پانامہ لیکس… بحران کی شدت میں اضافہ
حکومت اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے اس سیاسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اسے مطمئن کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کر رہی
اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے سے بات بنے گی نہیں بلکہ مزید بگڑتی چلی جائے گی جو حکومت کے مستقبل کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ فوٹو:فائل
GUJRANWALA:
پانامہ لیکس سے پیدا شدہ بحران کو حل کرنے کے لیے چند روز قبل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے خط تحریر کرنے کا اعلان کیا تھا' جس کے بعد حکومت نے یہ خط سپریم کورٹ کو تحریر کر دیا۔ حکومت نے تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے جو ٹرمز آف ریفرنس تجویز کیے اپوزیشن نے ان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹرمز آف ریفرنس اس کے مشورے سے تجویز کیے جائیں۔
حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے جب یہ خط بھجوایا گیا اس وقت سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس ترکی کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے اب وہ وطن واپس تشریف لا چکے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس خط کے حوالے سے کیا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو خط لکھنے کے باوجود اپوزیشن تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور اس کے ٹی او آرز کے حوالے سے اپنے تحفظات پر بدستور ڈٹی ہوئی ہے اور کسی بھی طور حکومتی موقف تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔
اس مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور فی الوقت کوئی سبیل ایسی دکھائی نہیں دے رہی جس سے یہ فاصلے کم ہو سکیں کیونکہ دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا رہی ہیں جس سے سیاسی ماحول میں گرما گرمی میں اضافہ ہو رہاہے۔ حکومت اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے اس سیاسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اسے مطمئن کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کر رہی بلکہ دونوں جانب سے ترکی بہ ترکی جواب کا محاذ گرم ہے لہٰذا ان حالات میں سیاسی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے روز بروز خراب ہوتی نظر آ رہی ہے۔
تحریک انصاف نے تو ایک عرصے سے حکومت کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اب پیپلز پارٹی جو اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ''فرینڈلی اپوزیشن'' کا کردار ادا کر رہی تھی وہ بھی کھل کر حکومت کے خلاف میدان میں آ گئی ہے یہاں تک کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز کوٹلی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ بلاول بھٹو نے حکومت کے خلاف جذباتی اور جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف جلسوں کا اعلان کر کے آیندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت آئینی مدت پوری نہیں کرے گی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کے وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے کی حمایت کردی۔ اس طرح اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں حکومت گرانے کے لیے کھل کر سامنے آ گئی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آیندہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دیں گی ۔سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان ملاقاتوں اور مشوروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے مگر ابھی واضح اپوزیشن اتحاد سامنے نہیں آیا اگر ایسا ہو جاتا اور کوئی تحریک چل پڑتی ہے تو پھر سیاسی سطح پر حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو گورنر ہاؤس لاہور میں سینئر صحافیوں' اینکر پرسنز' ایڈیٹرز اور کالم نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ ٹی آو آرز تبدیل کر سکتی ہے' عدالتی کمیشن چاہے تو مجھ سے تحقیقات کا آغاز کر لے' چیف جسٹس کو تحقیقاتی کمیشن کے لیے خط لکھ دیا ہے' کمیشن پر چیف جسٹس نے طریقہ کار وضع کرنا ہے۔ وزیراعظم نے پانامہ لیکس پر تحقیقات کے لیے اب گیند سپریم کورٹ کے کورٹ میں ڈال دیا ہے، بہتر ہوتا کہ وہ پہلے اپوزیشن کے مشورے سے ٹرمز آف ریفرنس طے کرتے تاکہ اس وقت جو سیاسی بحران پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ نہ ہوتا۔ حکومت معاملے کو سلجھانے کے بجائے جتنا الجھاتی چلی جائے گی اس کے لیے اتنی ہی مشکلات پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو پانامہ لیکس کے بعد حالات میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کا ادراک اور ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے اور فاصلے کم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ورنہ اپوزیشن کا احتجاج مزید بڑھتا چلے جانے سے ملک میں افراتفری اور انتشار کی سیاست جنم لیتی ہے تو پھر معاملات بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کل تک اپوزیشن میں شریک وہ جماعتیں جو حکومت کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھیں اور عمران خان کے دھرنے کے موقعے پر پارلیمنٹ میں حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں وہ بھی آج سیاسی پینترا بدلتے ہوئے حکومت کے خلاف محاذ آرائی اختیار کرتے اور عمران خان سے کندھا ملاتی نظر آ رہی ہیں۔
اس طرح سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کے باوجود حکومت کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ بات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچے حکومت کو پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کے لیے قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے سے بات بنے گی نہیں بلکہ مزید بگڑتی چلی جائے گی جو حکومت کے مستقبل کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
پانامہ لیکس سے پیدا شدہ بحران کو حل کرنے کے لیے چند روز قبل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے خط تحریر کرنے کا اعلان کیا تھا' جس کے بعد حکومت نے یہ خط سپریم کورٹ کو تحریر کر دیا۔ حکومت نے تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے جو ٹرمز آف ریفرنس تجویز کیے اپوزیشن نے ان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹرمز آف ریفرنس اس کے مشورے سے تجویز کیے جائیں۔
حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے جب یہ خط بھجوایا گیا اس وقت سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس ترکی کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے اب وہ وطن واپس تشریف لا چکے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس خط کے حوالے سے کیا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو خط لکھنے کے باوجود اپوزیشن تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور اس کے ٹی او آرز کے حوالے سے اپنے تحفظات پر بدستور ڈٹی ہوئی ہے اور کسی بھی طور حکومتی موقف تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔
اس مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور فی الوقت کوئی سبیل ایسی دکھائی نہیں دے رہی جس سے یہ فاصلے کم ہو سکیں کیونکہ دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا رہی ہیں جس سے سیاسی ماحول میں گرما گرمی میں اضافہ ہو رہاہے۔ حکومت اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے اس سیاسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اسے مطمئن کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کر رہی بلکہ دونوں جانب سے ترکی بہ ترکی جواب کا محاذ گرم ہے لہٰذا ان حالات میں سیاسی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے روز بروز خراب ہوتی نظر آ رہی ہے۔
تحریک انصاف نے تو ایک عرصے سے حکومت کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اب پیپلز پارٹی جو اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ''فرینڈلی اپوزیشن'' کا کردار ادا کر رہی تھی وہ بھی کھل کر حکومت کے خلاف میدان میں آ گئی ہے یہاں تک کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز کوٹلی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ بلاول بھٹو نے حکومت کے خلاف جذباتی اور جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف جلسوں کا اعلان کر کے آیندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت آئینی مدت پوری نہیں کرے گی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کے وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے کی حمایت کردی۔ اس طرح اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں حکومت گرانے کے لیے کھل کر سامنے آ گئی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آیندہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دیں گی ۔سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان ملاقاتوں اور مشوروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے مگر ابھی واضح اپوزیشن اتحاد سامنے نہیں آیا اگر ایسا ہو جاتا اور کوئی تحریک چل پڑتی ہے تو پھر سیاسی سطح پر حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو گورنر ہاؤس لاہور میں سینئر صحافیوں' اینکر پرسنز' ایڈیٹرز اور کالم نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ ٹی آو آرز تبدیل کر سکتی ہے' عدالتی کمیشن چاہے تو مجھ سے تحقیقات کا آغاز کر لے' چیف جسٹس کو تحقیقاتی کمیشن کے لیے خط لکھ دیا ہے' کمیشن پر چیف جسٹس نے طریقہ کار وضع کرنا ہے۔ وزیراعظم نے پانامہ لیکس پر تحقیقات کے لیے اب گیند سپریم کورٹ کے کورٹ میں ڈال دیا ہے، بہتر ہوتا کہ وہ پہلے اپوزیشن کے مشورے سے ٹرمز آف ریفرنس طے کرتے تاکہ اس وقت جو سیاسی بحران پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ نہ ہوتا۔ حکومت معاملے کو سلجھانے کے بجائے جتنا الجھاتی چلی جائے گی اس کے لیے اتنی ہی مشکلات پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو پانامہ لیکس کے بعد حالات میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کا ادراک اور ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے اور فاصلے کم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ورنہ اپوزیشن کا احتجاج مزید بڑھتا چلے جانے سے ملک میں افراتفری اور انتشار کی سیاست جنم لیتی ہے تو پھر معاملات بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کل تک اپوزیشن میں شریک وہ جماعتیں جو حکومت کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھیں اور عمران خان کے دھرنے کے موقعے پر پارلیمنٹ میں حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں وہ بھی آج سیاسی پینترا بدلتے ہوئے حکومت کے خلاف محاذ آرائی اختیار کرتے اور عمران خان سے کندھا ملاتی نظر آ رہی ہیں۔
اس طرح سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کے باوجود حکومت کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ بات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچے حکومت کو پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کے لیے قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے سے بات بنے گی نہیں بلکہ مزید بگڑتی چلی جائے گی جو حکومت کے مستقبل کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔