چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے والے نظراندازکیوں

گزشتہ تین سے چاردہائیوں کی بات کریں تومزاح کے شعبے میں ایسے انمول فنکاروں نے جنم لیا جن کا طوطی آج بھی بول رہا ہے۔

گزشتہ تین سے چاردہائیوں کی بات کریں تومزاح کے شعبے میں ایسے انمول فنکاروں نے جنم لیا جن کا طوطی آج بھی بول رہا ہے۔:فوٹو : فائل

جوقومیں اپنے فنکاروں کوبھول جاتی ہیں یا ان کی خدمات اور ان کی صلاحیتوںکونہیں سراہتیں، یاد نہیں رکھتیں، وہ مردہ قومیں کہلاتی ہیں۔ دنیا بھرکی زندہ قومیں ہمیشہ اپنے فنکاروں، شاعروں، مصوروں، موسیقاروں اور گلوکاروں کو وہ مقام دیتی ہیں کہ ان پررشک آتا ہے۔

ہمارے ہاں فنون لطیفہ سے منسلک خواتین وحضرات ہمیشہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ حکومتوں نے کسی بھی موڑ پران کی مدد یا داد رسی نہیں کی۔ جس کی مثال ہمارے درجنوں فنکارہیں جن کے پاس سرچھپانے کوگھر، علاج اوربچوں کی تعلیم کیلئے پیسے نہیںاورایسا مسلسل قیام پاکستان سے جاری وساری ہے اورناجانے کب تک جاری رہے گا۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس کا مقصد حکومت کے ان ثقافتی اداروں کوآئینہ دکھانا ہے جن کے اعلیٰ افسران اور ملازمین تنخواہوں کی مد میں ہرطرح کی سہولیات کے ''مزے'' اُڑا رہے ہیں لیکن ان عظیم فنکاروں کی فنی خدمات کوبالکل نذرانداز کئے بیٹھے ہیں ، جوعوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ اس سلسلہ میں اگر بات مزاح کی جائے تواس شعبے کوہمیشہ ہی نذرانداز کیا گیا ہے۔

حالانکہ اس فن سے وابستہ فنکاروہ کام انجام دیتے ہیں جوہرکسی کے بس کی بات نہیں۔ بے پناہ مسائل میں گھرے لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹ لانا کوئی آسان کام نہیں ، مگرخداداد صلاحیتوں سے مالا مال ہمارے معروف فنکاروں نے ہمیشہ ہی اپنے فن کا ایسا جادودکھایا کہ ہراداس چہرہ مسکراتا نظرآیا۔ویسے توفن مزاح ایک ایسا لطیف کام ہے جس کوکرنے والے فنکارکے جملے اورچہرے کے تاثرات اس قدرجاندارہوتے ہیں کہ بہت سے مسائل میں گھرے لوگ ان کی ایک جھلک دیکھ کر اورایک ہی فقرہ سننے کے بعد قہقہے لگانے پرمجبورہوجاتے ہیں۔

اس سلسلہ میں دنیا بھرمیں مزاح کی اعلیٰ مثال بننے والے چارلی چپلن کی شخصیت سے توسب واقف ہیں۔ اس عظیم فنکارنے جس طرح سے بنا بولے اپنے منفرد انداز سے لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیریں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

اگرہم پاکستان میں صنف مزاح کی بات کریں توبہت سے نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے لوگوںکو اپنا گرویدہ بنالیا۔ ان کی پرفارمنس کا انداز اس قدرمنفرد اوراچھوتا تھا کہ لوگ ان کودیکھتے ہی بے اختیارمسکرانے لگ جاتے اورجب یہ عظیم فنکارفی البدیہہ جملے بولتے تولوگ سینما ہال اورتھیٹروں میں قہقہے لگاتے ہوئے لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ یہی نہیں ٹی وی ڈراموں میںبھی ان فنکاروں کی پرفارمنس ایسی جاندارہوتی کہ جونہی ان کی انٹری سکرین پرہوتی توپھرہرچہرہ مسکرانے لگتا۔


ایسے عظیم فنکاروں میں پاکستانی فلمی صنعت میں اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے اداکارمنورظریف ، ننھا ، رنگیلا ، نذر، ظریف ، لہری مرحوم کے علاوہ بہت سے نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنی بے مثل صلاحیتوں سے خوب داد سمیٹی اورلوگوں کے دلوں پرایسا راج قائم کیا کہ جوآج بھی قائم ہے۔ ان کی فلم، ٹی وی اورتھیٹرمیں پرفارمنس کے دیوانے توملک اوربیرون ملک بڑی تعداد میں بستے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ثقافتی ادارے ان کی فنی صلاحیتوں اورفنی خدمات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان عظیم فنکاروں نے کائنات کے کسی دوسرے سیارے پرجنم لیا تھا اورپاکستان کے قانون کے مطابق ان فنکاروں کواعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازنا تودورکی بات ان کی برسی کے موقع پرکسی بھی طرح کا تعزیتی ریفرنس یا سیمینارکروانا بھی ان اداروں کے مزاج اورقوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ البتہ فن وثقافت کے فروغ کے نام پرغیرملکی دوروں کیلئے جانے والے ثقافتی طائفوں کی اگرفہرستوں کا جائزہ لیا جائے توان میں فنکار کم اورمختلف حکومتی ثقافتی اداروں کے افسران اورملازمین کی سیروتفریح زیادہ دکھائی دے گی۔

گزشتہ تین سے چاردہائیوں کی بات کریں تومزاح کے شعبے میں ایسے انمول فنکاروں نے جنم لیا جن کا طوطی آج بھی بول رہا ہے۔ ان میں امان اللہ، جواد وسیم، مستانہ مرحوم، شوکی خاں مرحوم، ببوبرال مرحوم، طارق جاوید مرحوم، شکیل صدیقی، اسماعیل تارا، ماجد جہانگیر، رؤف لالہ، لیاقت سولجر، افتخار ٹھاکر، امانت چن اوربہت سے نام شامل ہیں جن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان فنکاروں نے جس طرح مزاح کے شعبے میں اپنا منفرد نام اورمقام بنایا ہے اورلوگوں کے دلوں پرراج کیا ہے، اس کوحکومتی سطح پرسراہا جانا بے حدضروری ہے۔

ان میں سے بہت سے فنکارتوابھی حیات ہیں اورکچھ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن ''آفرین'' ہے ثقافتی اداروں پرجنہوں نے ان فنکاروں کوکسی بھی لمحے یہ احساس دلوایا ہوکہ ان کی کیا قدروقیمت ہے ۔ ویسے توایک فنکارکسی بھی ملک کا ایسا سفیر ہوتا ہے جودنیا بھرمیں اپنے فن کی بدولت سافٹ امیج متعارف کرواتا ہے ، مگرہمارے ہاں اپنی تمام عمرفن کی خدمت کرنے والے فنکاروں کی اکثریت کونظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

اس حوالے سے فنون لطیفہ کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ فن وثقافت کے فروغ کیلئے بنائے گئے ادارے اگراپناکام ایمانداری سے کررہے ہوتے توآج ہمارے ملک کے فنکارسب سے زیادہ خوشحال ہوتے، ان اداروں کی ''عمدہ '' پالیسیوں کا بہترین نتیجہ ہمیں اس وقت دکھائی دیتا ہے جب تمام عمر کام کرنے والا فنکاراپنے علاج کیلئے حکومتی امداد کا منتظرہوتاہے، بچوں کی تعلیم کیلئے دوستوں سے بھیک مانگتا ہے۔

ایک وقت کی روٹی کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھاتا ہے، مگریہ لوگ کچھ نہیں کرتے۔ حکومت کواس شعبے سے وابستہ فنکاروں کے تحفظ کیلئے مثبت اقدامات کرنے کے علاوہ ماضی اورموجودہ دورمیں لوگوں کے اداس چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے والے عظیم فنکاروں کی فنی خدمات کومدنظررکھتے ہوئے انہیں اعلیٰ سول ایوارڈز سے نوازتے ہوئے ان کے اعزازمیں تقریبات کا انعقاد کرنا چاہئے۔ کیونکہ ہم پاکستانی ہیں اورہم زندہ قوم ہیں، ہم نے اگراتنے برس بیت جانے کے بعد بھی اپنے فنکاروں کی حوصلہ افزائی نہ کی توہماراشمارمردہ قوموں میں ہونے لگے گا۔
Load Next Story