گرمی کی شدید لہر چیلنج ہے

ملک کے مختلف شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافے نے شہریوں کے ہوش اڑا دیے ہیں

محکمہ موسمیات کے مطابق آیندہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت دن کے اوقات میں بڑھنے کا امکان ہے فوٹو : فائل

FAISALABAD:
ملک کے مختلف شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافے نے شہریوں کے ہوش اڑا دیے ہیں، سندھ اور پنجاب کے کئی شہروں میں درجہ حرارت 47 ڈگری تک جا پہنچا۔ شدیدگرمی کی وجہ سے شدید گرم علاقوں میں دوپہر کے اوقات میں کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ، عوام سڑکوں پر نکل آئے، جب کہ ہیٹ اسٹروک کے ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، نیز ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے اقدامات بھی خال خال ہی نظر آرہے ہیں۔

راست ہوگا کہ کسی سانحہ کے رونما ہونے سے پہلے پیشگی اقدامات کرلیے جائیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو سب سے زیادہ درجہ حرارت نواب شاہ (بے نظیر آباد) میں 48 ڈگری نوٹ کیا گیا جب کہ رحیم یار خان، کوٹ ادو، نورپور تھل، دادو میں 47، سکھر، جیکب آباد، پڈعیدن، خان پور، لاڑکانہ، سبی، موہنجودڑو 46، اور ڈی جی خان، اوکاڑہ، بھکر، بہاولپور، روہڑی اور بہاول نگر میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔لاہور میں گزشتہ روز درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ رہا۔


یہ لاہور کا حالیہ دنوں میں گرم ترین دن تھا۔ کراچی میں اتوار کو موسم بدستور گرم وخشک رہا، جب کہ حیدرآباد میں شدیدگرمی و حبس کی لہر برقرار ہے، اتوار کو گرم ہواؤں کے جھکڑ چلنے سے سڑکیں ویران رہیں اور ہیٹ اسٹروک کے 2 متاثرہ افراداسپتال پہنچ گئے۔ گرم ہواؤں کے جھکڑ نے شہریوں کواپنے گھروں تک محدودکردیا ہے۔ شدید گرمی میں گیسٹرو اور ڈائریا میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پابندی کے باوجود لوگ نہروں اور دریائے سندھ کا رخ کررہے ہیں۔ راست ہوگا کہ اس جانب توجہ دی جائے، میڈیا کے ذریعے بھی عوام کو گرمی سے بچاؤ کے لیے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ شہری خودحفاظتی اقدامات کے تحت ہیٹ اسٹروک سے بچ سکیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آیندہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت دن کے اوقات میں بڑھنے کا امکان ہے، بلاشبہ کچھ مقامات پر تیز ہواؤں اور بارش کی بھی پیش گوئی کی جارہی ہے لیکن مجموعی طور پر ملک بھر کا موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، اس لیے مطمئن ہوکر نہ بیٹھا جائے۔ گرمی میں بجلی کی طویل و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی قابل مذمت ہے جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہونے سے شہروں کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صائب ہوگا کہ حکومت بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو مستقل فراہمی پر پابند کرے۔

نیز دن کے اوقات میں ان صنعتوں کی پروڈکشن بھی معطل کرنا مناسب ہوگا جو بڑے پیمانے پر ہیٹ پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ عوامی سطح پر بھی ان آلات کا استعمال کم کیا جائے جو گرمی بڑھانے کا باعث ہیں۔ نیز حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے۔
Load Next Story