سیاسی کارکن
پاکستان میں اشرافیائی جمہوریت کے استحکام کے کئی اسباب ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
KARACHI:
پاکستان میں اشرافیائی جمہوریت کے استحکام کے کئی اسباب ہیں، ایک بڑا سبب سیاسی کارکنوں کی شخصیت پرستی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا ایک منشور ہوتا ہے اور اس منشور کی اہمیت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی جمہوری ملکوں میں آئین کی۔ کیوں کہ ملک کا آئین ملک چلانے کی گائیڈ لائن ہوتا ہے تو سیاسی پارٹیوں کا منشور ان کا قطب نما ہوتا ہے جس کا نہ صرف احترام ضروری ہوتا ہے بلکہ ہر سیاسی پارٹی کے کارکنوں کی وفاداری اس کی پارٹی کے منشور سے ہوتی ہے نہ کہ اس کی قیادت سے لیکن پاکستانی عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے منشورکے وفادار نہیں بلکہ پارٹی کی قیادت سے وفاداری کا مظاہرہ اسی طرح کرتے ہیں ۔
جس طرح ماضی میں رعایا اپنے بادشاہوں سے کرتی تھی۔ اس احمقانہ عقیدت کی وجہ سے سیاسی کارکن قیادت کے غلام بن کر رہ گئے ہیں اور ان کی نظر نہ اپنی پارٹی کے منشور پر جاتی ہے نہ اس پر عمل درآمد سے انھیں کوئی دلچسپی ہوتی ہے، پاکستان کی کسی سیاسی جماعت پر نظر ڈالیں سیاسی کارکن قیادت کے سامنے سجدہ ریز نظر آئیں گے، یہی وجہ ہے سیاسی پارٹیوں کی خود غرض قیادت اپنے سیاسی کارکنوں سے ایسے کام لیتی ہے جن کا سیاست سے دور کا واسطہ بھی نہیں رہتا، اس کے برخلاف ان کا جرائم سے قریبی رشتہ رہتا ہے۔
یہ ذہنیت کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کا تسلسل ہے اور وہ نظام ہے قبائلی، اور جاگیردارانہ جس میں ہاری اورکسان وڈیرے اور جاگیردار کو زمین پر اپنا خدا مانتا ہے اور اس کی پوجا بھی کرتا ہے اور اس کے ہر جائزوناجائز حکم کی تعمیل بھی کرتا ہے۔ وڈیرہ شاہی نظام میں وڈیرے ایک تو ہاریوں،کسانوں کی آبادیوں کو اپنے حلقہ انتخاب بنالیتے ہیں دوسری انھیں سنگین جرائم مثلاً ڈکیتیوں، قتل وغارت اور اغوا جیسے شرمناک جرائم کے ارتکاب پر لگادیتی ہیں اور ان جرائم سے حاصل ہونے والی دولت ان کا حق ہوتی ہے اورجرائم کے ذریعے دولت مہیا کرنے والا ہاری اورکسان خالی ہاتھ ہی رہتا ہے۔
میں جب اپنی بہن کا گھر تعمیر کروارہا تھا تو مجھے مزدوروں کی ضرورت پیش آئی۔ میں جب مزدوروں کا انتخاب کر رہاتھا تو ایک مزدور خاموشی سے دورکھڑا نظر آیا۔ مجھے وہ مزدور اچھا لگا، میں نے اسے کام کے لیے منتخب کرلیا۔ کام کے دوران وہ خاموش خاموش اور بجھا بجھا نظرآیا،کام کے دوران میں نے اس کا پتہ پوچھا تو اس نے بتایاکہ میرا کوئی گھر نہیں کبھی فٹ پاتھ پرکبھی کسی مزدور کے ڈیرے پر رہتا ہوں، زیر تعمیر مکان میں مجھے ایک چوکیدار کی ضرورت تھی، میں نے اسے یہ آفر دی کہ اگر وہ چاہے تو میں اسے چوکیدار کی ملازمت دے سکتا ہوں جس کا معاوضہ بھی ملے گا اور رہنے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوآگئے اس نے میرے اس آفرکا شکریہ ادا کیا اور چوکیدارکی جگہ سنبھال لی۔
وہ ہمیشہ بجھا بجھا اور خوف زدہ رہتا تھا۔ میں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اندازہ ہوا کہ اسے کوئی غم اندر ہی اندرکھائے جارہا ہے۔ میرے اصرار پر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے روتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کے وڈیرے نے ہاریوں پر مشتمل ایک ٹولی بنائی ہے جس کا کام وڈیرے کے لیے ڈکیتیاں ڈالنا اور حکم عدولی کرنے والے ہاریوں کو قتل کرنا تھا، وڈیرے نے مجھے بھی اس ٹولی میں شامل کرلیا۔ میں جرائم سے بہت خوف زدہ رہتا تھا۔
آخر میں ایک دن رات کے اندھیرے میں گاؤں سے بھاگ نکلا اور کراچی آگیا، مزدور نے جس کا نام لال خان تھا بتایاکہ میرے گاؤں چھوڑنے کے بعد وڈیرے نے ان کی بیوی کو اٹھوالیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا حشر ہوا۔ اس کے کچھ دن بعد لال خان غائب ہوگیا، ایک مزدور نے بتایاکہ رات کو ایک گاڑی میں کچھ لوگ آئے تھے وہ لال خان کو اٹھا لے گئے۔ لال خان کا کیا بنا اس کا مجھے علم نہیں لیکن ایسے باغیوں کو وڈیرے سزائے موت ہی دیتے ہیں ۔ اگرچہ یہ جاگیردارانہ نظام کی ایک عبرتناک کہانی ہے لیکن یہ کلچر اب شہروں کی سیاسی پارٹیوں میں عسکری ونگزکے طور پر موجود ہے اور میڈیا میں اس حوالے سے خبروں کی بھر مار رہتی ہے۔
بد قسمتی سے وڈیرہ شاہی نظام کی یہ برائیاں سیاسی جماعتوں میں در آئی ہیں اور سیاسی کارکن اپنی پارٹیوں کے منشور سے لا تعلق ہوکر اپنے رہنماؤں کی پوجا پاٹ میں لگے رہتے ہیں اور سیاسی کاموں کے بجائے جرائم میں مصروف رہتے ہیں یہ ورثہ وڈیرہ شاہی نظام کا ہے اور شخصیت پرستی کے جنوں میں مبتلا سیاسی کارکن اپنی بادشاہانہ قیادت کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔ سیاسی کارکنوں کا کام اپنی پارٹی کے منشور پر عمل در آمد کی جدوجہد ہوتا ہے لیکن سیاسی رہنما اپنی وڈیرہ شاہانہ ذہنیت کی وجہ سے اپنے کارکنوں کو نہ پارٹی منشور سے آگاہ کرتے ہیں نہ اس پر عمل درآمد کے لیے انھیں تیارکرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے بجائے شخصی حکمرانوں کو فروغ مل رہا ہے۔
ہمارے ملک میں 69 سالوں سے جو اشرافیائی جمہوریت رائج ہے اس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور پر عمل درآمد کے بجائے اقتدارکی ہوس میں حکمران طبقات کی ٹانگ کھینچنے میں اپنا زور لگا رہے ہیں اور اس ٹانگ کھینچو سیاست میں عوام کے بہتر مستقبل کا کوئی نام لیوا نہیں نظر آتا۔ ہر طرف اقتدار کے حصول اور اقتدارکی حفاظت کی لڑائی جاری ہے اور اس جماعتی اور طبقاتی سازشوں میں عوام کو استعمال کر کے انھیں سیاسی کارکن کے بجائے ہاریوں اور کسانوں کی طرح استعمال کیا جارہا ہے اور سیاسی کارکن ایک دوسرے کے جانی دشمن بن کر رہ گئے ہیں۔
آج کل حکومت کے خلاف تحریکیں زور پکڑتی نظر آرہی ہیں لیکن حکمرانوں کی تبدیلی کی اس سازشی جنگ میں ایک طرف تو سیاسی کارکنوں کو استعمال کیا جارہاہے اور دوسری طرف Status Quo برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سیاسی کارکنوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ جاگیردارانہ شخصیت کے سحر سے نکل کر اس ملک سے اشرافیہ کے تسلط کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کریں اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے سب سے پہلے زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا ضروری ہے لیکن انقلاب کے دعویدار انقلاب کی پہلی شرط جاگیرداری نظام پر بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
پاکستان میں اشرافیائی جمہوریت کے استحکام کے کئی اسباب ہیں، ایک بڑا سبب سیاسی کارکنوں کی شخصیت پرستی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا ایک منشور ہوتا ہے اور اس منشور کی اہمیت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی جمہوری ملکوں میں آئین کی۔ کیوں کہ ملک کا آئین ملک چلانے کی گائیڈ لائن ہوتا ہے تو سیاسی پارٹیوں کا منشور ان کا قطب نما ہوتا ہے جس کا نہ صرف احترام ضروری ہوتا ہے بلکہ ہر سیاسی پارٹی کے کارکنوں کی وفاداری اس کی پارٹی کے منشور سے ہوتی ہے نہ کہ اس کی قیادت سے لیکن پاکستانی عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے منشورکے وفادار نہیں بلکہ پارٹی کی قیادت سے وفاداری کا مظاہرہ اسی طرح کرتے ہیں ۔
جس طرح ماضی میں رعایا اپنے بادشاہوں سے کرتی تھی۔ اس احمقانہ عقیدت کی وجہ سے سیاسی کارکن قیادت کے غلام بن کر رہ گئے ہیں اور ان کی نظر نہ اپنی پارٹی کے منشور پر جاتی ہے نہ اس پر عمل درآمد سے انھیں کوئی دلچسپی ہوتی ہے، پاکستان کی کسی سیاسی جماعت پر نظر ڈالیں سیاسی کارکن قیادت کے سامنے سجدہ ریز نظر آئیں گے، یہی وجہ ہے سیاسی پارٹیوں کی خود غرض قیادت اپنے سیاسی کارکنوں سے ایسے کام لیتی ہے جن کا سیاست سے دور کا واسطہ بھی نہیں رہتا، اس کے برخلاف ان کا جرائم سے قریبی رشتہ رہتا ہے۔
یہ ذہنیت کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کا تسلسل ہے اور وہ نظام ہے قبائلی، اور جاگیردارانہ جس میں ہاری اورکسان وڈیرے اور جاگیردار کو زمین پر اپنا خدا مانتا ہے اور اس کی پوجا بھی کرتا ہے اور اس کے ہر جائزوناجائز حکم کی تعمیل بھی کرتا ہے۔ وڈیرہ شاہی نظام میں وڈیرے ایک تو ہاریوں،کسانوں کی آبادیوں کو اپنے حلقہ انتخاب بنالیتے ہیں دوسری انھیں سنگین جرائم مثلاً ڈکیتیوں، قتل وغارت اور اغوا جیسے شرمناک جرائم کے ارتکاب پر لگادیتی ہیں اور ان جرائم سے حاصل ہونے والی دولت ان کا حق ہوتی ہے اورجرائم کے ذریعے دولت مہیا کرنے والا ہاری اورکسان خالی ہاتھ ہی رہتا ہے۔
میں جب اپنی بہن کا گھر تعمیر کروارہا تھا تو مجھے مزدوروں کی ضرورت پیش آئی۔ میں جب مزدوروں کا انتخاب کر رہاتھا تو ایک مزدور خاموشی سے دورکھڑا نظر آیا۔ مجھے وہ مزدور اچھا لگا، میں نے اسے کام کے لیے منتخب کرلیا۔ کام کے دوران وہ خاموش خاموش اور بجھا بجھا نظرآیا،کام کے دوران میں نے اس کا پتہ پوچھا تو اس نے بتایاکہ میرا کوئی گھر نہیں کبھی فٹ پاتھ پرکبھی کسی مزدور کے ڈیرے پر رہتا ہوں، زیر تعمیر مکان میں مجھے ایک چوکیدار کی ضرورت تھی، میں نے اسے یہ آفر دی کہ اگر وہ چاہے تو میں اسے چوکیدار کی ملازمت دے سکتا ہوں جس کا معاوضہ بھی ملے گا اور رہنے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوآگئے اس نے میرے اس آفرکا شکریہ ادا کیا اور چوکیدارکی جگہ سنبھال لی۔
وہ ہمیشہ بجھا بجھا اور خوف زدہ رہتا تھا۔ میں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اندازہ ہوا کہ اسے کوئی غم اندر ہی اندرکھائے جارہا ہے۔ میرے اصرار پر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے روتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کے وڈیرے نے ہاریوں پر مشتمل ایک ٹولی بنائی ہے جس کا کام وڈیرے کے لیے ڈکیتیاں ڈالنا اور حکم عدولی کرنے والے ہاریوں کو قتل کرنا تھا، وڈیرے نے مجھے بھی اس ٹولی میں شامل کرلیا۔ میں جرائم سے بہت خوف زدہ رہتا تھا۔
آخر میں ایک دن رات کے اندھیرے میں گاؤں سے بھاگ نکلا اور کراچی آگیا، مزدور نے جس کا نام لال خان تھا بتایاکہ میرے گاؤں چھوڑنے کے بعد وڈیرے نے ان کی بیوی کو اٹھوالیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا حشر ہوا۔ اس کے کچھ دن بعد لال خان غائب ہوگیا، ایک مزدور نے بتایاکہ رات کو ایک گاڑی میں کچھ لوگ آئے تھے وہ لال خان کو اٹھا لے گئے۔ لال خان کا کیا بنا اس کا مجھے علم نہیں لیکن ایسے باغیوں کو وڈیرے سزائے موت ہی دیتے ہیں ۔ اگرچہ یہ جاگیردارانہ نظام کی ایک عبرتناک کہانی ہے لیکن یہ کلچر اب شہروں کی سیاسی پارٹیوں میں عسکری ونگزکے طور پر موجود ہے اور میڈیا میں اس حوالے سے خبروں کی بھر مار رہتی ہے۔
بد قسمتی سے وڈیرہ شاہی نظام کی یہ برائیاں سیاسی جماعتوں میں در آئی ہیں اور سیاسی کارکن اپنی پارٹیوں کے منشور سے لا تعلق ہوکر اپنے رہنماؤں کی پوجا پاٹ میں لگے رہتے ہیں اور سیاسی کاموں کے بجائے جرائم میں مصروف رہتے ہیں یہ ورثہ وڈیرہ شاہی نظام کا ہے اور شخصیت پرستی کے جنوں میں مبتلا سیاسی کارکن اپنی بادشاہانہ قیادت کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔ سیاسی کارکنوں کا کام اپنی پارٹی کے منشور پر عمل در آمد کی جدوجہد ہوتا ہے لیکن سیاسی رہنما اپنی وڈیرہ شاہانہ ذہنیت کی وجہ سے اپنے کارکنوں کو نہ پارٹی منشور سے آگاہ کرتے ہیں نہ اس پر عمل درآمد کے لیے انھیں تیارکرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے بجائے شخصی حکمرانوں کو فروغ مل رہا ہے۔
ہمارے ملک میں 69 سالوں سے جو اشرافیائی جمہوریت رائج ہے اس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور پر عمل درآمد کے بجائے اقتدارکی ہوس میں حکمران طبقات کی ٹانگ کھینچنے میں اپنا زور لگا رہے ہیں اور اس ٹانگ کھینچو سیاست میں عوام کے بہتر مستقبل کا کوئی نام لیوا نہیں نظر آتا۔ ہر طرف اقتدار کے حصول اور اقتدارکی حفاظت کی لڑائی جاری ہے اور اس جماعتی اور طبقاتی سازشوں میں عوام کو استعمال کر کے انھیں سیاسی کارکن کے بجائے ہاریوں اور کسانوں کی طرح استعمال کیا جارہا ہے اور سیاسی کارکن ایک دوسرے کے جانی دشمن بن کر رہ گئے ہیں۔
آج کل حکومت کے خلاف تحریکیں زور پکڑتی نظر آرہی ہیں لیکن حکمرانوں کی تبدیلی کی اس سازشی جنگ میں ایک طرف تو سیاسی کارکنوں کو استعمال کیا جارہاہے اور دوسری طرف Status Quo برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سیاسی کارکنوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ جاگیردارانہ شخصیت کے سحر سے نکل کر اس ملک سے اشرافیہ کے تسلط کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کریں اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے سب سے پہلے زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا ضروری ہے لیکن انقلاب کے دعویدار انقلاب کی پہلی شرط جاگیرداری نظام پر بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔