محرم الحرام اور دہشت گردی کے مہیب سائے

محرم کے دوران اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی ہو گی۔

آپریشن بلا تفریق پورے شہر میں کیا جائے گا تا کہ آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

جمعرات کو وزارت داخلہ میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے حوالے سے اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ یکم محرم کو کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل کے ذریعے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی رپورٹس ملی ہیں، جس کے باعث دونوں شہروں میں جمعے کی صبح 6 سے شام 7بجے تک موٹر سائیکل چلانے اور موبائل فون سروس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پابندی صرف ایک دن کے لیے ہو گی اور اس کا اطلاق تمام افراد پر ہو گا، کراچی میں ایف سی کی تمام پلاٹونوں کو ڈیوٹی پر بلا لیا گیا ہے۔ تاہم چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم نے وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی میں موٹرسائیکل چلانے پر پابندی کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے عملدرآمد معطل کردیا، فاضل چیف جسٹس نے یہ حکم امتناع سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر جاری کیا۔ اس حقیقت سے بلاشبہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ عوام کی زندگیوں پر مسلط اس عفریت کا نزول بھی کہیں اور سے ہوا ہے لیکن لمحہ موجود میں دہشت گردی فیکٹر کا تعلق نائن الیون، اس کے پیدا شدہ تباہ کن داخلی و خارجی اثرات و عوامل اور افغان صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ مزید برآں ملک ایک تزویراتی گہرائی کا چوٹ کھایا ہوا بھی ہے جس کی وجہ سے امریکی استعمار، اور دیگر عالمی قوتوں نے پاکستان کو فرنٹ لائن ملک کا نان نیٹو کردار عطا کر کے ایک تاریخی آزمائش میں تو ڈال دیا لیکن دہشت گردی سے نمٹنے کی قربانیوں کا صلہ دینے میں بخل عظیم سے کام لیا ہے۔ ہمیں ڈو مور اور دہشت گردی کے عفریت نے دو طرف سے جکڑ رکھا ہے۔

اس لیے داخلی صورتحال حکمرانوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے جس میں سرخرو ہونے کے لیے دہشت گردی کی جنگ جیتنا اشد ضروری ہے۔ اس جنگ کا ہولناک پہلو وہ داخلی اور خارجی ''بروٹس'' بھی ہیں جو اپنوں پر تیر بھی چلاتے ہیں اور دوستی و اتحادی کا راگ بھی الاپتے ہیں۔ ادھر القاعدہ یا طالبان سے منسلک جہادی اور کالعدم تنظیموں نے نام بدل کر اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں اور دوسری طرف شہروں میں بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائم، فرقہ وارانہ، لسانی و مسلکی کشمکش اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ پولیس و رینجرز بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، یوں براہ راست ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔ تاہم دہشت گردی کوئی حالیہ عنصر نہیں۔ پوری اسلامی تاریخ اور محرم الحرام کے مقدس مہینے کے تاریخی تناظر میں کردارِ ِحسینیت باطل قوتوں سے برسر پیکار رہنے سے عبارت ہے۔ آج ضرورت ان ہی دہشت انگیز قوتوں اور جبر و استبداد کی تمام علامات کے خلاف طبل جنگ بجانے کی ہے۔

اس لیے موٹر سائیکل چلانے اور موبائل سروس استعمال کرنے والوں پر نزلہ گرانے سے دہشت گردی نہیں رک سکے گی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ریاست کی چاروں اکائیاں انتہا پسندی اور ٹارگٹ کلنگ کے اثرات و مضرات (آف شوٹ) کے بنیادی اسباب کا کھوج لگائیں اور اسی کے مطابق جرات مندانہ پالیسیاں وضع کریں۔ ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، خونریزی اور قتل و غارت کی دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے میں موٹر سائیکل چلانے پابندی اور موبائل فون سروس بند رکھنے جیسے اقدامات عارضی نتائج مرتب کر سکیں گے تاہم ان ہی پر تکیہ کرنا شہریوں کی ایک بڑی اکثریت کے نزدیک نہ صرف طفلانہ، مضحکہ خیز اور عاقبت نا اندیشانہ اقدام ہے بلکہ اس پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ناقابل شکست، غیر متزلزل سیاسی ارادہ اور ٹھوس، بلا امتیاز اور نتیجہ خیز ریاستی حمکت عملی کی ضرورت ہے، اس کے لیے ٹارگٹ کلرز، کرائے کے قاتلوں اور نظریاتی، جہادی، مسلکی، فقہی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت اور بے لگام دہشت گردی کے خلاف مضبوط بند باندھنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔


وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو فائرنگ اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کر دیا ہے، محرم کے دوران اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی ہو گی، یکم دسمبر کے بعد کوئی سم دکان پر نہیں ملے گی، ملک کے حالات خراب کرنے میں تیسری قوت ملوث ہے، دہشتگرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ بغیر کاغذات گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلانے کی اجازت نہیں ہو گی، پولیس کو ایسی گاڑیاں متعلقہ تھانوں میں بند کرنے کا اختیار ہو گا، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو اسلام آباد میں بھی فول سیکیورٹی یقینی بنانے کا کہا ہے، مرکزی جلوس کے شرکاء کے لیے واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ سارے اقدامات بلا شبہ صائب ہیں جن پر موثر طریقے سے عمل ہونا چاہیے۔

نمایندہ ایکسپریس کی ایک اطلاع کے مطابق کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے شہر میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیے جانے کا امکان ہے، آپریشن کو فیصلہ کن بنانے کے لیے فوج کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پہلے مرحلے میں فوج کے انٹیلی جینس ونگ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کا آغاز کیا جائے گا تاہم حکومت کی کوشش اور خواہش ہے کہ اس آپریشن کو فوجی آپریشن کا نام نہ دیا جائے۔ بڑے پیمانے پر کیے جانے والے آپریشن میں شہر کے تمام علاقے شامل ہیں اور نہ تو کوئی سیاسی دباؤ قبول کیا جائے اور نہ ہی کسی ایک علاقے کو ٹارگٹ کیا جائے بلکہ آپریشن بلا تفریق پورے شہر میں کیا جائے گا تا کہ آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

یہ خوش آیند اطلاع ہے، کیونکہ کراچی میں بد امنی تا حال جاری ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور اغوا کے بعد لاشیں پھینکے کے واقعات میں2 پولیس اہلکاروں اور خاتون سمیت مزید7 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان ہلاکتوں کے حوالے سے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مشیر عالم نے فکر انگیز بات کہی ہے کہ کراچی ایسی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جہاں روزانہ اپنے روزگار کی تلاش میں نکلنے والے گھروں کے واحد کفیل اپنی زندگیوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور جب عدلیہ اس معاملے پر از خود کارروائی کرتی ہے تو شور مچایا جاتا ہے کہ عدلیہ انتظامی امور میں مداخلت کررہی ہے، لیکن سوچا جانا چاہیے کہ ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے، اس لیے کہ امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا جن کی ذمے داری ہے وہ مجرمانہ غفلت کا شکار تھے اور اب بھی ہیں۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کے حوالے سے متعدد اجلاسوں میں سیکریٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ ناجائز اسلحے کی برآمدگی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری نہیں کیا جا رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ صرف میں نے اکیلے نہیں بلکہ صوبائی حکومت نے بھی متعدد بار وفاقی حکومت سے اس کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ منی پاکستان سمیت پورے ملک میں اسلحے کی بہتات نے صورتحال کو آتش بار بنایا ہے۔ اس لیے جب غیر قانونی اسلحے کی آخری چنگاری بجھنے تک ریاستی عملداری ثابت نہیں کی جائے گی دہشت گردی کا ناسور ختم نہیں ہو سکتا۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے یقین دلایا ہے کہ محرم میں سیکیورٹی کے لیے ایکشن پلان تیار ہے، علما سے محرم الحرام کے حوالے سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں، اس ماہ کے دوران مذہبی ذہنی ہم آہنگی کے حوالے سے انھوں نے حکومت کو بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے اور وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کچھ دنوں میں کراچی کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے، جب کہ سینیٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے بدامنی کے خاتمے کے لیے 8 نکاتی قابل عمل فارمولا پیش کیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کو فری ہینڈ دے ۔ زوردار اخباری بیانات کی پھونکوں سے دہشت گردی کا شعلہ نہیں بجھے گا اس کے لیے ارباب اختیار دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے عوام سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں۔ تبھی دہشت گردی کی آگ بجھے گی۔
Load Next Story