی آئین کے تحت سلیکشن کمیٹی کا انتخاب چیئرمین کی صوابدید ہے، اس لیے کوئی خلاف قواعد بات نہیں کی گئی، اس کے ساتھ ماضی میں منظور کیے جانے متعدد قوانین اور ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے آگاہ کہا گیا کہ آپ نے کئی مواقع پر ان کے حق میں رائے دی ہے، اس ضمن میں تیار کی جانے دستاویزات پر آپ کے دستخط بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں، لہٰذا گورننگ بورڈ کے اراکین کو اہمیت نہ دیے جانے کا تاثر درست قرارنہیں دیا جاسکتا ۔