طورخم بارڈر بغیر پاسپورٹ عبور کرنے پر پابندی

پاکستان اورافغانستان کےحکام نےامن وامان کی صورت حال میں بہتری لانےاوربارڈرسیکیورٹی منیجمنٹ کوبہترکرنےکےلیےفیصلہ کیاتھا

ماضی قریب کے واقعات کو دیکھتے ہوئے مشترکہ سرحد کی نگرانی کو سخت بنانے کا فیصلہ بہت بروقت اور صائب ہے فوٹو: ایکسپریس

SUKKUR:
پاک، افغان بارڈر طورخم پر یکم مئی بروز اتوار سے دونوں جانب دستاویزات کے بغیر آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے تحت صرف پاسپورٹ یا باضابطہ قانونی سفری دستاویزات رکھنے والے افراد ہی کو افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے افغانستان داخلے کی اجازت دی جائے گی جب کہ دیگر افراد کو بارڈر ہی سے واپس جانا پڑے گا۔

پاکستان اور افغانستان کے حکام نے امن و امان کی صورت حال میں بہتری لانے اور بارڈر سیکیورٹی منیجمنٹ کو بہتر کرنے کے لیے فیصلہ کیا تھا کہ یکم مئی سے دونوں جانب سے ہونے والی تمام تر آمد و رفت صرف اور صرف مکمل سفری دستاویزات یعنی پاسپورٹ دکھائے جانے کی صورت ہی میں ممکن ہو گی اور اس کے بغیر کسی کو بھی نہ تو افغانستان سے پاکستان داخلے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی پاکستان سے افغانستان جانے دیا جائے گا۔ پابندی پاک، افغان جنگ کے بعد پہلی مرتبہ حقیقی معنوں میں عائد کی جا رہی ہے۔


اگرچہ سرکاری طور پر یہ اعلان کر دیا گیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کس طور کرایا جائے گا کیونکہ دونوں پڑوسی ملکوں کی مشترکہ سرحد کی طوالت دو ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے جس کو عبور کرنے کے لیے چند مقامات پر باقاعدہ گیٹ اور چوکیاں قائم ہیں لیکن دو ہزار کلومیٹر کی لمبائی پر دونوں طرف موثر نگرانی کا نظام موجود نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں خندقیں کھودنے اور باڑ لگانے کی کوشش بھی کی گئی ہے لیکن پوری سرحد پر ایسا اہتمام خاصا مشکل ہے لیکن پوری سرحد کو محفوظ بنانا دونوں ملکوں کے لیے بہتر ہے۔

جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو اس کا گلہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر ہے۔ ہماری چار سدہ یونیورسٹی پر حملہ کے شواہد ثابت کرتے ہیں کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے۔ افغانستان کے حکام کو بھی شکایات ہیں کہ وہاں دراندازی ہو رہی ہے ۔ ماضی قریب کے واقعات کو دیکھتے ہوئے مشترکہ سرحد کی نگرانی کو سخت بنانے کا فیصلہ بہت بروقت اور صائب ہے البتہ اس فیصلے پر ممکنہ حد تک سختی سے عملدرآمد کرانا ہو گا اور سرحد کی نگرانی پر ایسا چوکس اور مستعد عملہ متعین کرنا ہو گا جس کی دیانتداری کسی شک و شبہ سے بالاتر ہو۔ اس کے ساتھ ہی نگران عملے کو بہتر سہولتوں اور ضروری سازوسامان سے لیس کیا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ قبل ازیں وہاں جو عملہ متعین ہے اس کو اس حوالے سے کچھ تحفظات تھے۔

بہرحال پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان اور افغانستان دونوں کو مل کر کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ اسی میں دونوں ملکوں کا بھلا ہے۔ پاک افغان سرحد طویل بھی ہے اور دشوار گزار بھی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔آج ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومت کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے' سرحد پر جہاں خندق کی ضرورت ہے 'وہاں خندق کھودی جائے ' جہاں باڑ کی ضرورت ہے وہاں باڑ لگائی جائے اور جہاں فضائی نگرانی ممکن ہے وہاں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔
Load Next Story